21

ن لیگ اور پیپلز پارٹی نے خفیہ اکاؤنٹس ظاہر نہیں کیے، پی ٹی آئی کا دعویٰ

اسلام آباد: حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی اقتصادی ماہرین پر مشتمل ٹیم نے مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے خفیہ اکاؤنٹس کے بارے مفصل رپورٹ تیارکرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

28 صفحات پر مشتمل مرتب کردہ رپورٹ میں کہا گیا کہ مسلم لیگ (ن) نے 9 خفیہ اکاؤنٹس کے ذریعے کروڑوں روپے الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) سے چھپائےاور استفسار پر صرف 2 ظاہر کیے گئے۔

پی ٹی آئی کے اقتصادی ماہرین کے مطابق پیپلز پارٹی نے 2013 میں 9، 2014 میں 11 اور 2015 میں 10 اکاؤنٹس ای سی پی سے خفیہ رکھے جبکہ مسلم لیگ (ن) کو عطیات، پارٹی فنڈز، پارٹی ٹکٹس، ممبر شپ فیس سمیت دیگر مد میں کل 63 کروڑ 91 لاکھ روپے وصول کیے۔
مزیدپڑھیں: پی ٹی آئی فارن فنڈنگ کیس بہت حساس، عوامی سطح پر سماعت نہیں ہوسکتی، الیکشن کمیشن

رپورٹ میں کہا گیا کہ مسلم لیگ (ن) 62 کروڑ 98 لاکھ سے زائد رقم اور عطیات کی مد میں 45 کروڑ 61 لاکھ کا ریکارڈ دینے میں بھی ناکام رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ن لیگ کو مختلف ڈونرز سے 27 کروڑ کی مشتبہ ٹرانزیکشنز موصول ہوئیں، محمد حنیف نامی ڈونر کے ذریعے ساڑھے چار کروڑ کی ٹرانزیکشنز ہوئیں۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ بھاون داس کے ذریعے 3 کروڑ، حاجی عارف کے ذریعے 3 کروڑ، یوسف عباس شریف کے ذریعے 6 کروڑ جبکہ چوہدری تنویر کے ذریعے 10 کروڑ کی مشتبہ ٹرانزیکشنز ہوئیں اور تمام مشکوک ٹرانزیکشنز حبیب بینک کے ایک ہی اکاؤنٹ میں ہوئیں۔

پی ٹی آئی کی فنانشل ٹیم نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا کہ اراکین صوبائی اسمبلی سے 82 لاکھ روپے کے فنڈز لیے مگر مسلم لیگ (ن) نے بینک ریکارڈ ظاہر نہ کیے۔

مزیدپڑھیں: پی ٹی آئی کو مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کے پارٹی فنڈنگ ریکارڈ تک رسائی مل گئی

رپورٹ میں کہا گیا کہ پیپلز پارٹی (پی پی پی) نے 2013 میں 12 میں سے 9 اکاؤنٹس کے ذریعے 14 کروڑ سے زائد رقم چھپائی جبکہ 2014 میں 11 خفیہ اکاؤنٹس کے ذریعے 15 کروڑ روپے سے زائد کے فنڈز ظاہر نہیں کیے گئے۔

انہوں نے کہا کہ 2015 میں 10 اکاؤنٹس کو خفیہ رکھا اور 4 کروڑ روپے کے فنڈز ظاہر نہیں کیے اس طرح مجموعی طور پر 34 کروڑ 29 لاکھ 53 ہزار سے زائد کی رقوم کو پیپلز پارٹی نے ای سی پی سے چھپائی۔

اس حوالے سے ذرائع نے بتایا کہ رپورٹ آئندہ روز (4 جنوری) کو الیکشن کمیشن میں پی ٹی آئی کی جانب سے جمع کرائی جائے گی اور الیکشن کمیشن سے تمام ریکارڈز کا جائزہ لے کر اپنی حتمی رپورٹ جاری کرنے کی درخواست کی جائے گی۔

الیکشن کمیشن کو درخواست کی جائے گی کہ فارن فنڈنگ کیسز سے متعلق تمام کیسز کو ایک ساتھ سنا جائے اور آئین کے آرٹیکل 25 کے مطابق مساوی سلوک کیا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں