33

متحدہ اپوزیشن کا منی بجٹ اور حکومتی بلوں کا راستہ روکنے کا اعلان

اسلام آباد: پارلیمنٹ میں متحدہ اپوزیشن نے حکومت کے منی بجٹ اور اسٹیٹ بینک کی خود مختاری کے اقدامات کو قطعی مسترد کرتے ہوئے ایوان میں شدید مخالفت کرنے اور اس کا راستہ روکنے کا اعلان کیا ہے۔

متحدہ اپوزیشن کا اجلاس پارلیمنٹ ہاﺅس میں اپوزیشن چیمبر میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں قومی اسمبلی کے اجلاس میں منی بجٹ اور اس سے منسلکہ حکومتی بلوں کا راستہ روکنے کے لیے اپوزیشن کی مشترکہ حکمت عملی پر تفصیلی غور کیا گیا اور مشاورت سے لائحہ عمل طے کیاگیا۔

اجلاس میں منی بجٹ اور اس سے منسلکہ بلوں کے پیش ہونے کے موقع پر متحدہ اپوزیشن کے ارکان کی حاضری یقینی بنانے کے پہلو کا بھی جائزہ لیاگیا۔
یہ بھی پڑھیں: قومی اسمبلی اجلاس میں منی بجٹ پر حکومتی اور اپوزیشن ارکان آمنے سامنے

اپوزیشن اجلاس میں قرار دیاگیا کہ منی بجٹ عمران نیازی حکومت کا ایک اور بڑا یوٹرن اور ملک کے لئے تباہی کا نسخہ ہے، عمران نیازی نے معاشی خودمختاری کا سودا کردیا ہے جبکہ اس منی بجٹ کے نتیجے میں عوام پر مہنگائی کا نیا عذاب مسلط ہوجائے گا جو پہلے ہی تاریخ کی بدترین مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی تباہی کے نتیجے میں ایک ایک نوالے کو محتاج ہوچکے ہیں۔

اجلاس نے قرار دیا کہ ملک پر تین سال میں تاریخ کے بدترین قرض لادے جاچکے ہیں، شرح ترقی کا جنازہ نکل چکا ہے، تجارتی اور بجٹ خسارے ہر حد سے باہر نکل چکے ہیں، ڈالر 181 سے اوپر جاچکا ہے، غیرملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی واقع ہورہی ہے، بجلی گیس سمیت اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے نے عوام کی جان نکال دی ہے، یہ منی بجٹ عوام کے خلاف معاشی دہشت گردی ہے جسے روکنا ہوگا۔

اجلاس نے عزم کا اظہار کیا کہ منی بجٹ روکنے کے لئے اپنی پوری قوت استعمال کی جائے گی اور توقع کرتے ہیں کہ حکمران جماعت کے باضمیر ارکان اور اتحادی اس حکومتی گناہ میں شریک نہیں ہوں گے۔

اجلاس میں سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قومی اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر خواجہ محمد آصف، پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما سید نوید قمر، جمعیت علماءاسلام (ف) کے قومی اسمبلی میں پارلیمانی قائد مولانا اسدمحمود سمیت اپوزیشن جماعتوں کے دیگر مرکزی راہنماﺅں نے شرکت کی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں