23

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں حکومت نے عددی برتری ثابت کردی، کئی بل منظور

اسلام آباد: پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں حکومت اپنی عددی برتری ثابت کرنے میں کامیاب ہوگئی جس کے نتیجے میں انتخابی اصلاحات بل 2021، الیکٹرانک ووٹنگ مشین، سمندر پار پاکستانیوں کو ووٹ کا حق اور کلبھوشن یادیو سمیت مختلف بلز منظور کرلیے گئے۔

ایوان میں مختلف بلز پر رائے شماری ہوئی جس میں حکومت نے اپوزیشن کو 203 ووٹ کے مقابلے میں 221 ووٹ لے کر 18 ووٹوں سے شکست دے دی۔

اسپیکر اسد قیصر کی زیر صدارت قومی اسمبلی اور سینیٹ کا مشترکہ اجلاس ہوا تو ایجنڈا شروع ہوتے ہی اپوزیشن نے شور شرابہ کیا اور نو نو کے نعرے لگائے۔ ایجنڈے میں انتخابی اصلاحات بل 2021، الیکٹرانک ووٹنگ مشین، سمندر پار پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے اور کلبھوشن یادیو سے متعلق بل سمیت 27 بلز شامل تھے۔
یہ بھی پڑھیں: قومی اسمبلی میں اپوزیشن نے حکومت کو تاریخی شکست دے دی

انتخابی اصلاحات بل

بابر اعوان نے انتخابی اصلاحات بل منظوری کیلئے پیش کر دیا تاہم انہوں نے اس پر رائے شماری کرانے کی بجائے کہا کہ انتخابی اصلاحات بل موخر کیا جائے اور اپوزیشن کو اس پر بات کی اجازت دی جائے پھر رائے شماری کرائی جائے۔ اس کے بعد اپوزیشن رہنماؤں نے اجلاس میں اظہار خیال شروع کیا۔

شہباز شریف

اجلاس سے اظہار خیال کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر نے اسپیکر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اسپیکر صاحب اگر آپ اپنی پارٹی کی بنیادی رکنیت سے استعفی دیں تو آپ کو کندھوں پر بٹھائیں گے، حکومت اور اس کے اتحادی آج اس ایوان سے جن قوانین کو منظور کرانا چاہتے ہیں، اس کا سب سے بڑا بوجھ اسپیکر کے کندھوں پر ہے، حکومت ای وی ایم شیطانی مشین سے اقتدار کو طول دینا چاہتی ہے۔

وزیر خارجہ

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پارلیمنٹ شفاف انتخابی اصلاحات لانا چاہتی ہے، ہم کالا قانون نہیں لانا چاہتے بلکہ ماضی کی کالک کو دھونا چاہتے ہیں، الیکٹرانک ووٹنگ مشین شیطانی مشین نہیں ہے بلکہ یہ ماضی کے شیطانی منصوبوں کو ختم کرنے کیلئے لائی جا رہی ہے۔

پی پی رکن کی اسپیکر سے تلخ کلامی

بلاول بھٹو کو مائیک نہ دینے پر اپوزیشن نے احتجاج کیا اور مائیک دینے کا مطالبہ کیا۔ پی پی رکن قادر مندوخیل کی اسپیکر سے تلخ کلامی ہوئی اور اسپیکر ڈائس پر نامناسب گفتگو کی۔ اسد قیصر غصے میں آگئے اور بولے کہ آپ تمیز سے رہیں ورنہ میں باہر نکلوادوں گا، آپ کی کیا اوقات ہے، میں بلاول کو موقع دے رہا تھا پھر یہ بدتمیزی کیوں کی، میں آپ کو معطل کردوں گا۔ اسپیکر اسد قیصر نے بلاول بھٹو کو مائیک دیتے ہوئے کہا کہ بلاول صاحب آپ کے رکن کا رویہ ناقابل برداشت ہے۔ اسپیکر ڈائس کے سامنے سارجنٹ ایٹ آرمز نے سیکیورٹی سنبھال لی۔

بلاول بھٹو

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہم الیکٹرانک ووٹنگ مشین کو نہیں مانتے، ہم الیکشن کمیشن کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں، الیکشن کمیشن کے تحفظات ہمارے تحفظات ہیں، حکومت انتخابات کو متنازع بنانا چاہ رہی ہے، حکومت کی قانون سازی کو چیلنج کرینگے اور عدالت میں شکست دینگے، اگر آپ ہم سے مشاورت کرلیتے تو آئندہ آنے والا الیکشن متنازعہ نہ ہوتا، اگر آپ نے بل منظور کروا لیا تو ہم آج سے ہی اگلے الیکشن کے نتائج نہیں مانتے، ہم کلبھوشن یادیو کو ریلیف دینے پر آپ کا ساتھ نہیں دیں گے۔

اسعد محمود

جے یو آئی (ف) کے اسعد محمود نے کہا کہ ملک میں افراتفری اور ہنگاموں کی بنیاد ڈالی جارہی ہے ، اگر یکطرفہ قانون سازی ہوتی ہے اور اس بنیاد پر افراتفری ہوگی تو اس کی ذمہ داری آپ پر اور حکومت و سپورٹرز پر ہوگی ، انتخابی نتائج پر ہمیشہ دنیا میں سوال اٹھتے ہیں، ہم متحمل نہیں ہوسکتے کہ جیسے پہلے ملک دو لخت ہوا ، پھر افراتفری ہو ۔

وزیراعظم کی آمد

اسی دوران وزیراعظم عمران خان ایوان میں آئے۔ انہوں نے ہاتھ میں تسبیح پکڑی ہوئی تھی۔ حکومتی اراکین نے ڈیسک بجاکر ان کا استقبال کیا۔

انتخابی بل میں ترمیم ترمیم مسترد

محسن داوڑ نے کہا کہ افسوس کی بات ہے آج علی وزیر ایوان میں نہیں ہیں اور وزیرستان کی نمائندگی نہیں ہو رہی۔ محسن داوڑ نے انتخابی ترمیمی بل دوسری ترمیم میں اپنی ترمیم پیش کی جس کی بابر اعوان نے مخالفت کردی۔

حکومت کی کامیابی

اجلاس میں الیکشن ایکٹ دوسری ترمیم کا بل پیش کرنے کی تحریک پر ووٹنگ کرائی گئی تو تحریک کے حق میں 221 اور مخالفت میں 203 ووٹ پڑے۔ اس طرح ارکان کی سادہ اکثریت سے تحریک منظور کرلی گئی اور حکومت نے اپوزیشن کو 18 ووٹوں سے شکست دے دی جس کے نتیجے میں پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں حکومت کی عددی برتری ثابت ہوگئی۔

اپوزیشن کا احتجاج

ووٹنگ میں ناکامی کے بعد ایوان میں دھاندلی دھاندلی اور ووٹ چور کے نعرے لگائے گئے اور سیٹیاں بھی بجائی گئیں۔ اجلاس میں لاٹھی گولی کی سرکار نہیں چلے گی اور کلبھوشن کا جو یار ہے غدارہے غدار ہے کی نعرے بازی کی گئی۔

ایوان میں ہاتھا پائی

وفاقی وزیر مراد سعید اور عامرلیاقت کی مرتضی جاوید عباسی کے ساتھ ہاتھا پائی بھی ہوئی۔ جس کے نتیجے میں شدید بدنظمی اور دھکم پیل ہوئی تو سیکیورٹی اسٹاف نے بیچ بچاؤ کرانے کی کوشش کی۔

بابر اعوان نے الیکٹرانک ووٹنگ مشین پر رائے شماری کے لیے ترمیمی بل ایوان میں پیش کر دیا۔ اسپیکر نے صورتحال کو دیکھتے ہوئے وائس ووٹنگ پر ایوان کی کارروائی تیزی سے چلانا شروع کرادی ۔ مرتضی جاوید عباسی نے ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ کر اسپیکر پر اچھال دیں جس پر اسپیکر نے اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ آپ بھی ڈپٹی اسپیکر رہے ہیں، یہ آپ کی اخلاقیات ہے۔

اجلاس میں حکومت کی جانب سے پیش کیے گئے تمام بلز منظور کرلیے گئے جن میں انسداد زنا بالجبر تحقیقات و سماعت بل 2021، مسلم عائلی قوانین میں ترمیم کے دو بل، نیشنل کالج آف آرٹس انسٹیوٹ بل، اسٹیٹ بینک آف پاکستان بینکنگ سروسز کارپوریشن ترمیمی بل، اسلام آباد میں رفاہی اداروں کی رجسٹریشن، انضباط کا بل، عالمی عدالت انصاف نظرثانی بل 2021، حیدرآباد انسٹیٹیوٹ فار ٹیکنیکل و منیجمنٹ سائنسز بل2021، انتخابی اصلاحات بل 2021، الیکٹرانک ووٹنگ مشین، سمندر پار پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے اور کلبھوشن یادیو شامل ہیں۔ وزیراعظم عمران خان ایوان میں قانون سازی پر مسکراتے رہے۔

غیر حاضر ارکان

آج اجلاس میں پیپلز پارٹی کے سید نوید قمر ڈینگی کا شکار ہونے کے باعث حاضر نہ ہوئے، مسلم لیگ ن کی شائستہ پرویز ملک شوہر کی رحلت کے باعث عدت میں تھیں تاہم انہوں نے اجلاس میں شرکت کی ہے۔ جیل میں قید آزاد رکن علی وزیر کے پروڈکشن آرڈر جاری نہ ہونے کی وجہ سے حاضر نہ ہوئے۔ وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد اپنے بھائی کے انتقال کے باوجود اجلاس میں شریک ہوئے۔

نمبر گیم

ایوان میں حکومت کو 228 ارکان جب کہ متحدہ اپوزیشن کو 212 ارکان کی حمایت حاصل ہے، جس میں سے حکومت نے آج قانون سازی میں 221 جبکہ اپوزیشن نے 203 ووٹ حاصل کیے۔

قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی کو ق لیگ، ایم کیو ایم، بی اے پی اور شیخ رشید سمیت 180 ارکان کی حمایت حاصل ہے، اپوزیشن کو قومی اسمبلی میں مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلز پارٹی، ایم ایم اے سمیت 161 ارکان کی حمایت حاصل ہے، سینیٹ ارکان میں اپوزیشن اتحاد کو 51 جب کہ حکومتی اتحاد کو 48 ارکان کی حمایت حاصل ہے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل 9 نومبر کو قومی اسمبلی میں اپوزیشن نے حکومت کو تاریخی شکست دی تھی۔ بل پیش کرنے کے معاملے پر اپوزیشن نے 104 ووٹ کے مقابلے میں 117 ارکان کی حمایت سے حکومت کو شکست دی تھی۔ جس کے بعد 11 نومبر کو پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس طلب کیا گیا تھا تاہم حکومت کی اتحادی جماعتوں کی جانب سے تحفظات پر اجلاس ملتوی کردیا گیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں