22

سابق چیف جسٹس گلگت بلتستان رانا شمیم کا بیان سامنے آگیا

اسلام آباد: سابق چیف جسٹس گلگت بلتستان سپریم کورٹ رانا شمیم کا بیان سامنے آگیا۔

سابق چیف جسٹس گلگت بلتستان سپریم کورٹ رانا شمیم نے ٹیلیفونک گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صحافی انصار عباسی سے کی گئی تمام باتوں پر قائم ہوں، حلف نامہ کب اور کس کو دیا یہ ابھی نہیں بتا سکتا۔ اس واقعے کے وقت سابق چیف جسٹس ثاقب نثار گلگت میں میرے مہمان تھے میں نے ان کے آنے پر کوئی سرکاری خرچ نہیں کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: ثاقب نثار کا نواز شریف کی ضمانت سے متعلق خبر پر ردعمل سامنے آگیا
رانا شمیم نے کہا کہ ثاقب نثار کون ہوتے ہیں مجھے ایکسٹینشن دینے والے، مجھے توسیع مانگنے کی کوئی ضرورت محسوس ہی نہیں ہوئی، ان کے پاس قانون کے مطابق مجھے ایکسٹینشن دینے کا اختیار ہی نہیں، کیونکہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کی سپریم کورٹس میں چیف جسٹس کو ایکسٹینشن دینا وزیراعظم کا اختیار ہے، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کی سپریم کورٹس سپریم کورٹ آف پاکستان کے ماتحت نہیں۔

واضح رہے کہ ایک معروف صحافی نے خبر دی ہے کہ گلگت بلتستان کے سابق چیف جسٹس رانا ایم شمیم نے حلف نامہ جمع کرایا ہے کہ چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثار نے ہائی کورٹ کے ایک جج کو حکم دیا تھا کہ 2018ء کے عام انتخابات سے قبل نواز شریف اور مریم نواز کو ضمانت پر رہا نہ کیا جائے۔

حلفیہ بیان

گلگت بلتستان کے سینئر ترین جج کا پاکستان کے سینئر ترین جج کے حوالے سے حلفیہ بیان کا متن سامنے آگیا۔

نوٹرائزڈ حلف نامے پر سابق چیف جسٹس گلگت بلتستان کے دستخط اور ان کے شناختی کارڈ کی نقل منسلک ہے۔ دستاویز کے مطابق، شمیم نے یہ بیان اوتھ کمشنر کے روبرو 10 نومبر 2021ء کو دیا ہے۔

اپنے حلفیہ بیان میں لکھا ہے کہ ”میاں محمد نواز شریف اور مریم نواز شریف عام انتخابات کے انعقاد تک جیل میں رہنے چاہئیں۔ جب دوسری جانب سے یقین دہانی ملی تو وہ (ثاقب نثار) پرسکون ہو گئے اور ایک اور چائے کا کپ طلب کیا“۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں