35

پاکستان کی فتوحات اور بھارتیوں کی مسلسل شکست پر میمز کا طوفان

آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں پاکستان کی لگاتار تین فتوحات اور بھارت کی مسلسل دوسری شکست کے بعد سوشل میڈیا پر میمز کی بھرمار ہے اور خاص طور پر پاکستانی شائقین ان لمحات کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے بھارت سے پچھلے تمام حساب برابر کررہے ہیں۔

ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں شاہینوں کی ناقابل یقین کارکردگی پر پاکستانی شائقین خوشگوار حیرت میں مبتلا ہیں اور قومی ٹیم کی ہر فتح کے بعد سوشل میڈیا پر میمز کا طوفان امڈ آتا ہے اور اب تک ان میمز میں پاکستان مخالف ٹیموں کا تمسخر اڑانے کے ساتھ ساتھ قومی کھلاڑیوں کی بھرپور حوصلہ افزائی کی گئی ہے۔ چند ہفتے پہلے تک تو پاکستانی کھلاڑی خاص طور پر خوشدل شاہ، اعظم خان، آصف علی اور حارث رؤف ہی ان میمز بنانے والوں کے ریڈار پر تھے جو ان کھلاڑیوں کی قومی ٹیم میں شمولیت پر خوب لعن طعن کررہے تھے۔


بہرحال یہ پاکستانیوں کا مزاج ہے کہ وہ بہت جلد ماضی کو بھول کر صرف ایک کارکردگی کی بنیاد پر کھلاڑیوں کو ہیرو سے زیرو یا زیرو سے ہیرو بنادیتے ہیں۔ حالیہ ورلڈکپ کے ابتدائی میچوں میں حارث رؤف اور آصف علی کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔ خاص طور پر آصف علی تو اس وقت پاکستانیوں کی آنکھ کا تارا بنے ہوئے ہیں اور یہاں تک کہ انہیں بوم بوم کا لقب بھی دے چکے ہیں۔
ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں اب تک ہونے والے سب سے بڑے ٹاکرے کی بات کریں تو پاکستان اور بھارت کی ٹیمیں دبئی میں 24 اکتوبر کو مدمقابل ہوئیں لیکن سوشل میڈیا پر پاک بھارت ٹاکرے کا آغاز اس سے پہلے ہی ہوچکا تھا اور خاص طور پر بھارتی شائقین ’موقع موقع‘ کرکے پاکستانیوں کو چڑا رہے تھے، تاہم اس بار پاکستانیوں نے تاریخ بدل دی اور پاکستانیوں کو مفت ٹی وی دینے والے بھارتی اپنے ٹی وی سیٹ توڑتے ہوئے دکھائی دیے۔

آخرکار 24 اکتوبر کو وہ دن آہی گیا جس کا پاکستانیوں کو برسوں سے انتظار تھا اور پاکستان نے نہ صرف ورلڈکپ میں بھارت کو شکست دینے کا خواب پورا کیا بلکہ بھارتی سورماؤں کو تاریخی شکست دے کر ان کا غرور بھی خاک میں ملادیا۔ میچ کی بات کریں تو پاکستان نے بھارتی سورماؤں کو چاروں شانے چپ کردیا اور میچ سے قبل فتح کے بلند بانگ دعوے کرنے والوں پر بابراعظم اور محمد رضوان ہی بھاری پڑگئے۔ بہرحال یہ ہمارا آج کا موضوع نہیں البتہ میچ کے دوران محمد رضوان کی نماز پڑھنے کی ویڈیو خوب وائرل ہوئی جس پر بھارتی بھی تعریف کرتے دکھائی دیے۔

بھارت کی شکست کے بعد پاک بھارت میچ دیکھنے کےلیے دبئی میں موجود بالی ووڈ اسٹار اکشے کمار کا بھی خوب مذاق اڑایا گیا اور خاص طور پر بھارت کی شکست پر ان کی افسردہ چہرے کے ساتھ تصاویر چند ہی گھنٹوں میں ٹوئٹر کے ٹاپ ٹرینڈ میں شامل ہوگئی تھیں۔

سوشل میڈیا پر پاکستانی شائقین کی جانب سے ویرات کوہلی کو خوب سراہا گیا اور پاکستان کی فتح کے بعد بھارتی کپتان کی جانب سے محمد رضوان کو مبارک باد دینے کے ساتھ ساتھ گلے لگانے کی تصاویر بھی خوب وائرل ہوئی اور اس کے علاوہ سابق بھارتی کپتان دھونی کی بابراعظم ، شعیب ملک اور دھانی کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے تصاویر کی بھی تعریف کی گئی۔ تاہم بھارتیوں سے ویرات کوہلی کا یہ رویہ ہضم نہ ہوا اور انہوں نے ویرات کوہلی کی گراؤنڈ کے اندر ڈانس کرتے ہوئے ایک پرانی ویڈیو کلپ وائرل کرتے ہوئے یہ الزام عائد کردیا کہ وہ پاکستان کی جیت میں خوش ہیں۔

شکست خوردہ بھارتیوں نے اپنی ٹیم کی شکست کا الزام آخری اوور میں پٹائی کھانے والے مسلمان بولر محمد شامی پر عائد کردیا، انتہا پسند ہندوؤں نے محمد شامی کی خوب میمز بناکر وائرل کیں البتہ ویرات کوہلی اور وریندر سہواگ سمیت متعدد بھارتی کرکٹرز شامی کے حق میں سامنے آئے یہاں تک کہ محمد رضوان نے بھی بھارتی بولر کے حق میں ٹوئٹ کر ڈالی۔

بھارت کی شکست کے بعد سابق کرکٹر نے پہلے ہی بھارت کے ورلڈکپ سے باہر ہونے کی پیشگوئی کرتے ہوئے پاکستان کے فائنل میں پہنچنے کی نوید سنادی تھی اور آج نیوزی لینڈ سے انتہائی اہم میچ میں شکست کے بعد اس تجزیے پر مہر ثابت ہوگئی ہے اور بھارت کے سیمی فائنل میں پہنچنے کے امکانات تقریباً ختم ہوچکے ہیں البتہ کرکٹ میں معجزات کی کمی نہیں کہ کب کیا ہوجائے۔

بھارت سے موقع لینے کے بعد نیوزی لینڈ سے بدلہ لینے کی باری آئی تو سوشل میڈیا پر پاکستانیوں نے ایک بار پھر مورچہ سنبھالا اور راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں آخری لمحات میں سیکیورٹی خدشات کے باعث دورہ منسوخ کرکے پاکستان کو دنیا بھر میں رسوا کرنے والوں کو بھرپور سیکیورٹی فراہم کی۔

قومی ٹیم کی جانب سے بھارتی سورماؤں کو شکست دینے کے بعد پاکستانی مداحوں نے نیوزی لینڈ کی جانب سے دورہ پاکستان منسوخ کرنے کا غصہ سوشل میڈیا میمز کے ذریعے اتارا۔

ایک میم میں پاکستانی کھلاڑیوں کی بھارت اور نیوزی لینڈ کی ٹیم کے ساتھ دکھایا گیا جس پر تحریر کیا گیا ’’ابھی تو ہم بدلے ہیں … بدلے ابھی باقی ہیں‘‘۔

میچ کے دوران سابق اسپیڈ اسٹار شعیب اختر نے بھی دلچسپ ٹویٹ کی، جس میں انہوں نے کہا ’’پاکستانیوں سے درخواست ہے کہ وہ ہلکا ہاتھ رکھیں، ایسا نہ ہو اس بار نیوزی لینڈ سیکیورٹی وجوہات نہیں بلکہ زیادہ شور کے باعث میچ منسوخ کرنے کا نہ کہہ دیں‘‘۔

میچ کی بات کی جائے تو اس بار حارث رؤف نے مورچہ سنبھالتے ہوئے نیوزی لینڈ پر بھرپور گولا باری کی جس سے ان کی بیٹنگ لائن سنبھل نہ پائی اور جب کین ولیمسن نے مزاحمت کی کوشش کی تو حسن علی نے انہیں بارڈر کراس کرنے کا کوئی موقع فراہم نہیں کیا۔ پاکستانی کپتان بابراعظم کے جلد مورچہ چھوڑ جانے کے باوجود آصف علی اور شعیب ملک نے نیوزی لینڈ کی سیکیورٹی میں کسی قسم کی کمی نہیں آنے دی اور پوری ٹیم کو بحفاظت ڈریسنگ روم تک پہنچانے کے ساتھ ساتھ پاکستان کی بھی سیمی فائنل میں پہنچنے کی راہ ہموار کردی۔

نیوزی لینڈ کی شکست کے بعد ایک صارف نے بھارتی کپتان ویرات کوہلی اور کیوی کپتان کین ولیمسن کے درمیان ہونے والی گفتگو شیئر کی جس میں ولیمسن نے ویرات سے کہا ’’ اب آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ ہم کیوں واپس آ گئے تھے‘‘۔

دوسری جانب افغانستان کو شکست دینے کے بعد سوشل میڈیا صارفین نے پڑوسی ملک کے حالات کے باعث افغانی بھائیوں پر ہلکا ہاتھ رکھا البتہ اس بار آصف علی کی بھرپور میمز بنائی گئیں اور سوشل میڈیا پر ان کی پرانی ویڈیوز بھی وائرل ہوئیں۔ بھارتی صارف نے کہا ’’اچھا ہوا کہ ہم نے کسی پاکستانی کھلاڑی کو آؤٹ کرنے کی زحمت ہی نہیں کی ورنہ آصف علی تو ہمارے ساتھ بہت برا کرتا‘‘۔

شاداب خان کے 18ویں اوور کی آخری گیند پر سنگل کے لیے بھاگنے اور آصف علی کے منع کرنے پر بھی میمز بنائی گئی۔

آصف علی نے جب افغانستان کے بولر کریم جنت کو 4 چھکے لگائے تو انگلش آل راؤنڈر بین اسٹوکس کو اپنا ماضی یاد آگیا اور انہوں نے آصف علی کی تعریف کرتے ہوئے ٹوئٹ میں لکھا ’’ آصف علی ۔۔۔ نام نہیں بھولنا‘‘۔

خیال رہے 3 اپریل 2016 کو بھارت کے شہر کلکتہ کے ایڈن گارڈن میں کھیلے گئے ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے فائنل میں ویسٹ انڈیز کے آل راؤنڈر کارلوس بریتھ ویٹ نے بین اسٹوکس کو مسلسل 4 چھکے لگاکر اپنی ٹیم کو ورلڈ چیمپئن بنایا تھا اور اس وقت کمنٹری باکس میں موجود این بشپ نے کارلوس کی تعریف میں جو آخری جملا کہا وہ بہت زیادہ وائرل ہوا ’’کارلوس بریتھ ویٹ ۔۔ ری میمبر دی نیم‘‘۔

دوسری جانب سابق انگلش کپتان مائیکل وان نے پاکستان اور انگلینڈ کی جانب سے مسلسل 3 میچز جیتنے کے بعد دونوں ٹیموں کی فائنل میں رسائی کی پیشگوئی بھی کرتے ہوئے کہا ’’انگلینڈ کو اب صرف پاکستان ہی روک سکتا ہے‘‘۔

بھارت کی ایونٹ میں مسلسل دوسری شکست کی بات کریں تو کسی کو بھی اس بات کا یقین نہیں تھا کہ پاکستان سے 10 وکٹوں سے ہارنے کے بعد نیوزی لینڈ کے ہاتھوں بھی رسوائی بھارت کا مقدر بنے گی اور اسے 8 وکٹوں سے شکست کا سامنا کرنا پڑے گا۔ بھارتی کرکٹ ٹیم کی حالیہ کارکردگی پر شائقین نے عامر خان کی فلم ’لگان‘ کی ٹیم کو موجودہ انڈین ٹیم سے بہتر قرار دیا۔

بھارت کی اس کارکردگی کی تمام تر ذمہ داری آئی پی ایل پر ڈال دی گئی اور کچھ ہی دیر میں ٹوئٹر پر ’‘بین آئی پی ایل‘‘ ٹاپ ٹرینڈ بن گیا‘‘، جہاں کھیل سے زیادہ پیسوں پر توجہ دی جاتی ہے اور اکثر غیرملکی کھلاڑی پیسوں کی چمک دھمک دیکھ کی خاطر آئی پی ایل کے دوران اپنے ملک کی جانب سے کھیلنے سے بھی معذرت کردیتے ہیں۔

آخر میں اس امید کے ساتھ اپنی بات کو ختم کرتا ہوں کہ پاکستان ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے سیمی فائنل میں آسٹریلیا اور فائنل میں انگلینڈ کے سیکیورٹی مسائل بھی حل کردے گا اور آج کے بعد کوئی بھی ٹیم کم از کم سیکیورٹی خدشات کا بہانہ بناکر پاکستان کا دورہ منسوخ کرنے کی جرأت نہیں کرے گی۔ حالیہ کارکردگی کے بعد یقیناً بھارت کا غرور بھی خاک میں مل گیا ہوگا اور اب وہ پیسے اور اپنی گھٹیا سیاست کے ذریعے پاکستان کو نیچا دکھانے کے بجائے کھیل پر توجہ مرکوز رکھے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں