10

ہاضمے کی نالی میں زخم بھرنے والی جدید ’آنت پٹی‘

گلاسگو: جب جب معدے اور آنتوں کی جراحی کی جاتی ہے تو وہاں کی نمی کی وجہ سے زخموں کو بھرنا بہت مشکل ہوجاتا ہے۔ اکثر صورتحال میں آنتوں کی رطوبت، ہاضماتی اجزا اور فضلہ بھی خارج ہوکر بدن میں جاتا رہتا ہے۔ لیکن اب ایک ہائیڈروجل سے ایک نئی پٹی یا پیوند بنایا گیا ہے جو برق رفتاری سے آنتوں کے اندرونی زخم بھرسکتا ہے۔

اگرچہ اس سے قبل کئی طرح کے پھائے بنائے گئے ہیں جو آنتوں کے اندرونی ٹانکوں پر لگائے جاتے ہیں لیکن ان میں ایک کمی یہ ہے کہ آنتوں سے خارج ہونے والے کئی طرح کے کیمیکل جب کھانا ہضم کرسکتے ہیں تو وہ اس پٹی کو بھی گھلادیتےہیں۔ اس طرح کی پٹیاں زخم بھرنے سے پہلے ہی اترجاتی ہیں بلکہ زخم مزید خراب بھی ہوجاتا ہے۔

کوئن ایلزبتھ یونیورسٹی ہاسپٹل کے سائنسدانوں نے ایک نیا ہائیڈروجل پیوند بنایا ہے جو چار طرح کے کیمیائی اجزا کو سہہ سکتا ہے ان میں ایکریلک ایسڈ، میتھائل ایسائلیٹ، ایکرل ایمائڈ اور بس ایکرل ایمائڈ شامل ہیں۔ اس پٹی کو بعض جانوروں پر بھی آزمایا گیا ہے۔
یہ ایجاد ایک طرح کا ہائیڈروفوبک (پانی بھگانے والا) مادہ بھی ہے۔ جب اسے خنزیر کی آنتوں پر لگایا گیا تو وہ اچھی طرح چپک کیا۔ اس کے بعد آنتوں سے خارج ہونے والی مائعات سے وہ مزید سخت ہوگیا اور گرفت مضبوط ہوگئی۔ سائنسی لحاظ سے اس کی آنتوں سے چپکنے کی صلاحیت دیگر پٹیوں کے مقابلے میں دس گنا زائد ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ آنتوں کے سکڑنے اور پھیلنے کے دباؤ کو پانچ گنا تک برداشت کرسکتا ہے۔

اس طرح وہ دن دور نہیں جب آنتوں کی اندرونی سرجری کے بعد اس پیوند کو زخم بھرنے میں عام استعمال کیا جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں