56

افغان صورت حال میں ہر لمحہ تبدیلی، امریکا کا پاکستان سے رابطہ

کابل ایئر پورٹ کو ایک روز بعد دوبارہ سے آپریشنل کردیا گیا ہے اور اب دیگر ملکوں کا سفارتی عملے اور شہریوں کی بڑی تعداد میں روانگی کا عمل جاری ہے۔

گزشتہ روز کابل کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر افراتفری کا عالم تھا، ہزاروں افغان شہریوں نے کابل سے نکلنے کے لیے ایئرپورٹ پر دھاوا بول دیا تھا۔ اسی دوران امریکی فوج کی فائرنگ اور طیاروں پر سوار ہونے کی کوشش میں گر کر کم از کم 8 افراد ہلاک ہوگئے تھے، کابل ایئر پورٹ اب بھی امریکی فوج کے کنٹرول میں ہے اور ہوائی اڈے کو آپریشنل کردیا گیا ہے، جس کے بعد بڑی تعداد میں غیر ملکی سفارت کار اور شہری فوجی طیاروں کے ذریعے افغانستان چھوڑ رہے ہیں۔

بھارتی سفارتی عملے کا کابل سے ہنگامی انخلا
بھارتی دفتر خارجہ کے ترجمان ارندم باگچی نے اپنی ٹوئٹ میں کہا ہے کہ افغانستان میں تعینات سفیروں اور سفارت خانے کے افسروں سمیت تمام عملے کو افغانستان سے نکال رہے ہیں۔

امریکا کا پاکستان سے رابطہ

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق امریکی وزیر خارجہ اینٹونی جے بلنکن نے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو ٹیلی فون کیا اور دونوں رہنماؤں نے افغانستان میں تیزی سے بدلتی ہوئی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا۔ وزیر خارجہ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ’پاکستان پرامن اور مستحکم افغانستان کے لیے کوششوں کو فروغ دینے کے سلسلے میں امریکہ اور دیگر بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھے گا۔

مزید پڑھیے: شاہ محمود قریشی سے امریکی ہم منصب کا ٹیلی فونک رابطہ

نئی نسل کے خواب ادھورے نہیں رہنے چاہئیں

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اینتونیو گتیرس نے کہا ہے کہ افغان عوام کی نئی نسل، خواتین، بچیوں، بچوں اور مردوں کے خواب ادھورے نہیں رہنے چاہئیں۔

مزید پڑھیے: نئی افغان نسل کے خواب ادھورے نہیں رہنے چاہئیں

امریکا نے ملبہ افغان سیاسی اور فوجی قیادت پر ڈال دیا

امریکی صدر جوبائیڈن نے افغانستان سے فوجوں کے انخلا کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغان فوج لڑنا نہیں چاہتی تو اس میں امریکا کچھ نہیں کر سکتا، ہم نے انہیں ہتھیار اور 20 سال تک ہر طرح کی تربیت دی، افغان فوجیوں کی تنخواہیں تک ہم ادا کرتے رہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں