36

خاتون نے دنیا بھر سے 60,000 ٹین ڈبوں کا ’’خزانہ‘‘ جمع کرلیا

برسلز: بیلجیئم کی ایک خاتون پچھلے تیس سال سے دنیا بھر کے مختلف ممالک سے چاکلیٹ، ٹافی، کافی، چاول، تمباکو، ٹیلکم پاؤڈر اور بوٹ پالش وغیرہ کے خالی ’’ٹین ڈبے‘‘ جمع کررہی ہیں جن کی تعداد آج 60 ہزار سے بھی زیادہ ہوچکی ہے۔

خبر ایجنسی روئٹرز کے مطابق، بیلجیئم کے علاقے گراں ہالے (Grand-Hallet) میں رہنے والی 83 سالہ یویت داردین نے دھات سے بنے ہوئے، چھوٹے بڑے استعمال شدہ خالی ڈبے جمع کرنے کا کام آج سے 30 سال محض وقت گزاری کےلیے شروع کیا تھا۔

دیکھتے ہی دیکھتے وقت گزاری کا یہ مشغلہ ان کا معمول بن گیا اور انہوں نے دنیا کے تقریباً ہر ملک سے خالی ٹین ڈبے جمع کرلیے جبکہ یہ سلسلہ آج تک جاری ہے۔

آج ان کے جمع کیے ہوئے ٹین ڈبوں کی تعداد 60 ہزار سے بھی زیادہ ہوچکی ہے جنہیں انہوں نے اپنی وسیع جاگیر پر چار مکانات میں سنبھال کر رکھا ہوا ہے۔

البتہ، اپنے ’’خزانے‘‘ کی سیر پر انہوں نے ٹکٹ بھی لگایا ہوا ہے تاکہ اس کی دیکھ بھال کے اخراجات پورے کیے جاسکیں۔

’’کوئی تیس سال پہلے میں نے چاکلیٹ کا خالی ڈبہ بس یونہی سنبھال کر رکھ لیا کیونکہ اس پر ایک لڑکی کی خوبصورت تصویر بنی ہوئی تھی۔ اس کے بعد میں ایک ایک کرکے ٹین ڈبے جمع کرتی گئی۔ مگر ان میں سے کسی ایک ڈبے کےلیے بھی مجھے کہیں جانا نہیں پڑا بلکہ میرے بارے میں باتیں سن کر لوگ خود ہی میرے پاس چلے آتے اور مختلف چیزوں کے خالی دھاتی ڈبے مجھے دے کر چلے جاتے،‘‘

ویسے تو ان میں سے زیادہ تر ٹین ڈبے بالکل عام سے ہیں لیکن بعض واقعی خاص الخاص ہیں۔

مثلاً ایک دھاتی ڈبہ، مشہور برطانوی کمپنی ’’ہنٹلے اینڈ پامرز‘‘ نے 1868 میں اپنے تیار کردہ بسکٹ رکھنے کےلیے تیار کیا تھا۔

یہ ڈبہ بے حد محفوظ حالت میں ہے جس پر کمپنی کا لوگو بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ 200 سال سے قائم ’’ہنٹلے اینڈ پامرز‘‘ کا یہ ڈبہ ایک تاریخی یادگار ہے کیونکہ یہ کمپنی کا وہ پہلا بسکٹ باکس بھی تھا جس پر لیتھوگرافی کی تکنیک سے خوبصورت نقاشی کی گئی تھی۔

اسی خزانے میں چندے کا ایک ڈبہ بھی شامل ہے جو دوسری جنگِ عظیم کے دوران ہٹلر کی نازی جرمن حکومت نے بنوایا تھا۔ تاریخی معلومات سے پتا چلتا ہے کہ عوام سے چندہ جمع کرنے کےلیے ایسے ہزاروں ڈبے، جرمنی کے مختلف علاقوں میں تقسیم کیے گئے تھے۔ یہ بھی آج نایاب ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں