46

کالم فکر فرداں

کالم فکر فرداں
کہتے ہیں لوہے کو کندن بننے کیلئے آگ سے گزرنا پڑتا ہے اور اپنے سینےپر لوہار کی لامتناہی، بےترس چوٹوں کوسہنا پڑتا ہے،تب جا کر اس عام سے لوہے کے وارے نیارے ہو جا تے ہیں،لوہا بھی وقت کے ساتھ حالات کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے سخت جاں اور ٹھنڈا پڑھ جاتا،،
یہی کہانی میرے دیس کے فسوں حال باسیوں کی ہے،
ان کو بھی آگ کی بھٹی جیسے حالات کا سامنا ہے ان کی ہمت،حوصلہ،جواں مردی،پیمانہ صبر کو آزمایا جا رہا ہے،مگر معاف کیجئے گا یہاں لوہار پر شکوہ کناں ہونا بے جا ہے کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ لوہار کی چوٹیں اتنی بے رحم نہیں ہوتیں،جتنی ایک انجان کی ہوتی ہیں بسا اوقات اناڑی اپنے ہاتھ ہاتھ پہ چوٹ لگا لیتا ہے جس کی وجہ سے سیاسی چورن ہاتھوں ہاتھ بیچنے میں دقت ہوتی ہے،
۔۔
میں ایک ایسے ملک میں رہتا ہوں
جہاں شام کو گھر لوٹنے والے مزدور کے پسینے سے شرابور کپڑے خشک ہونے سے پہلے اس کی مزدوی مہنگائی کی نذر ہو جاتی ہے، جہاں مسئلہ پیٹ بھرنے کا نہیں گزارہ کرنے کا ہے،یہاں مزدور دولت جمع کرنے کا نہیں بلکہ آنے والے کل کیلئے روٹی جمع کرنے کی فکر میں رہتا ہے،جہاں انسان کی کوئی قیمت نہیں مگر ہر بے وقعت چیز انسان کیلئے نایاب ہے،جہاں مار بھی پڑتی ہے اور رونےکو دل بھی نہیں کرتا شائد اس لیئے کہ امیر المومنین بہت جلد سکون کی زندگی شروع ہونےیعنی قبر میں سکون کی نوید سنا دیتے ہیں،میری تو خدا سے التجاء ہے حکمرانوں کو منکر نکیر کردے اس لیئے کہ قبر کے سکون کا مزہ دنیا میں ہی مل جائے،

مہنگائی کے نہ تھمنےوالے طوفان نےعوام کو چاروں شانے چت کردیا ہے،
اور بادشاہ سلامت جو ہر بات میں غریبوں کے حامی نظر آتے تھے آج ہاتھ دھوکر انہی غریبوں کے پیچھے پڑ گئے ہیںِ،
بقول وزیراعظم ملک مافیا کی نظر ہوگیا ہے یعنی مافیا راج، چینی،گھی،پٹرول،دالیں،سبزیاں ،ادویات سب کچھ مافیا کے زیر قبضہ ہیں جب چاہیں جتنی چاہیں قیمتیں بڑھادیں،اور پھر خود ساختہ سروے کی پشین گوئی کرتے ہیں، اگلا دور بھی اسی حکومت کا ہوگا،مطلب ابھی مافیا کہیں نہیں جانے والا اگلے پانچ سال بھی چلے گا،
حکومتی وزراء خارجہ پالیسی میں کامیابی کا راز الاپتے نظر آتے ہیں مگر ملک کی بدحالی ان کے منہ پر تماچہ ہے،ریٹنگ کی دوڑ میں گھنٹوں پریس کانفرنسیں صرف سیاسی مخالفین پر الزامات کی بوچھاڑ کرنے کیلئے کی جاتی ہیں،نہیں بتایا جاتا لاکھوں نوکریوں کا وعدہ کیونکر وفا نہ ہوا،نہیں بتایا جاتا بے گھر کو گھر دینے کی بجائے ناجائز تجاوزات کی آڑ میں کتنے خاندانوں کو بے چھت کردیا گیا،نہیں بتایا جاتایوٹیلٹی سٹورز کی خالی الماریاں خریداروں کو کیوں منہ چڑاتی ہیں ،نہیں بتایا جاتا ادویات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ کس کو فائدہ پہنچانے کیلئے کیا جاتاہے،ہرگز نہیں بتایا جائے گا کیونکہ یہ سب اہل اقتدار کی نالائقیوں اور نا اہلیوں کا ثمر ہے،
وہ دن دور نہیں جب یہ نا اہل دوبارہ اقتدار کی بھیک مانگتے گلیوں میں نظر آئیں گیں اور عوام کی سوالیہ نظروں سے آنکھ ملانے سے پہلے تھوڑی غیرت محسوس کریں گیں،مگر افسوس سادہ لوح ناچار عوام پھر ان کے چنگل میں پھس جائیں گیں ،لب لباب یہ کہ اگر عوام ان کو اقتدار میں لاکر پھر سے اپنے اوپر مسلط کرتے ہیں تو جان لیں ہر شریک جرم کو سزا بھگتنی پڑے گی۔۔والسلام

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں