30

بچے کی پیدائش کے بعد خراب نیند سے ماں پر جلدی بڑھاپا آسکتا ہے، تحقیق

لاس اینجلس: امریکا میں 33 رضاکار خواتین پر کی گئی تحقیق میں معلوم ہوا ہے کہ بچے کی پیدائش کے بعد نیند خراب ہونے کی وجہ سے ماں کی ’حیاتیاتی عمر‘ تین سے 7 سال تک کم ہوسکتی ہے۔

عام مشاہدے کی بات ہے کہ پیدائش کے بعد کئی ماہ تک نوزائیدہ بچہ اپنے والدین کو وقت بے وقت جگا کر ان کی نیند خراب کرتا رہتا ہے۔

یہ بھی کہا جاتا ہے کہ بچہ اپنی پیدائش سے پہلی سالگرہ تک اپنے والدین کی 2000 گھنٹے کی نیند خراب کرتا ہے لیکن والدین میں سے بھی ماں کی نیند زیادہ متاثر ہوتی ہے۔
یونیورسٹی آف کیلیفورنیا لاس اینجلس (یو سی ایل اے) کے ماہرین نے اپنی نئی تحقیق میں اسی پہلو کا عمر رسیدگی کے حوالے سے جائزہ لیا۔

اس تحقیق میں شریک 33 حاملہ خواتین سے خون کے نمونے لیے گئے جبکہ بچے کی پیدائش کے ایک سال بعد تک ان میں سونے جاگنے کے معمولات کی تفصیلات بھی حاصل کی جاتی رہیں۔

ایک سال بعد ایک بار پھر ان خواتین سے خون کے نمونے لیے گئے اور ان میں ’’ٹیلومرز‘‘ کی لمبائی کا موازنہ، بچے کی پیدائش سے پہلے لئے گئے خون کے نمونوں سے کیا گیا۔

موازنے سے معلوم ہوا کہ بچے کی پیدائش کے بعد ایک سال تک جن عورتوں کی نیند زیادہ متاثر رہی، ان کے خلیوں میں ٹیلومرز کی لمبائی بھی نمایاں طور پر کم دیکھی گئی۔

ان کی نسبت وہ خواتین جن میں نیند سے متاثر ہونے کا دورانیہ کم رہا، ان میں ٹیلومرز کی لمبائی کچھ خاص متاثر نہیں ہوئی۔

واضح رہے کہ ٹیلومرز وہ سالمات (مالیکیولز) ’’کروموسومز‘‘ وہ خلیے میں کروموسومز کے سروں پر ڈھکنوں کی مانند موجود ہوتے ہیں۔ جیسے جیسے عمر بڑھتی جاتی ہے، ویسے ویسے ٹیلومرز کی لمبائی بھی کم ہوتی جاتی ہے، یہاں تک کہ بڑھاپے میں یہ بہت مختصر رہ جاتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ ٹیلومرز کی لمبائی کو ’’خلوی سطح پر‘‘ عمر کا پیمانہ بھی قرار دیا جاتا ہے۔

بچے کی پیدائش کے بعد روزانہ دو گھنٹے یا اس سے زیادہ متاثرہ نیند والی خواتین کے ٹیلومرز کی لمبائی میں ہونے والی کمی سے ظاہر ہوتا تھا کہ ایک سال کے اس عرصے میں ان کی عمر بھی 3 سے 7 سال تک بڑھ چکی ہے۔

نیند کی خرابی کے باعث وقت سے پہلے بڑھاپے کی آمد ایک خطرناک بات ہے کیونکہ اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ ایسی خواتین کو وہ تمام بیماریاں بھی خاصی کم عمری میں ہوسکتی ہیں جو بالعموم 60 سے 70 سال کی عمر میں لاحق ہوتی ہیں۔

نوٹ: اس تحقیق کی تفصیلات ریسرچ جرنل ’’سلیپ ہیلتھ‘‘ کے تازہ شمارے میں شائع ہوئی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں