30

سفیر کی بیٹی اغوا نہیں ہوئی، پاکستان نے افغان وفد کو شواہد دے دیے

اسلام آباد: افغان سفیر کی بیٹی کے مبینہ اغوا کی تحقیقات کے لیے افغان وفد نے اسلام آباد کا دورہ کیا، کیمرا فوٹیجز دیکھیں، سیکیورٹی حکام اور وزرائے خارجہ کے افسران سے ملاقاتیں کیں جس میں انہیں واقعے کی مکمل بریفنگ دی گئی۔

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق افغان وفد کو سیف سٹی آفس اسلام آباد لے جایا گیا جہاں انھیں مختلف اوقات اور مختلف مقامات کی کئی ویڈیو فوٹیجز دکھائی گئیں، ان ویڈیوز میں شکایت کنندہ افغان سفیر کی بیٹی کو واضح طور پر پہچانا جاسکتا تھا کہ وہ آزادانہ طور پر مختلف جگہوں پر گھوم رہی ہے، افغان وفد کو شکایت کنندہ افغان سفیر کی بیٹی کے دورہ کردہ تمام مقامات کا دورہ کرایا گیا، افغان وفد کو تکنیکی ڈیٹا (موبائل فرانزک/جیو فینسنگ کے نتائج) بھی پیش کیے گئے۔

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق افغان وفد کو بتایا گیا کہ سیکیورٹی اداروں نے شکایت کی تفصیلی اور مکمل تفتیش کی ہے، وفد کو بتایا گیا کہ تفتیش اور گواہوں کے بیانات کے بعد حکام اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ زمینی حقائق شکایت کنندہ کی رپورٹ کی تصدیق نہیں کرتے۔
پاکستانی حکام نے کیس کے بعض پہلوؤں پر اضافی معلومات کی فراہمی، شواہد اور شکایت کنندہ تک رسائی کی سابقہ درخواست کا اعادہ کیا۔ وفد کو اسلام آباد میں افغانستان کے سفارت خانے اور اس کے قونصل خانوں کی سکیورٹی بڑھانے کے لیے کیے گئے اقدامات سے بھی آگاہ کیا گیا۔

افغان وفد کو بتایا گیا کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے، افغان امن عمل کے اس نازک موڑ پر، پرامن، مستحکم اور خوشحال افغانستان کے مشترکہ مقصد کے لیے مشترکہ طور پر کام کرنا انتہائی ضروری ہے، پاکستان کو امید ہے کہ اسلام آباد میں افغانستان کا سفارت خانہ جلد ہی اپنے معمول کے کام شروع کر دے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں