22

اسامہ ستی کیس، عدالت نے دہشت گردی کی دفعات بحال کر دیں

اسلام آباد: ہائی کورٹ نے اسامہ ستی کیس میں دہشت گردی کی دفعات بحال کر دیں۔ اس سے قبل انسداد دہشت گردی عدالت نے مقدمے سے دہشتگردی کی دفعات ختم کر دی تھیں۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس محسن اختر کیانی اور جسٹس بابر ستار نے بروز منگل 27 جولائی کو مقتول اسامہ ستّی کے والد کی اپیل پر محفوظ فیصلہ سنایا۔

عدالت کے روبرو درخواست گزار کے وکیل غلام افضل راجہ کا کہنا تھا کہ اسامہ ستی کو ملزمان کی جانب سے 17 گولیاں ماری گئیں اور پولیس اہلکاروں نے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا۔ انسداد دہشتگردی ایکٹ کے تحت یہ دہشت گردی کا کیس ہی بنتا ہے۔ جس پر عدالت نے وکلا کے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ سناتے ہوئے مقدمے میں دہشت گردی کی دفعات کو بحال کرتے ہوئے انسداد دہشت گردی عدالت کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں