15

لڑکی لڑکا برہنہ تشدد کیس؛ 2 ملزمان کو متاثرہ فریق نے پہچان لیا

اسلام آباد کے علاقے ای الیون میں لڑکی لڑکے کو برہنہ کرکے تشدد کرنے سے متعلق کیس میں بڑی پیش رفت ہوگئی۔

شناخت پریڈ کے لیے جیل بھجوائے گئے دو ملزمان کو متاثرہ فریق نے پہچان لیا۔ عدالت نے بلال مروت اور محب بنگش کو شناخت پریڈ کے لیے جیل بھیجا تھا۔ پولیس نے مرکزی ملزمان کی نشاندہی پر بلال مروت اور محب بنگش کو گرفتار کیا تھا۔ شناخت پریڈ کا مرحلہ گزشتہ روز اڈیالہ جیل میں مکمل ہوا۔

یہ بھی پڑھیں: لڑکی لڑکا برہنہ تشدد کیس؛ 14 ملزمان نے ڈھائی گھنٹے تک ویڈیو بنائی، سرکاری وکیل
کیس میں مجموعی طور پر چھ ملزمان کو گرفتار کیا گیا جن میں سے مرکزی ملزمان عثمان مرزا سمیت چار ملزمان عطا الرحمن،فرحان اور ادارس قیوم بٹ کو آج ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد کے سامنے پیش کیا گیا۔ تھانہ گولڑہ پولیس نے ملزمان کو جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر پیش کیا۔

سرکاری وکلا جاوید عطا اور ساجد چیمہ عدالت کے سامنے پیش ہوئے اور بتایا کہ 6 ہزار روپے کی رقم ادارس قیوم بٹ کے گھر سے ریکور ہوئی، متاثرہ لڑکے اسد کا گھر ڈھوک چوہدریاں میں ہے یہ اس کے پاس پیسے لینے کےلیے بندہ بھیجتے تھے، 11 لاکھ 25 ہزار روپے یہ وقت فوقتا لیتے رہے اور آپس میں بانٹ لیتے، فرحان ، عطا الرحمن، ادارس یہ لڑکی اور لڑکے کے کپڑے اترواتے رہے جبکہ ریحان واقعے کی ویڈیو بنا رہا تھا، انہوں نے بالکل ننگا کرکے کہا تم آپس میں ریپ نہیں کرو گے تو ہم کریں گے ، ملزمان کی آڈیو سیمپلنگ ، ویڈیو فوٹو گراف میٹری کرانی ہے اس لیے مزید ریمانڈ چاہیے۔

عثمان مرزا نے بیان دیا کہ جس دن وقوعہ ہوا معافی تلافی ہو گئی تھی، ان کو ہم نے کہا آجاؤ ہم معذرت کر لیتے ہیں، انہوں نے کہا ہم آپ کی جگہ پر آئے تھے ہماری غلطی تھی، ہماری معافی تلافی ہو گئی تھی۔

عدالت نے مرکزی ملزم عثمان مرزا سمیت چاروں ملزمان کو مزید تین روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا اور 20 جولائی کو دوبارہ پیش کرنے کا حکم دیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں