22

ترکی میں چین کی ’’کوروناویک‘‘ ویکسین 83.5 فیصد مؤثر ثابت

استنبول: کورونا وائرس ’’سارس کوو 2‘‘ سے تحفظ کےلیے چینی ’’کوروناویک‘‘ ویکسین کی ترکی میں بڑے پیمانے کی طبّی آزمائشیں مکمل ہوگئی ہیں جن کے مطابق یہ ویکسین 83.5 فیصد مؤثر ہے۔

تفصیلات کے مطابق، تیسرے مرحلے کی ان طبّی آزمائشوں (فیز 3 کلینیکل ٹرائلز) میں 18 سے 59 سال کے 10 ہزار سے زیادہ رضاکار شریک کیے گئے تھے جنہیں ’’کوروناویک‘‘ بذریعہ انجکشن دی گئی۔

یہ ویکسین دو خوراکوں پر مشتمل ہے جو انجکشن کے ذریعے لگائی جاتی ہیں۔ پہلی خوراک کے 14 دن بعد کوروناویک کی دوسری خوراک لگائی جاتی ہے۔
طبّی تحقیقی جریدے ’’دی لینسٹ‘‘ کی ویب سائٹ پر 8 جولائی 2021 کے روز شائع ہونے والی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ترکی میں ’’کوروناویک‘‘ ویکسین سے 90 فیصد رضاکاروں میں کورونا وائرس کے خلاف مضبوط حفاظتی ردِعمل (امیون رسپانس) سامنے آیا جو خوش آئند ہے۔

البتہ، کووِڈ 19 سے تحفظ فراہم کرنے میں اس ویکسین کی اوسط کارکردگی 83.5 فیصد رہی۔ بتاتے چلیں کہ ترکی میں یہ طبّی آزمائشیں 14 ستمبر 2020 سے 5 جنوری 2021 تک جاری رہیں۔

واضح رہے کہ یکم جون 2021 کو عالمی ادارہ صحت نے ہنگامی حالات کے تحت ’’کوروناویک‘‘ استعمال کرنے کی منظوری دے دی تھی، جس کے بعد سے اب تک 22 ممالک میں یہ ویکسین استعمال کی جارہی ہے۔

ترکی کے علاوہ برازیل، انڈونیشیا اور چلی میں بھی اسی ویکسین کی مزید طبّی آزمائشیں جاری ہیں۔

چلی کی طبّی آزمائشوں کے نتائج ’’نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسن‘‘ کی ویب سائٹ پر 7 جولائی 2021 کے روز شائع کیے جاچکے ہیں، جن کے مطابق کورونا وائرس سے بچاؤ میں ’’کوروناویک‘‘ ویکسین 66 فیصد مؤثر ثابت ہوئی ہے۔

برازیل اور انڈونیشیا میں بھی ’’کوروناویک‘‘ کی طبّی آزمائشیں مکمل ہوچکی ہیں لیکن ابھی ان کے نتائج شائع نہیں ہوئے ہیں۔

’’کوروناویک‘‘ کو 2 سے 8 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت پر عام ریفریجریٹر میں محفوظ کیا جاسکتا ہے جس کی بدولت دنیا بھر میں اس کی ترسیل خاصی آسان ہے۔ اس طرح یہ ویکسین غریب اور کم وسائل والے ممالک کےلیے زیادہ بہتر ثابت ہوسکتی ہے۔

دوسری جانب ’’دی لینسٹ‘‘ کے ایک ادارتی نوٹ میں آکسفورڈ یونیورسٹی برطانیہ اور آئرلینڈ کے ماہرین نے بھی ان نتائج کو قابلِ بھروسہ قرار دیتے ہوئے اس ویکسین کو محفوظ قرار دیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں