21

انگلش ’’بچوں‘‘ سے شکست پرسابق کرکٹرز رنجیدہ

لاہور: انگلش بچوں کے ہاتھوں قومی ٹیم کی شکست نے سابق کرکٹرز کو رنجیدہ کردیا۔

کارڈف میں کھیلے گئے پہلے ون ڈے میں پاکستان ٹیم کی کارکردگی انتہائی مایوس کن رہی،بیٹنگ کے بعد بولنگ میں بھی کوئی دم خم نظر نہیں آیا، کپتان بابر اعظم نے گرین شرٹس کیلیے اسے ایک بْرا دن قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگلے میچ میں کم بیک کریں گے، ان کا رویہ سابق کرکٹر شعیب اختر کو پسند نہیں آیا۔

انھوں نے اسے بے سروپا وضاحت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پچ میں باؤنس سمیت کوئی ایسی چیز نہیں تھی جس سے بیٹنگ فلاپ ہوتی،انگلش کنڈیشنز میں گیند سیم ہوتی ہے،اگر آپ اس کو بھی نہیں کھیل سکتے تو کیا کرسکتے ہیں، بیٹسمینوں نے اپنی غفلت سے وکٹیں گنوائیں،مجھے اور پرستاروں کو اس شکست سے دکھ ہوا ہے،اگر پاکستان ٹیم اسی طرح سے کھیلتی رہی تو ان کے میچزکون دیکھے گا،کم ازکم میں تو نہیں دیکھوں گا۔
سابق کپتان رمیز راجہ نے کہا کہ 400رنز والی پچ پر گرین شرٹس نے 141رنز بنائے،نئی گیند سے تھوڑی مشکل ہونے سے 1یا2 وکٹیں بھی گرسکتی ہیں لیکن 4بیٹسمینوں کے پویلین لوٹ جانے سے تکنیک میں خامیاں آشکار ہوگئیں،امام الحق،بابر اعظم، محمد رضوان اور سعود شکیل کریز کے اندر جکڑے رہے، انگلینڈ میں فارورڈ آکر کھیلنے کی ضرورت ہوتی ہے،مجھے ٹیم سے ایسی کارکردگی کی ہر گز توقع نہیں تھی، صرف پاکستان ہی کسی معمولی ’’بی‘‘ ٹیم کو غیر معمولی بنانے کا کارنامہ سرانجام دے سکتا ہے۔

سابق آل راؤنڈر شاہد آفریدی نے کہا کہ جتنی جلدی ممکن ہو اس میچ کو بھول جانا چاہیے،میرا یقین ہے کہ پاکستان ٹیم اتنی بھی بْری نہیں ہے، پلیئرز لارڈز میں مضبوطی سے کم بیک کریں گے،انگلینڈ کی نئی ٹیم نے بھی بہترین کھیل پیش کیا۔

سابق کپتان انضمام الحق نے کہاکہ اگرچہ گرین شرٹس کی کارکردگی اچھی نہیں تھی مگر وہ ایک ٹیم نظر آ رہے ہیں، پہلے ون ڈے کے بارے میں زیادہ فکر نہ کریں، مجھے امید ہے کہ کھلاڑی کم بیک کرسکتے ہیں،اس طرح کے مشکل وقت آجاتے ہیں، بابر اعظم بھی پلیئرز کا حوصلہ جوان رکھیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں