42

پانی کے اس جگ میں دنیا کا طاقتور ترین فلٹر بھی نصب ہے

لندن:
صرف ایک ماہ انتظار فرمائیں کہ اب طاقتور واٹر فلٹر کے ساتھ دنیا کا پہلا جگ بنایا گیا ہے جس سے اضافی واٹر فلٹر کی ضرورت نہیں رہے گی۔ اسے ایل اے آر کیو فلٹر کا نام دیا گیا ہے جو انٹرنیٹ پر کراؤڈ فنڈنگ کے تمام مراحل سے گزر کر تیاری کے آخری مراحل میں ہے۔

اگلے ماہ سے باقاعدہ طور پراس کی فروخت شروع ہوجائے گی۔ اس جگ کے اوپری حصے میں کئی اقسام کے فلٹر لگے ہیں جو فوری طور پر سیسے، کلورین، پارے اور نامیاتی آلودگیاں صاف کردیتا ہے۔ اس کی پشت پر ایک نئی ٹیکنالوجی ’پیوروِز‘ استعمال کی گئی ہے لیکن اس کی خاص تفصیل نہیں بتائی گئی ہے۔

لیکن واضح رہے کہ ایک خاص عرصے کے استعمال کے بعد اس کے فلٹر تبدیل کرنا ضروری ہوتا ہے۔ انقلابی جگ میں اوپر کی جانب پودوں سے کشید کردہ کاربن فلٹر لگا ہے جو پانی میں موجود سیسے، پارے، کلورین اور خردنامیوں کو صاف کرتا ہے۔ اس عمل میں پانی کا ذائقہ بھی بہتر ہوجاتا ہے۔

دوسرے مرحلے میں پیوروز ٹیکنالوجی اپنا کام کرتی ہے۔ سی جگ میں موجود یہ الٹراوائلٹ فلٹر ہے جس سے پانی گزرتے ہوئے مزید صاف ہوجاتا ہے۔ اس مرحلے میں یہ سخت جان بیکٹیریا، پھپھوند اور وائرسوں کو برباد کردیتا ہے۔ جگ ایک مرتبہ یو ایس بی سے چارج ہونے کے بعد بہت دیر تک چلتا رہتا ہے۔

فلٹر پرانا ہونے پر اس کا خودکار نظام آپ کو اطلاع دیتا ہے کہ اب اسے تبدیل کرنا ضروری ہے۔ اس کے ایک فلٹر کی قیمت 99 ڈالررکھی گئی ہے۔

برفیلے خطے میں لاک ڈاؤن میں تنہا رہنے والی باہمت خاتون

اٹلی کی ویلنٹینا میازو اپنے ملک کے ہولناک لاک ڈاؤن سے گھبراکر تنہا آرکٹک خطے میں وقت گزارا اور اب دنیا بھر میں ان کی پذیرائی ہورہی ہے۔

ویلنٹینا سال کے چھ ماہ اپنے گھر سے باہر گزارتی ہیں کیونکہ وہ سیروتفریح کی دلدادہ ہیں۔ اٹلی میں جب کووڈ 19 کی ہولناک وبا پھوٹی تو وہ بے بس ہوکر اپنے گھر تک محدود ہوگئیں۔ پھر ستمبر 2020 میں انہیں انسٹاگرام پر ایک پیغام ملا کیا وہ آرکٹک حلقے (سرکل) میں ایک گیسٹ ہاؤس کی دیکھ بھال کرنا چاہیں گی، جس پر وہ فوراً راضی ہوگئیں۔

تاہم انہیں احساس تھا کہ یہ ایک برفیلا اور بے رحم علاقہ ہے جو سیاحوں کے لیے غیرموزوں ہی ہے۔ تاہم انہوں نے ہاں کردی اور ایک ماہ بعد اپنے گھر سے 2400 میل دور کونگزفورڈ جاپہنچیں لیکن یہاں صرف 24 افراد رہائش پذیر تھے۔ یہاں سے قریب ترین ہسپتال بھی 200 میل دور، ایک ڈسپنسری اور اسٹور دونوں 25 میل کے فاصلے پر واقع تھیں۔

یہاں کی سردیوں میں جب 75میل فی گھنٹے کے رفتار سے ہوائیں چلتی ہیں تو اسے برداشت کرنا محال ہوجاتا ہے۔ لیکن سردیوں میں قریبی سہولیات تک پہنچنا محال ہوتا ہے، کیونکہ علاقہ پہاڑیوں سے بھرا ہے اور برفیلی ہوائیں کار کو ہلاکر رکھ دیتی ہیں۔

لیکن پھر یہ ہوا کہ پولر نائٹس آگئیں جن میں دن رات اندھیرے کا راج رہتا ہے اور وہ دوماہ مکمل اندھیرے میں رہیں۔ پھر مئی آگیا جس میں لگاتار دو ماہ سورج غروب ہی نہیں ہوتا اور وہ بھی ایک عجیب کیفیت تھی۔ اس دوران ان کی دوستی ایک اور اطالوی خاتون سے ہوگئی اور ان کی تنہائی کچھ کم ہوئی۔

تاہم جیسے ہی اٹلی میں کورونا وبا کا زور ٹوٹا وہ اپنے ملک دوبارہ پہنچ چکی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں