45

کشمیر کی خصوصی حیثیت بحال ہونےتک بھارت سےمذاکرات ممکن نہیں،وزیراعظم

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں 5 اگست 2019 کے اقدامات واپس نہ لئے جانے تک تعلقات بہتر نہیں ہوسکتے۔
بدھ کو اسلام آباد میں تاجکستان کے صدر امام علی رحمان کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ افغانستان سے امریکا کے انخلا کے بعد سیاسی استحکام اہم ہوگا اور پُرامن صورتحال بہت ضروری ہے۔ اگر ایسا نہ ہوسکا تو خدشہ ہے کہ 1989 میں روس کے جانے کے بعد جیسی صورتحال پیدا نہ ہوجائے جو پاکستان اور تاجکستان کے لیے نقصان دہ ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ افغانستان میں انتشار کی وجہ سے پاک تاجک تجارت بھی متاثر ہوگی اور دہشت گردی بڑھ جائے گی۔ پاکستان اور تاجکستان کو افغانستان سے آنے والے دہشت گردوں سے خطرہ ہے۔
خطے کی صورتحال پر وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاک بھارت تعلقات تعطل کا شکار ہیں۔ بھارت نے اگست 2019 میں کشمیر میں یکطرفہ کارروائی اورعالمی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے۔ پاکستان کے لیے بھارت کے ساتھ تجارت بحال کرنا ممکن نہیں ۔ ایسی صورت میں پاکستان کشمیر کے عوام کے ساتھ غداری کرے گا جو درست نہیں ہے۔پاک بھارت تعلقات بہتر نہ ہونے کا نقصان دونوں ممالک سمیت وسطی ایشیا کو بھی ہے۔ تعلقات بہتر ہونے سے پورے خطے کے تعلقات بہتر ہوسکتے ہیں۔
عمران خان نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کو دوسرا چیلنج موسمی تبدیلی کا ہے۔ دونوں ممالک کے پانی کا دارومدار گلیشئیر سے آتا ہے۔ عالمی حدت پر قابو پانے کے لیے دنیا کو کام کرنا ہوگا۔ اس معاملے پر زیادہ آواز بلند کرنے کی ضرورت ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ تاجکستان کے ساتھ تجارتی روابط مضبوط ہونگے اور گوادر کے ذریعے پاکستان تاجکستان تجارت ہوسکے گی۔انھوں نے بتایا کہ پاکستان اور تاجکستان کے ساتھ کئی مفاہمتی یاداشتوں پر دستخط ہوئے ہیں اور دو طرفہ تعلقات کو مزید استحکام دیا جائے گا۔
اسلاموفوبیا سے متعلق عمران خان نے کہا کہ حضرت محمد ﷺ کی شان میں آزادی رائے کی آڑ پر گستاخی کی جاتی ہے۔ اسلام کو شدت پسندی اور دہشت گردی سے جوڑ دیا جاتا ہے۔ ان دونوں وجوہات کی وجہ سے اسلاموفوبیا پھیل رہا ہے۔
تاجک صدر کا کہنا تھا کہ پاکستان آمد پر پُرتپاک استقبال پر شکر گزار ہیں۔ تاجکستان پاکستان کو اہم برادر ملک سمجھتا ہے۔ پاکستان کے ساتھ تجارت سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے خواہاں ہیں۔امن وامان سے متعلق پاکستان کے اقدامات کو سراہتے ہيں۔ دورہ پاکستان میں آج ہونے والے معاہدوں سے دونوں ممالک کے درمیان تعاون مزيد بڑھے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں