37

مولانافضل الرحمان نے پیپلزپارٹی قیادت کو نادان قرار دیدیا

فائل فوٹو

پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے پیپلزپارٹی کی قیادت ابھی میچور نہیں ہے کہ سیاستدانوں کے پروٹوکول کو فالو کر سکے۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے پی ڈی ایم سربراہ نے کہا کہ پیپلزپارٹی اور اے این پی کی باتیں میڈیا میں پھیلائی گئیں لیکن پی ڈی ایم سربراہی اجلاس میں پیپلزپارٹی اور اے این پی کو نہیں بلایا جائے گا۔
مولان فضل الرحمان نے کہا کہ 29مئی کو پی ڈی ایم کا سربراہی اجلاس طلب کر لیا گیا ہے جس میں جے یو آئی اپنی تجاویز دے گی اور تمام جماعتوں کی مشاورت کے بعد متفقہ لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔
جے یو آئی ف کے سربراہ نے کہا کہ پی ڈی ایم قیادت ہی بیٹھ کر دونوں جماعتوں کے متعلق فیصلہ کرے گی اور پی ڈی ایم کو بھرپور عوامی قوت کے ساتھ متحرک کیا جائے گا۔ دونوں جماعتوں کو کہا ہے انہیں اپنے فیصلوں سے ہونے والے نقصان کا ازالہ کرنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ جے یو آئی ف وقف املاک ایکٹ کو قرآن و سنت کے منافی قرار دیتے ہوئی مسترد کرتی ہے۔ متروکہ وقف قانون کو واپس لے کر شرعی حیثیت کے تعین کے لیے اسلامی نظریاتی کونسل بھیجا جائے۔
فضل الرحمان نے کہا کہ نئے بورڈز کی منظوری دے کر مدارس نے نظم و نصب کو توڑنے کی بھونڈی کوشش کی اس لیے جے یو آئی سے منسلک کوئی مدرسہ کسی سرکاری بورڈ میں شمولیت اختیار نہیں کرے گا۔
پی ڈی ایم سربراہ نے کہا کہ جے یو آئی وفاق المدارس العربیہ کو مضبوط کرے گی اور اسٹیبلشمنٹ کی پشت پناہی میں بنائے گئے بورڈ کو ماڈل مدرسہ بورڈ کی طرز پر ناکام بنائیں گے۔ ملک گیر سطح پر مدارس کنونشن بلائے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ سوچے سمجھے نظریہ کے تحت مغرب کی ننگی تہذیب فروغ دے کر معاشرے کے حسن پر بدنما دھبہ لگایا۔ قیام امن کے دعوے ہوا ہوگئے اور آئے روز دہشتگردی سے لوگوں کی جانیں جا رہی ہیں۔ فاٹا میں نیا نظام ناکام ثابت ہوا اور وہاں سے بدامنی پورے ملک میں سرائیت کر رہی ہے، قبائل کے درمیان مسلح لڑائیوں نے عام آدمی کا سکون چھین لیا ہے۔
فضل الرحمان نے کہا کہ امریکا کو ہوائی اڈے دینا ملکی آزادی کے لیے خطرہ ہے۔ ایسا فیصلہ 2001 میں بھی کیا گیا تھا تاکہ امریکا افغانستان میں طالبان کے خلاف استعمال کر سکے لیکن پاکستان کی سرزمین افغانستان کے خلاف استعمال ہونا ملک کو جنگ میں دھکیلنے کے مترادف ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایجنٹوں کے ذریعے پاپولر نعرے لگائے جاتے ہیں۔ پہلے ہی کہا تھا عمران خان ڈرون حملوں کی مخالفت کا ڈرامہ کر رہا ہے، طالبان نے دوحہ معاہدے میں غیر ملکی فوج کا انخلاء منوا لیا تھا۔ پہلے بھی ریاستی سطح پر فریق بن کر جنگ کے شعلے اپنے ملک لائے جو آج تک بجھائے نہیں جا سکی۔
پی ڈی ایم سربراہ کا کہنا تھا کہ دوبارہ پاکستانی ہوائی اڈے دینا ملکی مفاد کے خلاف اور جنگ کو دعوت دینا ہے اس لیے ہماری زمین اور فضائیں کسی کے خلاف استعمال کرنے کی منظوری نہ دی جائے۔ القاعدہ ساری زندگی امریکا کے مفاد کے لیے زندہ ہوتی رہے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں