48

مجھ سے بڑا بدقسمت کون ہوگا جس کی ساری بیٹیوں کو طلاق ہوئی — شوبز سے تعلق رکھنے والی مشہور خواتین کے دکھوں کی کہانیاں

عام طور پر لوگ کسی کی بھی اچھی قسمت کا اندازہ اس کو ملنے والی دولت اور شہرت سے کرتے ہیں مگر سمجھدار لوگ اس بات کو جانتے ہیں کہ کسی بھی قسمت کا اندازہ اس کو ملنے والی دولت یا شہرت سے نہیں لگایا جا سکتا ہے- کیوں کہ بعض دکھ ایسے بھی ہوتے ہیں جن کا نعم البدل دولت یا شہرت نہیں ہوتی ہے ایسے ہی کچھ دکھوں کے بارے میں ہم آج آپ کو بتائیں گے جو کہ ان لوگوں کو بھی ملے جن کے گھروں میں دولت اور شہرت گھر کی باندی کی صورت میں رہتی تھی-

1: اداکارہ شمیم آرا
اداکارہ شمیم آرا کا شمار ماضی کی ان اداکاراؤں میں ہوتا تھا جنہوں نے پاکستان کی فلم انڈسٹری پر راج کیا تھا جن کا نام باکس آفس میں کامیابی کی ضمانت سمجھا جاتا تھا اور اپنے وقت کے ساتھ کے تمام ہیرو کے ساتھ ان کی جوڑی کو فلم بین بہت پسند کرتے تھے- شمیم آرا اپنے عروج کے زمانے میں ہدایت کار ڈبلیو زیڈ احمد کے صاحب زادے فرید احمد کے عشق میں بری طرح مبتلا تھیں فرید احمد بھی شمیم آرا سے شادی کرنے کے خواہشمند تھے مگر ان کے والد اس شادی کے شدید مخالف تھے- مگر بہت مشکلوں سے شادی کے لیے راضی ہو گئے تھے عین شادی کے دن جب کہ شمیم آرا دلہن بنی بارات کا انتظار کر رہی تھیں اس وقت ان کے اوپر یہ دکھ کا پہاڑ ٹوٹا کہ عین وقت پر ڈبلیو زيڈ احمد اپنے بیٹے فرید احمد کو اس شادی سے روکنے میں کامیاب ہو گئے اور ان کی بارات گھر سے ہی نہیں نکلی یہ صدمہ شمیم آرا کے لیے بہت شدید تھا اور اس کو وہ ساری عمر نہیں بھول پائیں-

2: اداکارہ ثمینہ احمد
اداکارہ ثمینہ احمد کی شادی ہدایت کار ڈبلیو زیڈ احمد کے بیٹے فرید احمد سے ہوئی جو کہ شمیم آرا سے شادی کے خواہشمند تھے مگر ان کے والد نے ان کی شادی ثمینہ احمد سے کروا دی جو کہ اس وقت ٹی وی ایکٹریس تھیں- یہاں تک کہ ثمینہ احمد کو اللہ نے ایک بیٹے اور بیٹی سے بھی نواز دیا مگر اس دوران شمیم آرا دوبارہ سے فرید احمد کی زندگی میں آئیں اور انہوں نے فرید احمد کو مجبور کیا کہ وہ ثمینہ احمد کو طلاق دے کر ان سے شادی کر لیں ۔ فرید احمد نے شمیم آرا کے زور دینے پر ثمینہ احمد کو طلاق دے کر شمیم آرا سے شادی کر لی- مگر شادی کے اگلے ہی دن شمیم آرا نے پریس کانفرنس میں فرید احمد کے اوپر غیر اخلاقی الزامات لگا کر ان سے طلاق کا مطالبہ کر دیا اور اس طرح ان سے اپنی اس ہتک کا بدلہ لے لیا جو ان کی اس دن ہوئی تھی جس دن ان کے گھر فرید احمد کی بارات نہیں آئی تھی- فرید احمد اس بے عزتی کو برداشت نہ کر سکے اور چند دنوں میں ہی مر گئے اس طرح ثمینہ احمد اپنے دو بچوں کے ساتھ دنیا میں تنہا رہ گئیں-

3: ملکہ ترنم نور جہاں
ملکہ ترنم نور جہاں کے حوالے سے لوگ آج بھی ان کا نام بہت عزت سے لیتے ہیں انہوں نے بحیثیت گلوکارہ اور اداکارہ جو عروج دیکھا تھا وہ بہت کم لوگوں کے نصیب میں آتا ہے- ان کو اللہ نے چار بیٹیوں سے نوازا تھا جن کی پرورش انہوں نے بہت پیار سے کی تھی- ایک بار ان سے ایک انٹرویو میں اس کی خوش قسمتی کے حوالے سے جب سوال کیا گیا تو انہوں نے خود کو بہت ہی بدقسمت قرار دیا اپنی بدقسمتی کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ان سے زیادہ بدقسمت کون ہو سکتا ہے جس کی چار بیٹیاں ہوں اور چاروں طلاق یافتہ ہوں-

ان واقعات سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ خوشی اور خوش نصیبی کے لیے دولت کی شرط بے معنی ہے-

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں