47

متحدہ قومی موومنٹ پاکستان اختلافات اور انتشار کا شکار کیوں؟

ایک وقت تھا کہ کراچی کی دیواروں پر لکھا ہوتا تھا ‘شیشہ نہیں فولاد ہیں، ہم مہاجر کی اولاد ہیں’، ’ہم سے جو ٹکرائے گا وہ پاش پاش ہوجائے گا’ اور حقیقت بھی یہی تھی کہ ایم کیو ایم نے اپنے خلاف ہونے والی سازشوں اور آپریشن کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور مہاجروں کی وہ نمائندہ جماعت مخالفین کیلئے فولاد ہی ثابت ہوتی تھی۔ الغرض ایم کیو ایم ایک مضبوط چٹان کی مانند تھی اور ہر طرح کے حالات و واقعات کے باوجود اس کا ووٹ بینک متحد رہا جسے توڑنے کی بارہا کوشش بھی کی گئی لیکن اسے توڑا نہ جاسکا۔
سن 1987ء میں ایم کیو ایم نے پہلی بار بلدیاتی انتخابات میں حصہ لیتے ہوئے کراچی اور حیدرآباد سے میئر اور ڈپٹی میئر منتخب کرائے اور اس کے بعد ایم کیو ایم کی کامیابیوں کا ایک نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہوا۔ اپنے قیام کے بعد ایم کیو ایم نے پہلی بار سن 1988ء کے انتخابات میں حصہ لیتے ہوئے قومی اسمبلی کی 13 نشستوں پر کامیابی حاصل کی۔ ایم کیو ایم نے سندھ کے شہری علاقوں پر اپنی گرفت مضبوط رکھتے ہوئے سن 2013ء تک قومی اور صوبائی اسمبلی کی سیٹوں پر کامیابی کے تسلسل کو برقرار رکھا اور کامیابیوں کا وہ سلسلہ 30 سال تک جاری رہا۔ پھر ایسا کیا ہوا کہ مسلسل کامیابی حاصل کرنے والی جماعت سن 2018ء میں 6 سیٹوں تک محدود ہوکر رہ گئی۔ چٹان جیسی مضبوط جماعت ریت کے پہاڑ کی طرح ایک ہی طوفان میں بکھر گئی، مگر روایتی انداز اپناتے ہوئے ہر بار کی طرح ایم کیو ایم آج بھی وفاقی حکومت کا حصہ ہے۔
ایم کیو ایم اور پی ٹی آئی کے درمیان جو معاہدہ طے پایا تھا اُس پر ڈھائی سال میں تو عمل نہیں ہوا، جہاں تک ایم کیو ایم کے سابقہ سیکٹر اور یونٹ آفس کھولنے اور لاپتہ افراد کی بازیابی کی بات ہے وہ تو وزیراعظم عمران خان کے اختیار سے باہر کا معاملہ ہے جبکہ کراچی پیکیج پر عملدرآمد، حیدرآباد یونیورسٹی کا قیام اور مردم شماری کے نتائج کی درستگی پر بھی کوئی پیشرفت نظر نہیں آرہی۔ عمران خان کے اعتماد کے ووٹ کے وقت ایم کیو ایم پاکستان کے پاس ایک سنہرا موقع تھا کہ جب وہ دباؤ ڈال کر اپنے کسی ایک مطالبے کو منواسکتی تھی مگر یہاں بھی ایم کیو ایم نے اپنے ووٹر کو مایوس کیا۔
ایم کیو ایم (پاکستان) جس کے پہلے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار تھے اور جس کی بنیاد 23 اگست 2016ء کو رکھی گئی تھی اُس وقت سے ایم کیو ایم میں انتشار، اختلافات اور گروپ بندی کا سلسلہ جاری ہے۔ ایم کیو ایم کے اندرونی ذرائع کے مطابق اِس وقت سب سے زیادہ اختلاف اس بات پر ہے کہ آیا اب بھی ایم کیو ایم کو تحریک انصاف کے ساتھ چلنا چاہئے یا پھر اس سے علیحدہ ہوجانا چاہئے۔
جو لوگ یہ سوچتے ہیں کہ ہمیں اب وفاقی حکومت سے علیحدہ ہوجانا چاہئے۔ ان کا کہنا ہے کہ 2 سال بعد جب ہم الیکشن مہم میں جائیں گے تو اپنی ناکامیوں کے ساتھ تحریک انصاف کی نااہلی اور ناکامی کا بھی جواب دینا ہوگا۔ یہ گروپ چاہتا ہے کہ تحریک انصاف کے ساتھ مزید رہنے سے بہتر ہے کہ ہمیں پیپلز پارٹی سے اتحاد کرلینا چاہئے۔
کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن، کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ، کے ڈی اے اور سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی میں مہاجروں کی بڑی تعداد کا مستقبل ان اداروں سے وابستہ ہے، ان کے مسائل سندھ حکومت کے ساتھ مل کر ہی حل کیے جاسکتے ہیں۔ پارٹی کے اندر یہ سوال بھی اُٹھایا جاتا ہے کہ ڈھائی سالوں میں وفاق کے کوٹے پر کراچی کے کتنے نوجوانوں کو ملازمتیں ملیں؟، تحریک انصاف کا ساتھ دینے سے ہمیں کیا ملا؟۔ اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی سے اتحاد کی صورت میں آئندہ انتخابات میں انتظامی طور پر بھی سپورٹ مل جائے گی۔ ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کا کراچی کی چند سیٹوں پر ہی سخت مقابلہ ہوتا ہے جن پر ایک دوسرے سے تعاون کیا جاسکتا ہے مگر تحریک انصاف ہر اُس سیٹ پر الیکشن لڑے گی، جہاں سے وہ کامیاب ہوئی ہے لہٰذا بہتر ہے کہ نئے انتخابات سے پہلے وفاقی حکومت سے راہیں جدا کرلی جائیں۔
فوٹو: آن لائن
ایم کیو ایم میں یہ تصور بھی مشکل تھا کہ کوئی پارٹی چھوڑ کر کسی اور جماعت میں شامل ہوگا۔ ایم کیو ایم سے مایوس اور نئی امیدیں سجائے سابقہ رابطہ کمیٹی کے ارکان، سابق ممبر صوبائی و قومی اسمبلی، مختلف شعبہ جات اور اے پی ایم ایس او کے مرکزی ذمہ دار بھی پیپلز پارٹی میں شامل ہورہے ہیں۔ پارٹی کے کئی اہم رہنماء پیپلز پارٹی کی مرکزی قیادت سے رابطے میں ہیں اور قوی امکان ہے کہ وہ مناسب وقت پر پیپلز پارٹی میں شامل ہوجائیں۔
ایم کیو ایم چھوڑنے والوں کو اس بات کا بخوبی اندازہ ہے کہ یہاں کوئی مستقبل نہیں، کیوں نہ کہیں اور قسمت آزمائی جائے، اگر انتخابات میں کامیابی نہ ملی تو کم از کم تحفظ تو ملے گا۔ آئندہ انتخابات میں اُس وقت دلچسپ صورتحال ہوگی جب ایک ہی سیٹ پر مختلف جماعتوں کے ٹکٹ پر ایم کیو ایم کے موجودہ اور سابق امیدوار آپس میں مد مقابل ہوں گے۔
انتخابات میں ہار جیت ہوتی رہتی ہے لیکن سن 2018ء کے انتخابات کے بعد ایم کیو ایم جس تیزی سے موتیوں کی طرح بکھر رہی ہے اس کی کئی وجوہات ہیں۔ گروپ بندی، اختلافات، پسند نا پسند اور اختیارات کا حصول جیسی خامیاں ایم کیو ایم میں شروع دن سے موجود تھیں۔ آفاق احمد، عامر خان، بدر اقبال اور منصور چاچا سمیت کئی ذمہ داروں کی ایم کیو ایم سے علیحدگی ان ہی وجوہات کی بناء پر تھی۔ سن 1990ء میں غداری کے بعد بانی ایم کیو ایم الطاف حسین نے پارٹی اسٹرکچر یعنی چیئرمین، سیکریڑی جنرل، نشر و اشاعت، خزانچی جیسے عہدوں کو ختم کرکے رابطہ کمیٹی بنائی تھی۔ رابطہ کمیٹی کے ارکان کو مختلف اوقات میں مختلف ذمہ داریاں سونپی جاتی تھیں، مقصد یہ تھا کہ اگر کوئی غداری کرتا ہے یا کسی کو پارٹی سے نکالا جاتا ہے تو بیس، پچیس رکنی رابطہ کمیٹی میں سے ایک دو افراد کے نکل جانے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ رابطہ کمیٹی کا اسٹرکچر رکھنے کا مقصد یہی تھا کہ پارٹی میں موجود گروپ بندی کے عمل کو وقت پر ہی ختم کیا جاسکے۔ بانی ایم کیو ایم کو ان کے آئین نے یہ اختیار دیا تھا کہ وہ کسی بھی وقت ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی کو توڑ سکتے تھے اور ممبر رابطہ کمیٹی کی رکنیت معطل کرسکتے تھے۔
عامر خان نے جب سن 2011ء میں اپنی جماعت مہاجر قومی موومنٹ (حقیقی) سمیت ایم کیو ایم میں شمولیت اختیار کی تھی تو اس وقت کچھ لوگوں نے اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا جبکہ کچھ نے اس کو ایم کیو ایم کی کامیابی قرار دیا۔ چند ماہ بعد بانی ایم کیو ایم نے فیصلہ کیا کہ عامر خان کو ذمہ داری دی جائے کہ وہ پارٹی کے تنظیمی اسٹرکچر کی تنظیم نو کریں۔ ایک طرف بانی ایم کیوایم خالد مقبول صدیقی اور عامر خان کو اہم ذمہ داریاں دینا چاہتے تھے تو دوسری طرف رابطہ کمیٹی اور تنظیمی کمیٹی کی جانب سے اس کی مخالفت کی جارہی تھی۔ لندن کو بتایا جاتا تھا کہ سیکٹر اور یونٹ اس فیصلے سے خوش نہیں ہیں۔
کراچی، 22 اگست 2016ء: رینجرز اہلکار ایم کیو ایم کے مرکزی دفتر نائن زیرو کے باہر کھڑے ہیں۔ فوٹو : اے ایف پی
اس وقت چوں کہ سن 2013ء کے الیکشن سر پر تھے لہٰذا طے پایا کہ اس معاملے پر الیکشن کے بعد فیصلہ کیا جائے گا۔ انتخابات میں تحریک انصاف کراچی سے دوسری بڑی جماعت بن کر سامنے آئی۔ متحدہ قومی موومنٹ کے گڑھ حلقہ این اے 246 سے تحریک انصاف کو 32 ہزار ووٹ ملے، تحریک انصاف کو ملنے والے ووٹوں پر بانی ایم کیو ایم نے رابطہ کمیٹی اور تنظیمی کمیٹی سے شدید ناراضگی کا اظہار کیا۔ پارٹی کے سینئر رہنماء کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم میں اندرونی اختلافات کی بنیاد اس وقت بہت زیادہ گہری ہوئیں جب نائن زیرو پر چند کارکنوں نے اس وقت کی رابطہ کمیٹی کی تذلیل کی اور انہیں تشدد کا نشانہ بنایا، جس کے بعد کئی مرکزی رہنماء پارٹی چھوڑ کر چلے گئے اور کچھ نے چند ماہ بعد علیحدگی اختیار کرلی۔
ناراض سابق رابطہ کمیٹی ممبر کا کہنا ہے کہ یہ سب ایک منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا ہے، اگر لندن رابطہ کمیٹی کا ٹیلی فون آپریٹر بھی فون کرکے کہتا کہ کل سے نائن زیرو مت آنا، ہم خاموشی سے سب کچھ چھوڑ کر چلے جاتے۔
کچھ عرصے بعد ہی بانی ایم کیو ایم نے رابطہ کمیٹی کے کچھ ارکان کو معطل اور کچھ کو کارکن کی حیثیت سے اپنے علاقے سے کام کرنے کی ہدایت کی۔ نئی رابطہ کمیٹی کی تنظیم نو کرتے ہوئے انہوں نے خالد مقبول صدیقی اور عامر خان کو اہم ذمہ داریاں اور اختیارات دیے کہ وہ پارٹی کو مضبوط اور منظم کریں گے۔ بانی ایم کیو ایم کے فیصلے کو مرکزی ذمہ داروں، سیکٹر، یونٹ کے کارکنوں کی بڑی تعداد نے دل سے قبول نہیں کیا۔ انہوں نے پارٹی سے علیحدگی تو اختیار نہیں کی مگر آہستہ آہستہ کنارہ کشی اختیار کرنا شروع کردی۔ ایک ایسے وقت میں جبکہ ایم کیو ایم نازک موڑ سے گزر رہی تھی نائن زیرو پر چھاپے، کارکنوں کی گرفتاریوں، اندرونی اختلافات اور سازشوں کی وجہ سے پارٹی کو مشکلات کا سامنا تھا، کراچی پریس کلب کے سامنے بانی ایم کیو ایم کی ایک تقریر نے سب کچھ بدل کر رکھ دیا۔ چوبیس گھنٹے متحرک اور سرگرم رہنے والا ایم کیو ایم کا مرکز نائن زیرو، خورشید بیگم میموریل ہال، ایم پی اے ہاسٹل، شعبہ نشر و اشاعت، تمام سیکٹر اور یونٹ کو ایک ہی رات میں سیل کردیا گیا۔
ایک ہی رات میں متحدہ قومی موومنٹ (پاکستان) اور (لندن) میں تقسیم ہوگئی۔ ڈاکٹر فاروق ستار ایم کیو ایم پاکستان کے متفقہ طور پر سربراہ بن گئے۔ انہوں نے پارٹی پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ 22 اگست کے حادثے کے بعد اور اس دلخراش واقعے کے بعد جو فیصلہ 23 اگست کو کیا تھا میں پوری زندگی اس پر قائم رہوں گا۔ 22 اگست بذات خود ایم کیو ایم کی پالیسی کی سب سے بڑی نفی تھی، ایم کیو ایم کے نظریے کی نفی تھی، ایم کیو ایم کے آئین کی نفی تھی، پاکستان کے آئین کی نفی تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ 23 اگست کو ہم نے ایک لکیر کھینچ دی، جس کے بعد پارٹی کی فیصلہ سازی اور دیگر معاملات کا تعلق لندن سے نہیں رہا اور جب ہمارا لندن سے کوئی تعلق نہیں تو اس کا مطلب الطاف صاحب سے بھی کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے واضح کیا تھا کہ متحدہ قومی موومنٹ پاکستان، پاکستان کے خلاف کسی بھی ہرزہ سرائی، پاکستان مخالف کسی بھی نعرے کو اپنے پلیٹ فارم سے دہرانے کی اجازت نہیں دے گی۔
ایم کیو ایم کی سیاسی سرگرمیوں کا پہلا مرکز فاروق ستار کا گھر (پی آئی بی) اور پھر بہادرآباد بنا۔ کارکنوں کو امید تھی ایم کیو ایم کے رہنماء پارٹی کو مزید بکھرنے نہیں دیں گے، مہاجر ووٹ کو تقسیم نہیں ہونے دیں گے، مہاجر شہداء کی قربانیوں کی لاج رکھیں گے مگر کارکنوں کی خواہشات کے برعکس ذمہ داروں نے ایم کیو ایم پر قبضہ کرنے کیلئے اپنی اپنی تلواریں تیز کرنا شروع کردیں۔ ڈاکٹر فاروق ستار پارٹی کے سربراہ تو بن گئے تھے مگر ان کی سربراہی کو دل سے قبول نہیں کیا گیا۔ سن 2017ء کے آتے آتے ڈاکٹر فاروق ستار اور عامر خان کے درمیان مزید دوریاں بڑھ گئیں اور سن 2018ء کے انتخابات اور سینیٹ الیکشن میں یہ اختلافات اپنے پر عروج پر پہنچ گئے، جس کے نتیجے میں فاروق ستار کو ایم کیو ایم کی سربراہی بلکہ ایم کیو ایم سے ہی ہاتھ دھونا پڑگیا۔
پی آئی بی گروپ سے تعلق رکھنے والے ایک پرانے کارکن کے مطابق الیکشن کے معاملے پر پی آئی بی اور بہادر آباد گروپ بظاہر ایک پلیٹ فارم پر آگئے تھے لیکن اندرون خانہ صورتحال مختلف تھی اور دلوں کے فاصلے کم نہیں ہوئے تھے۔ انتخابی ٹکٹوں کی تقسیم کے مرحلے پر پی آئی بی گروپ کو نظر انداز کیا گیا، فاروق ستار الیکشن ہار گئے اور یہ سب کچھ حسن اتفاق نہیں تھا بلکہ ایک سوچا سمجھا پلان تھا۔
الیکشن سے قبل ہی نظر آرہا تھا کہ فاروق ستار کو پارٹی کی تنظیمی سطح پر سپورٹ حاصل نہیں لیکن اس کے باوجود فاروق ستار نے بحالت مجبوری 2 سیٹوں پر الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا۔ فاروق ستار کا کہنا تھا کہ میں پارٹی کی تقسیم نہیں چاہتا اور سب کو ساتھ لے کر چلنا چاہتا تھا لیکن ایک منصوبہ بندی کے تحت مجھے پارٹی سے نکلنا ہی ان کا مقصد تھا۔
اختلافات، انتشار اور گروپ بندی کی وجہ سے ایم کیو ایم پاکستان، پی آئی بی گروپ اور بہادر آباد میں تقسیم در تقسیم کا شکار رہی ہے۔ حالات اس نہج تک پہنچ گئے کہ لڑائی پہلے الیکشن کمیشن اور پھر اسلام آباد ہائیکورٹ تک پہنچ گئی۔ بالآخر سینیٹر فروغ نسیم کی قانونی معاونت کی بدولت 11 جون 2018ء کو بہادر آباد گروپ نے مقدمہ جیت لیا اور یوں پارٹی کی سربراہی خالد مقبول صدیقی کو مل گئی، جس کے بعد دونوں نے علیحدہ علیحدہ یوم تاسیس منایا۔ اس فیصلے کے بعد بھی پی آئی بی گروپ ایم کیو ایم کا نام، پرچم اور پتنگ کا نشان استعمال کررہی تھی۔ یہ بات بھی بہادر آباد کو پسند نہیں آئی جس پر ایم کیو ایم پاکستان نے 7 جنوری 2019ء کو فاروق ستار کو پارٹی کا پرچم اور نام استعمال نہ کرنے کا قانونی نوٹس بھیج دیا۔ اس نوٹس کے بعد اختلافات اور ناراضگی کا بڑھ جانا قدرتی عمل تھا۔ متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے رہنماؤں کی جانب سے پارٹی کے اندر اختلافات کی مسلسل تردید کی جاتی رہی ہے جبکہ ڈاکٹر فاروق ستار نے اس بات کی تصدیق کی کہ ناصرف پارٹی کے اندر اختلافات ہیں بلکہ اب ایم کیو ایم ’نشان عبرت‘ بن گئی ہے۔
ایم کیو ایم پاکستان اپنی مقبولیت کیوں کھوتی جارہی رہے اور اس کی گرفت پارٹی پر کیوں کمزور پڑ رہی ہے۔ پارٹی کے ایک سینئر رہنماء کا کہنا ہے کہ نظم و ضبط پارٹی کا اساس تھا لیکن اب بدقسمتی سے سب زیادہ کمی نظم و ضبط، اتحاد، ایثار اور قربانی کی محسوس کی جارہی ہے، ہر ذمہ دار پارٹی مفادات سے زیادہ اپنے مفادات کو ترجیح دے رہا ہے۔ 5 سال ہونے کو آرہے ہیں ایم کیو ایم کے تمام دھڑے اپنی اپنی بقاء کی جنگ لڑ رہے ہیں، سیاسی تنظیمی ڈھانچہ تباہ حالی اور انتشار کا شکار ہے۔
پارٹی پر قبضے کی جنگ آج بھی جاری ہے اور ایم کیو ایم کے ووٹر، سپورٹر اور کارکن جنہوں نے ایم کیو ایم کی کامیابی میں ہمیشہ اہم کردار ادا کیا ہے، وہ اس صورتحال سے مایوس ہو کر دوسری جماعتوں کا رخ کررہے ہیں۔ پاک سر زمین اور ایم کیو ایم کے کچھ رہنماؤں نے جو آج کل دونوں طرف متحرک نہیں۔ انہوں نے نئی جماعت بنانے کی منصوبہ بندی مکمل کرلی تھی لیکن ایم کیو ایم کے موجودہ گروپس کی کراچی اور حیدرآباد میں غیر مقبولیت کی وجہ سے انہوں نے خاموش رہنا ہی بہتر سمجھا اور فیصلہ کیا کہ اب گراؤنڈ سے باہر بیٹھ کر تماشہ دیکھا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں