45

عدالت نے نیب کومحمد صفدرکی گرفتاری سے روک دیا

پشاور ہائی کورٹ نے مسلم لیگ ن کے رہنما اور مریم نواز کے شوہر کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر کی ضمانت قبل از گرفتاری منظور کرلی ہے۔
منگل 27 اپریل کو پشاور ہائی کورٹ میں کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر کی درخواستِ ضمانت پر محفوظ کیا گیا فیصلہ سنا دیا گیا۔
پشاور ہائی کورٹ کے جسٹس لعل جان کی سربراہی میں بینچ نے کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر کی درخواستِ ضمانت کا فیصلہ سناتے ہوئے ان کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست منظور کرتے ہوئے پولیس کو ان کی گرفتاری سے روک دیا۔
عدالت کے مطابق ضمانت قبل از گرفتاری سے متعلق تفصیلی فیصلہ کچھ دیر بعد میں جاری کیا جائے گا۔ دائر درخواست پر گزشتہ سماعتوں میں دونون جانب سے وکلا نے اپنے دلائل مکمل ہوئے۔ کیس کی سماعت 5 سے 6 ماہ تک جاری رہی۔
اس سے قبل محمد صفدر کی عدم موجودگی پر فیصلہ 22 اپریل کو مؤخر کردیا گیا تھا۔ کیپٹن ریٹائرڈ صفدر نے نیب کی گرفتاری سے بچنے کیلئے درخواستِ ضمانت قبل از گرفتاری دائر کی تھی۔
یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) میاں نواز شریف کے داماد کے خلاف آمدن سے زائد اثاثوں اور فنڈز میں خورد برد کی انکوائری کر رہا ہے۔ نیب کی جانب سے ان کی گرفتاری کے وارنٹ بھی جاری کیے گئے تھے۔ تاہم ہائی کورٹ احکامات کی روشنی میں گرفتاری سے 10 روز قبل انہیں آگاہ کیا جائے گا۔
سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو میں محمد صفدر کا کہنا تھا کہ پشاور ہائی کورٹ میں شکرانے کے نفل ادا کیے ہیں۔ ضمانت ملنے پر خوش ہوں۔ فیصلے پر ہائی کورٹ کا شکر گزار ہوں، مدینہ منورہ میں مانگی گئی دعائیں قبول ہوگئیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں