31

انڈیا میں کورونا وائرس کی وبا: ‘بلیک مارکیٹ میں آکسیجن سیلنڈروں کی قیمت دس گنا بڑھ گئی ہے‘

انڈیا میں آکسیجن اور ادویات کی چور بازاری کی وجہ سے کووڈ کے مریضوں کا گھروں پر علاج مشکل ہو گیا ہے۔ بی بی سی نے اپنے طور پر آکسیجن فراہم کرنے والے متعدد سپلایرز کو فون کیا اور قیمت پوچھی تو ان میں سے زیادہ تر نے عام قیمت سے کم از کم 10 گنا زیادہ قیمت مانگی۔

انوشا پریا کے سُسر کی حالت کورونا سے بگڑتی جا رہی تھی مگر بہت تلاش کرنے پر بھی انھیں دلی یا اس کے مضافاتی علاقے نوئیڈا میں اپنے سُسر کے لیے ہسپتال کا بستر نہیں ملا۔ اتوار کا دن انھوں نے آکسیجن سیلنڈر تلاش کرتے گزارا، مگر یہاں بھی وہ کامیاب نہ ہوسکیں۔

آخرکار انوشا نے بلیک مارکیٹ کا رخ کیا۔ انھوں نے 50 ہزار انڈین روپے (تقریباً 670 ڈالر) دے کر ایک ایسا سیلنڈر خریدا جو عام دنوں میں چھ ہزار روپے کا ملتا ہے۔ دوسری جانب انوشا کی ساس کو بھی سانس میں دشواری ہو رہی تھی اور انوشا کو پتا تھا کہ ہو سکتا ہے کہ وہ بلیک مارکیٹ سے اپنی ساس کی سانسیں بحال رکھنے کے لیے ایک اور سیلنڈر نہ خرید سکیں۔

یہ کہانی کوئی انوکھی نہیں ہے۔ دلی اور نوئیڈا میں کیا، یہ حالات لکھنؤ، الہ آباد، اندور اور انڈیا کے بہت سے شہروں میں دیکھے جا سکتے ہیں۔ لوگ اپنے پیاروں کی جانیں بچانے کے لیے گھروں پر عارضی انتظامات کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں کیونکہ ہسپتال اپنی گنجائش سے زیادہ بھر چکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

آکسیجن کی فراہمی میں مودی حکومت کی ناکامی کے اسباب

موت کے منڈلاتے سائے میں ڈری سہمی دلی کا آنکھوں دیکھا حال

مگر انڈیا کی زیادہ تر آبادی گھر پر صحت کے عارضی انتظامات کرنے کے لیے درکار مالی وسائل نہیں رکھتی۔ ایسی بہت سی رپورٹس آئی ہیں کہ لوگ ہسپتالوں کے دروازوں پر پڑے پڑے دم توڑ گئے کیونکہ وہ بلیک مارکیٹ میں انتہائی مہنگے داموں پر دستیاب ادویات یا آکسیجن نہیں خرید سکتے تھے۔

بی بی سی نے اپنے طور پر آکسیجن فراہم کرنے والے متعدد سپلایرز کو فون کیا اور قیمت پوچھی تو ان میں سے زیادہ تر نے عام قیمت سے کم از کم 10 گنا زیادہ قیمت مانگی۔

حالات دلی میں سب سے زیادہ خراب ہیں جہاں انتہائی نگہداشت کے کوئی بستر نہیں بچے۔ جو خرچہ اٹھا سکتے ہیں وہ نرسیں اور ڈاکٹروں کو انٹرنیٹ کے ذریعے فیسں دے کر مشورے لے رہے ہیں تاکہ ان کے پیاروں کی سانسیں چلتی رہیں۔

مگر مشکل ہر موڑ پر ہے، بلڈ ٹیسٹ کروانے سے لے کر سی ٹی سکین یا ایکس رے کروانے تک لیباٹریوں میں رش لگا ہوا ہے اور ٹیسٹ کے نتائج حاصل کرنے میں تین، تین دن تک لگ رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ڈاکٹروں کو نہ مرض کی تیزی کا اندازہ ہو رہا ہے نہ وہ اس کا علاج کر پا رہے ہیں۔

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ یہ تاخیر بہت سے لوگوں کی جانیں خطرے میں ڈال رہی ہے۔ میں خود ایسے کئی مریضوں کو جانتا ہوں جنھیں بستر تو مل گیا مگر وہ ہسپتال میں داخل اس لیے نہیں ہو سکے کیونکہ ان کے پاس کووڈ کا ٹیسٹ نہیں تھا۔

انوج تیواری نے اپنے بھائی کے علاج کے لیے گھر پر ایک نرس رکھ لی ہے کیونکہ انھیں کئی ہسپتالوں سے داخلے کے لیے منع کیا جا چکا تھا۔

کچھ ہسپتال کہتے تھے کہ ان کے پاس بستر نہیں تو کچھ کہتے تھے کہ آکسیجن کی غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے وہ مزید مریض داخل نہیں کر رہے ہیں۔ دلی میں تو آکسیجن کی کمی کی وجہ سے بہت سے لوگوں کی موت ہوئی ہے۔ شہر کے ہسپتال اس قدر دباؤ کا شکار ہیں کہ وہ عوامی سطح پر اعلان کر رہے ہیں کہ ان کے پاس کتنے گھنٹوں کی آکسیجن بچ گئی ہے۔ پھر حکومت حرکت میں آتی ہے، سیلنڈر بھیجے جاتے ہیں تو کام کچھ وقت کے لیے آگے چلتا ہے۔

ہسپتالوں کی صورتحال دیکھ کر تیواری نے ایک آکسیجن بنانے کی مشین انتہائی مہنگے داموں خریدی تاکہ اُن کے بھائی کی سانسیں چلتی رہیں۔ تیواری کو ڈاکٹروں نے وائرس کش دوا ریمڈیسویر کا انتظام کرنے کے لیے بھی کہا۔ مگر انھیں یہ دوا نہیں ملی۔ ان کے بھائی کی حالت بگڑتی جا رہی ہے اور ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ جلد انھیں کسی ہسپتال کی ضرورت پڑے جہاں یہ دوا فراہم کی جا سکے۔

وہ بتاتے ہیں کہ ’یہاں ہسپتالوں میں بستر نہیں ہیں۔ میں کیا کر سکتا ہوں۔ میں انھیں کہیں اور نہیں لے جا سکتا کیونکہ پہلے ہی مختلف ہسپتالوں کے چکر لگا لگا کر میرے پاس جو جمع پونجی تھی وہ خرچ ہو چکی ہے۔ اب مزید رقم نہیں ہے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ کورونا مریضوں کی جان بچانے کی جنگ اب ہسپتالوں سے گھروں میں منتقل ہو چکی ہے، اور یہ مشکل اس لیے محسوس ہو رہی ہے کیونکہ ہمیں آکسیجن تک رسائی نہیں ہے۔

ریمڈیسیور کی اگرچہ مانگ بہت ہے مگر اس کی قلت بھی ہے اور بہت سے خاندان اسے حاصل کرنے کی تگ و دو میں مصروف ہیں۔

بی بی سی نے بہت سے ڈیلرز سے بات کی ہے جنھوں نے بتایا کہ اس دوا کی سپلائی کافی شارٹ ہیں اور اسی لیے وہ اسے اتنی زیادہ قیمت پر فروخت کر رہے ہیں۔ انڈیا بھر میں حکومت نے سات دوا ساز کمپنیوں کو ریمڈیسیور بنانے کی اجازت دے رکھی ہے اور حال ہی میں انھیں پروڈکشن میں اضافہ کرنے کی ہدایات بھی جاری کی گئی ہیں۔

حکومت کی جانب سے اس دوا کی مناسب ترسیل کے تمام تر دعوے نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوئے ہیں۔ ماہر وبائیات ڈاکٹر للت کانت کہتے ہیں کہ دوا کی پروڈکشن میں اضافے کا فیصلہ بہت تاخیر سے لیا گیا اور یہ کہ حکومت کو کورونا کی دوسری ممکنہ لہر کے لیے تیار رہنا چاہیے تھا۔

انھوں نے کہا کہ ’یہ دوا بلیک مارکیٹ میں دستیاب ہے جو کہ اس بات کے امکان کو ظاہر کرتی ہے کہ اس دوا کے سپلائی سسٹم میں لیکیج ہے جس پر قابو پانے میں ریگولیٹر ناکام نظر آ رہے ہیں۔‘

ڈاکٹر کانت کے مطابق ’ہم نے کورونا کی پہلی لہر سے کچھ نہیں سیکھا۔‘

ایک اور دوا جس کی بہت مانگ ہے، اور وہ ہے ٹوسلزیماب۔ یہ دوا عام طور پر جوڑوں کی سوزش کی بیماری آرتھرایٹس کے شکار مریضوں کو دی جاتی ہے لیکن تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ دوا کورونا سے شدید علیل مریضوں کے لیے فائدہ مند ہے اور انھیں وینٹیلیٹرز پر جانے سے بچاتی ہے۔

ڈاکٹر ایسے مریضوں کے لیے یہ دوا تجویز کر رہے ہیں جو شدید بیمار ہیں۔ لیکن یہ دوا بھی مارکیٹ سے غائب ہو چکی ہے۔ انڈیا کی کمپنی سپلا جو یہ دوا درآمد کرتی ہے اور اسے بیچتی ہے اس کے لیے اس دوا کی مانگ پوری کرنا مشکل ہو چکا ہے۔

عام طوراس دوا کی چار سو ملی گرام کی شیشی 32 ہزار 480 روپے میں دستیاب ہوتی ہے لیکن کمال کمار جن کے والد بیمار ہیں انھوں نے اس دوا کی ایک شیشی کے لیے دو لاکھ پچاس ہزار روپے ادا کیے ہیں۔ ان کا کہنا تھے کہ قیمت حیران کن تھی لیکن ان کے پاس اتنی مہنگی دوا لینے کے علاوہ کوئی چارہ بھی نہیں تھا۔

صحت عامہ کے ماہر اننت بھان کا کہنا ہے کہ حکومت کو اس دوا کو بڑی مقدار میں تیار کروانا چاہیے تھا تاکہ وہ لوگ بھی یہ دوا لے سکتے جو بلیک مارکیٹ سے یہ دوا مہنگے داموں خریدنے کی سکت نہیں رکھتے۔

اننت بھان کا کہنا ہے: ‘یہ ظاہر کرتا ہے کہ کوئی منصوبہ بندی نہیں تھی، حکومت اس لہر کا اندازہ نہیں لگا سکی ہے۔ لوگوں کو ان کے اپنے حال پر چھوڑ دیا گیا ہے۔’

جعل سازی
اب ایسی ادویات جنھیں کورونا سے متاثرہ افراد کو تجویز کیا جا رہا ہے ان میں ریمڈیسیوربھی ایک ہے۔ اب مارکیٹ میں اس نام سے جعلی ادویات بیچی جا رہی ہیں۔ جب بی بی سی نے ایک ڈیلر سے کہا کہ جو دوا وہ بیچ رہا ہے وہ جعلی ہے کیونکہ اس کو بنانے والی کمپنی کو انڈیا میں دوا بنانے کا لائسنس جاری نہیں کیا گیا ہے، تو ان جواب تھا: ‘یہ سو فیصد اصلی ہے۔’

اس دوا کی پیکنگ پر بے شمار سپیلنگ کی غلطیاں ہیں لیکن اس ڈیلر نے بی بی سی کے رپورٹر کی بات کو جھٹلاتے ہوئے کہا کہ کسی بھی لیبارٹری سے ٹیسٹ کروا لیں۔ ریمڈیسیور بنانے والی کمپنی کا ذکر انٹرنیٹ پر بھی موجود نہیں ہے۔

Getty Images
لیکن لوگ اتنے مجبور ہیں کہ وہ ایسی مشکوک ادویات بھی خریدنے پر تیار ہیں اور بعض اوقات ان کے ساتھ دھوکہ بھی ہو چکا ہے۔ صارفین ایسے لوگوں کے فون نمبر شیئر کر رہے ہیں جو آکسیجن سے لے کر ادویات تک مہیا کرا سکتے ہیں لیکن ایسے تمام نمبر تصدیق شدہ نہیں ہیں۔

ایک آئی ٹی ورکر جو اپنا نام ظاہر نہیں کرنا چاہتے انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ آکسیجن سیلنڈر اور ریمڈیسیورخریدنا چاہتے تھے۔ انھیں ٹوئٹرپر کسی شخص کا معلوم ہوا جو یہ بیچ رہا تھا۔ جب انھوں نے اس شخص سے رابطہ کیا تو انھیں کہا گیا کہ دس ہزار روپے ایڈونس جمع کرانے ہوں گے۔’جب میں نے رقم بھیج دی تو اس شخص نے میرانمبر بلاک کر دیا۔’

مصیبت کی اس گھڑی میں لوگ کسی پر بھی بھروسہ کرنے کے لیے تیار ہیں جس سے کالابازاری خوب پھل پھول رہی ہے۔ کئی ریاستی حکومتوں نے بلیک مارکیٹ میں جعلی ریمڈیسیور بیچنے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن کا وعدہ کیا ہے اور کچھ لوگوں کو گرفتار بھی کیا گیا ہے لیکن بلیک مارکیٹ کا کاروباربغیر کسی رکاوٹ کے چل رہا ہے۔

مسٹر تیواری کا کہنا ہے کہ ان جیسے لوگوں کے پاس زیادہ ادائیگی کے علاوہ کوئی اور راستہ ہی نہیں ہے۔

’ایسا لگتا ہے کہ آپ کا ہسپتال میں بھی علاج نہیں ہو سکتا اور اب آپ گھر پر بھی اپنے پیاروں کو نہیں بچا سکتے۔’

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں