37

آپ تو ایک وقت میں چار فائل بھی نہیں اٹھا سکتیں… 32 انٹرویو میں ریجیکٹ ہونے والی زنیرہ ایک کامیاب بزنس وومن اور ٹیچر کیسے بنیں؟

ویسے تو معذور افراد کو معاشرے کے تلخ رویوں کا سامنا کرنا ہی پڑتا ہے لیکن اگر کسی عورت میں زرا سی بھی کمی رہ جائے تو اسے معذور نہ ہوتے ہوئے بھی اپاہج سمجھا جاتا ہے- ایسا ہی کچھ ہوا زنیرہ رضوان طارق کے ساتھ جو اب بزنس وومن اور ٹیچر ہیں۔ زنیرہ، خواجہ سراؤں کو آن لائن کلاسز کے ذریعے اردو، سائنس اور ریاضی کے مضامین پڑھاتی ہیں۔

لوگ کہتے تھے تم کسی معذور سے شادی کرنا
زنیرہ کہتی ہیں کہ لوگ انھیں کہتے تھے کہ تم کسی معذور انسان سے شادی کرنا تو میرا جواب ہوتا تھا کہ نہیں میں کسی نارمل شخص سے شادی کروں گی کیونکہ میں خود بھی نارمل ہوں، لوگ کہتے ہیں کہ انھیں عام لڑکیوں یا لڑکوں کی شادیاں دیکھ کر حسد ہوجاتا ہے لیکن میں کہتی ہوں حسد نہیں خواہشات ہوتی ہیں اور ہر انسان میں ہوتی ہیں ” ۔ زنیرہ کے بقول وہ لوگ جو انھیں کم مائیگی کے طعنے دیا کرتے تھے جب 2018 میں زنیرہ کی شادی ہوئی تو ان کے سوالات بدل گئے پھر وہ پوچھنے لگے کہ جہیز میں کیا لے کر جارہی ہو؟ تمھاری شادی کیسے ہوگئی وغیرہ وغیرہ۔
ویسے تو معذور افراد کو معاشرے کے تلخ رویوں کا سامنا کرنا ہی پڑتا ہے لیکن اگر کسی عورت میں زرا سی بھی کمی رہ جائے تو اسے معذور نہ ہوتے ہوئے بھی اپاہج سمجھا جاتا ہے- ایسا ہی کچھ ہوا زنیرہ رضوان طارق کے ساتھ جو اب بزنس وومن اور ٹیچر ہیں۔ زنیرہ، خواجہ سراؤں کو آن لائن کلاسز کے ذریعے اردو، سائنس اور ریاضی کے مضامین پڑھاتی ہیں۔

لوگ کہتے تھے تم کسی معذور سے شادی کرنا
زنیرہ کہتی ہیں کہ لوگ انھیں کہتے تھے کہ تم کسی معذور انسان سے شادی کرنا تو میرا جواب ہوتا تھا کہ نہیں میں کسی نارمل شخص سے شادی کروں گی کیونکہ میں خود بھی نارمل ہوں، لوگ کہتے ہیں کہ انھیں عام لڑکیوں یا لڑکوں کی شادیاں دیکھ کر حسد ہوجاتا ہے لیکن میں کہتی ہوں حسد نہیں خواہشات ہوتی ہیں اور ہر انسان میں ہوتی ہیں ” ۔ زنیرہ کے بقول وہ لوگ جو انھیں کم مائیگی کے طعنے دیا کرتے تھے جب 2018 میں زنیرہ کی شادی ہوئی تو ان کے سوالات بدل گئے پھر وہ پوچھنے لگے کہ جہیز میں کیا لے کر جارہی ہو؟ تمھاری شادی کیسے ہوگئی وغیرہ وغیرہ۔

زنیرہ کو کیا بیماری ہے
زنیرہ کی عمر 34 سال ہے اور ان کا قد 4 فٹ 10 انچ ہے۔ وہ بچپن سے ہی کمزور تھیں لیکن 28 سال کی عمر میں انھیں پتہ چلا کہ انھیں ایک ایسی بیماری ہے جس کی وجہ سے ان جسم کے دائیں حصے میں محسوس کرنے کی صلاحیت ختم ہوچکی ہے جسے “سی ون سی ٹو” کہتے ہیں اور یہ پیدائشی ہوتی ہے۔ زنیرہ کہتی ہیں جب وہ پڑھائی کے لیے پہلی بار امریکا گئیں اور اسکول میں نوکری کی تو وہاں بچے ان سے سوال کرتے تھے کہ آپ ایسی کیوں ہیں؟ لیکن انھوں نے ہمت نہیں ہاری اور ملازمت کرتی رہیں یہاں تک کہ اپنا خرچہ اٹھانے کے لئے انھوں نے اوبر ٹیکسی بھی چلائی اور موبائل فونز بھی فروخت کیے۔

آپ تو ایک وقت میں چار فائل بھی نہیں اٹھا سکتیں
زنیرہ نے امریکہ سے لیبرل اسٹدیز، میتھس اینڈ سائنسز میں گریجویشن کے علاوہ آرٹ ایسوسی ایشن میں تین اور ایسوسی ایٹڈ سائینس میں بھی ڈگری حاصل کی اس کے باوجود انھیں زندگی نے بہت تلخ سبق دیے۔ زنیرہ اپنی ناکامیوں میں بھی مثبت پہلو تلاش کرنے کی عادی ہیں وہ کہتی ہیں کہ امریکا میں انھوں نے 32 انٹرویو دیے جس میں سب نے ان کی جسمانی کمزوری کی وجہ ان کو رد کردیا اور ایک جگہ انٹرویو کے لیے گئیں تو ایک آدمی نے ان سے کہا آپ تو چار فائلیں بھی نہیں اٹھا سکتیں جس پر زنیرہ نے جواب دیا کہ ایک ایک کرکے بھی فائل اٹھائی جاسکتی ہے۔

زنیرہ کہتی ہیں کہ “میرا ماننا ہے کہ دنیا کے طعنے اور باتیں آپ کو وہ سب کلچھ سکھا دیتی ہیں جو کتابیں کبھی بھی نہیں سکھا سکتیں” زنیرہ معذور بچوں کے والدین کو یہ پیغام دیتی ہیں کہ اپنے بچوں سے پیار کریں اور انھیں احساس دلائیں کہ وہ بہت کچھ کرسکتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کی کامیابیوں کے پیچھے بھی ان کے والدین کا ہاتھ ہے کیونکہ انھوں نے ہمیشہ ان کا ساتھ دیا اور معاشرتی دباؤ سے ان کو دور رکھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں