38

نیکیوں کی حفاظت اور رمضان المبارک

تحریر :ساجد چودھری گڑھاموڑ
آج کے دور میں نیکی کرنا بہت مشکل نظر آتا ہے اور نیکی کرکے اسکی حفاظت کرنا اس سے بھی مشکل مرحلہ ہے. جیسے آپ کوئی قیمتی چیز حاصل کرتے ہیں تو اسکی حفاظت کیلئے اہتمام بھی کرتے ہیں کہ کہیں چوری یا ضائع نہ ہوجائے اسی طرح نیکی کرکے اسکی حفاظت کیلئے اہتمام کی ضرورت ہوتی ہے کہ نیکی کہیں ضائع نہ ہوجائے. دل کے روحانی امراض کینہ، بغض، حسد، تکبر وغیرہ نیکیوں کو برباد کردیتے ہیں. حسد کے بارے میں حدیث مبارکہ کا مفہوم ہے کہ حسد نیکیوں کو ایسے کھا جاتا ہے جیسے آگ لکڑیوں کو کھا جاتی ہے.
رمضان المبارک کی بابرکت ساعتیں ہیں. جس میں ہر گناہ گار سے گناہ گار میرے جیسا کوتاہ عمل انسان بھی نیکیوں پر حریص ہوجاتا ہے جوکہ نہایت اچھا اور امید افزا طرزِ عمل ہے لیکن میرے بھائی میرے دوست درخواست یہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ نیکیاں کمانے کے ساتھ انکی حفاظت کا بھی بھر پور اہتمام کریں. آنکھ، کان اور دل کے گناہ ایسے ہیں جس سے نیکیاں پل بھر میں ضائع ہوجاتی ہیں اور انسان ان گناہوں سے زیادہ بچنے کا اہتمام بھی نہیں کرتا کیونکہ انسان چوری، شراب نوشی اور سود خوری کو تو گناہ سمجھتا ہے لیکن بدنظری، گانا بجانا، غیبت کرنا اور سننا، جھوٹ، کینہ، بغض، حسد اور تکبر کو ہلکا سمجھتے ہوئے ان سے بچنے کا اہتمام نہیں کرتا حالانکہ یہ تمام گناہ کبیرہ ہیں اور نیکیوں کو برباد کرنے والے ہیں. اللہ تعالیٰ ہمیں رمضان المبارک میں اعمال صالحہ کے ساتھ ساتھ نیکیوں کی حفاطت کے اہتمام کی بھی توفیق عطا فرمائے.جب دعا فرمائیں تو اپنے اس بھائی کو خصوصی طور پر اپنی دعاؤں میں شامل فرمائیں.
٭…٭…٭…٭

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں