48

صحافت۔۔۔

تحریر:محمد رضوان
آج کے دور میں ہر دوسرا بندہ صحافیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنا رہاہے مختلف حربوں سے صحافیوں کو بدنام کیا جاتا ہے کبھی صحافی کو بلیک میلر تو کبھی چمچہ وغیرہ وغیرہ کے القابات سے نوازا جاتا ہے۔صحافت عبادت ہے صحافت جہاد ہے صحافت اخلاص ہے اور صحافت مظلوم کی آواز ہے۔میں زیادہ گہرائی میں نہیں جانا چاہتا اور نہ ہی کسی ایک شخص کو تنقید کا نشانہ بنا رہا ہوں بلکہ میں صحافت سے جڑے لوگوں کا تعارف کروانا چاہتا ہوں صحافت میں جہاں تک تعلیم کی بات کی جاتی ہے کہ مڈل پاس صحافی بنے ہوئے ہیں تو کسی کو اسکا طعنہ دیا جاتا ہے کہ ریڑھی والے بھی صحافی بنے پھرتے ہیں بات اتنی سی ہے کہ صحافت کے لیے جرنلزم ضروری ہے اور جرنلزم کر کے صحافت کی جائے تو سونے پے سوہاگہ ہے مگر اسکا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ اگر ایک شخص نے مڈل تعلیم حاصل کی ہے ?اور وہ حق حلال کی مزدوری کے ساتھ ساتھ حق و سچ کی بات کرتا ہے۔۔وہ اپنی جان ہتھیلی پر رکھتا ہے وہ مظلوم کی آواز بنتا ہے وہ ظالم کے آگے سینہ ٹھوک کر بولتا ہے تو پھر میں سمجھتا ہوں کہ کسی کو حق نہیں کہ وہ ایسے شخص کے بارے میں کچھ کہے وہ شخص ہمارے لیے قابل تعریف ہے۔۔صحافت اللہ کی دی ہوئی صلاحیت کا نام ہے جو کہ ہر شخص کونصیب نہیں ہوتی۔۔۔صحافی کے ساتھ کوئی گارڈ کوئی پروٹوکول نہیں ہوتا مگر جب ایوان میں کوئی طاقتور بولتا ہے تو پھر بھی یہی صحافی بھائی سچ و حقیقت کی کھوج کے در پے اپنی جان ہتیھلی پر رکھ کر غریب اور مظلوم عوام کی بات کرتا ہے میں آج ایک سوال پوچھنا چاہتا ہوں۔ کیا حق اور سچ بولنا اپنا وقت اپنا مال دوسروں کیلییلگانا جہاد نہیں؟آج کے دور میں اگر کوئی محنت مزدوری کرنے کیساتھ ساتھ کسی کی مشکل آسان بناتا ہے تو خدارا اس کی آواز بنیں اسکا ساتھ دیں نہ کے اس کے راستے کی روکاوٹ بنیں اور اگر یہ لوگ بھی نہیں رہیں گے تو پھر معاشرے میں صرف ظالم اور طاقتوروں کا ہی راج قائم ہونے کو کوئی نہیں روک سکے گا اور پھر غریب مظلوم کی حق تلفی کا کبھی نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہونا بھی بعید از قیاس نہیں ہوگا اور پھر جسکی لاٹھی اس کی بھینس ہوگی۔ہاں اگرمعاشرے میں کوئی بلیک میلنگ کرتا ہے ایسے لوگوں کو منظر عام پر لانا چاہئے کیونکہ ایسے لوگوں کاصحافت سیدور دور تک کوئی تعلق نہیں ہوتا صحافت ایک مقدس پیشہ ہیاسے مقدس ہی رکھاجائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں