48

کرونا وائرس: بھارت کے اسپتالوں میں بیڈز اور آکسیجن کی قلت، دہلی میں ایک ہفتے کا لاک ڈاؤن

نئی دہلی — بھارت میں کرونا کی صورت حال بد سے بدتر ہوتی جا رہی ہے اور گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران دو لاکھ 73 ہزار 810 افراد میں کرونا کی تشخیص ہوئی ہے جب کہ 1619 افراد وائرس کے باعث ہلاک ہو چکے ہیں۔

کرونا وائرس کے مریضوں میں تیزی سے اضافے کی وجہ سے ملک کی مختلف ریاستوں کے اسپتالوں میں بستروں اور آکسیجن کی قلت ہو گئی ہے۔ دارالحکومت دہلی کو بھی اس قلت کا سامنا ہے۔
اس کے علاوہ کرونا سے ہونے والی اموات میں اضافے کی وجہ سے شمشان گھاٹوں اور قبرستانوں میں جگہ کم پڑ گئی ہے۔
دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجری وال کے مطابق دہلی کے صحت کے نظام کی گنجائش اپنی انتہا کو پہنچ چکی ہے۔
انہوں نے 19 اپریل کی رات 10 بجے سے اگلے پیر کی صبح پانچ بجے تک کے لیے لاک ڈاؤن کا اعلان کر دیا ہے۔ البتہ اس لاک ڈاؤن میں لازمی خدمات کو مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق اس وقت بھارت کو صحت کے حوالے سے ہنگامی حالات درپیش ہیں۔
سوشل میڈیا پر ایسی بے شمار ویڈیوز سامنے آئی ہیں جن میں شمشان گھاٹوں پر رش اور قبرستانوں میں جگہ کی کمی نظر آرہی ہے۔
اسپتالوں کے باہر ڈیڈ باڈیز اور مریضوں کو لانے والی ایمبولینسز کی قطاریں لگی ہوئی ہیں۔ ڈیڈ ہاوسز میں لاشوں کے ڈھیر ہیں اور بعض اسپتالوں میں ایک ایک بستر پر دو دو مریض موجود ہیں۔ جب کہ اسپتالوں کی گزر گاہوں میں بھی بستر لگا دیے گئے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق اسپتالوں میں بستروں، ضروری ادویات اور آکسیجن کی مانگ بہت زیادہ بڑھ گئی ہے۔ اس کے علاوہ مریضوں کو دی جانے والی ادویات کی کمی کے باعث ان کی بلیک مارکیٹنگ شروع ہو گئی ہے۔
’لوگ یہ سمجھے کرونا ختم ہوگیا‘اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسیف سے وابستہ ڈاکٹر مظفر حسین غزالی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ جب پہلی بار کرونا وائرس بھارت میں پہنچا تو حکومت نے سخت اقدامات کیے۔ پورے ملک میں لاک ڈاون لگا دیا گیا۔ ادویات کا انتظام کیا گیا۔ جہاں کسی مریض کے بارے معلوم ہوتا تو صحت کا عملہ وہاں پہنچ جاتا اور ضروری کارروائی کرتا۔
ان کے مطابق اس وقت اسپتالوں کو خاص ہدایات دی گئیں اور عوام کو بھی بیدار کرنے کی مہم چلائی گئی۔ جس کی وجہ سے کرونا کے کیسز کافی کم ہو گئے۔
ان کا کہنا ہے کہ پہلی لہر میں حالات قابو میں رہے جس پر لوگوں نے یہ سمجھا کہ شاید کرونا ختم ہو گیا۔ اس کے بعد شادیاں، مذہبی و سیاسی پروگرام اور ریلیاں شروع ہو گئیں۔ تجارتی سرگرمیاں جو ٹھپ ہو گئی تھیں وہ بھی شروع ہو گئیں۔ عوام نے بھی احتیاط کا دامن چھوڑ دیا۔
انہوں نے کہا کہ اسی دوران کرونا کی دوسری لہر آئی۔ اس کی جو نئی قسم دریافت ہوئی ہے وہ زیادہ خطرناک ہے۔ پہلے معمر افراد اس کے شکار بنتے تھے مگر اب دیگر بھی اس کی زد میں آنے لگے۔ بلکہ متعدد ایسی خبریں بھی آئی ہیں کہ بچوں کو بھی کرونا ہو رہا ہے۔
ڈاکٹر مظفر حسین غزالی کے بقول کیسز میں اضافے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ لوگوں نے احتیاط چھوڑ دی اور جہاں جہاں رش اور مجمع لگنے کا امکان تھا وہ سب کام شروع ہو گئے۔ اس کا تنیجہ یہ نکلا کہ کیسز میں اچانک اضافہ ہونے لگا۔
ان کے مطابق اس وائرس پر اس وقت تک قابو نہیں پایا جا سکے گا جب تک حکومت اور عوام دونوں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون نہ کریں۔
Direct link240p | 5.1MB360p | 8.6MB480p | 18.3MB720p | 28.3MB1080p | 49.1MB’وبا کا پھیلاؤ، حکومت کی پالیسیاں ذمے دار ہیں‘سینئر تجزیہ کار آلوک موہن کا کہنا ہے کہ کیسز میں اضافے کی ذمے داری حکومت کی ناقص پالیسیوں پر عائد ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایک طرف کرونا کا پھیلاؤ بڑھتا جا رہا ہے اور دوسری طرف ریاست اتراکھنڈ میں ہری دوار کے کمبھ میلے میں لاکھوں عقیدت مند پہنچے ہوئے ہیں بلکہ اب تو وہاں اشنان (دریائے گنگا میں غسل) کرنے والوں کی تعداد کا کوئی اندازہ ہی نہیں لگایا جا سکتا۔
انہوں نے کہا کہ کمبھ میلے میں کرونا ایس او پیز کی کھلی خلاف ورزی ہو رہی ہے لیکن حکومت کوئی کارروائی نہیں کر رہی ہے۔
ان کا مزید کہنا ہے کہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے مقدس مذہبی مقامات مکہ اور مدینہ میں پابندیاں لگائی گئیں اور گزشتہ سال سے ہی پابندیاں لگی ہوئی ہیں۔ لیکن یہاں کی حکومت نے سیاسی مصلحت کی وجہ سے کمبھ کے میلے پر پابندی نہیں لگائی۔
آلوک موہن کے مطابق گزشتہ سال جب تبلیغی جماعت کے مرکز کا معاملہ سامنے آیا تھا تو میڈیا نے زبردست ہنگامہ کیا تھا لیکن اب کمبھ میلے کے بارے میں وہ خاموش ہے۔
کرونا اور انتخابی مہمحال ہی میں وزیر اعظم نریندر مودی نے مغربی بنگال میں عوام کے ایک بڑے اجتماع کو دیکھ کر اپنی تقریر میں کہا کہ انہوں نے پہلی بار اتنے زیادہ لوگ ایک ساتھ دیکھے ہیں۔
اس پر سینئر کانگریس رہنما راہول گاندھی نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ ہاں اور پہلی بار اتنے زیادہ کرونا کیسز بھی آئے ہیں۔
کانگریس نے کرونا وبا کے دوران انتخابی ریلیاں جاری رکھنے پر نریندر مودی اور امت شاہ کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
دوسری جانب راہول گاندھی نے مغربی بنگال کی اپنی تمام ریلیاں منسوخ کر دی ہیں۔ مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے بھی کلکتہ میں مزید ریلیاں نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔
تجزیہ کار آلوک موہن کا کہنا ہے کہ ایک طرف کیسز میں زبردست اضافہ ہو رہا ہے اور دوسری طرف وزیرِ اعظم نریندر مودی، وزیر داخلہ امت شاہ، بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے صدر اور دوسرے بی جے پی رہنما انتخابی ریلیوں میں مصروف ہیں جہاں کرونا ایس او پیز کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں