75

ماں میں نہیں بھول سکتا

یادِ رفتاں
ماں اس کائنات کے سب سے اچھے۔سچے اورخوبصورت رشتے کا نام ہے۔اللہ تعالیٰ نے اس کائنات میں سب
سے خوبصورت چیز تخلیق کی جس کا کوئی نعم البدل نہیں ہو سکتا۔بالخصوص ماں جیسی ہستی کوسب سے زیادہ فوقیت حاصل ہے
ماں کی عظمت پر کچھ لکھنا سمندر کو کوزے میں بند کرنے کے مترادف ہے۔
ماں کے بغیر گھر ایک قبرستان جیسا ہے۔جس گھر میں ماں نہیں اس گھر میں سکون نہیں
کیونکہ گلاب جیسی خوشبو۔فرشتوں جیسی سچائی۔محبت۔تڑپ۔شفقت۔ قربانی کے مجموعہ
کو ماں کا لفظ کہا گیا ہے۔وہ ماں کہ جس کے قدموں کے نیچے اللہ نے جنت رکھی ہے۔
ماں کو بنانے وقت اللہ نے فرشتوں سے شبنم کے آنسو۔بلبل کے نغمے۔چاند کی ٹھنڈک
سمندر کی گہرائی۔چاند کی چمک۔آفتاب کی روشنی اور دریاوں کی روانی جمع کرنے کا حکم صادر فرمایا
سب چیزیں بنانے کے بعد اللہ تعالیٰ نے اس میں محبت کو شامل کر کے حاوی کر دیا۔
ماں۔جب ہم پکارتے ہیں تو ایک محبت بھرا احساس جنم لیتا ہے۔ماں کی گود انسان کیلئے
پہلی درسگاہ کی حثیت رکھتی ہے۔آج سائنس بھی مان رہی ہے کہ ماں کی آواز انسان کو دباو
سے نجات دلاتی ہے۔
اللہ نے ماں کی صورت میں اپنی ایک عظیم نعمت عطا کی ہے کہ ماں کی میم میں :محبت کرنے والی۔
ماں کی الف میں ایثار کرنے والی۔ اور ں سے نڈر۔نہ خفا ہو نے والی بنا دیا۔
ماں کی شان وہ ہے کہ ماں کی وفات کے بعد اللہ نے حضرت موسیٰ سے فرمایا کہ:اے موسیٰ
سوچ کر بات کرنا آج تیرے پیچھے دعا کرنے والا کوئی نہیں ہے۔
ماں وہ کہ جس کے بارے میں ہمارے پیارے نبیﷺ نے فرمایا کہ میں اگر نماز میں ہو تا اور میری ماں
مجھے آواز دیتی تو میں پہلے اپنی ماں کی بات سنتا۔وہ ماں کہ جس کے بارے میں فرمایا گیا کہ آپ ساری زندگی
ماں کی خدمت کرو تو اس ایک رات کی قیمت بھی ادا نہیں کر سکتے جس رات ماں خود آپ کی جگہ گیلے پر سوئی اور
آپ کو اپنی جگہ خشک جگہ پر سلایا۔وہ ماں جس نے اپنی خوشی سے زیادہ اپنی اولاد کی خوشی چائی۔پیارے نبی ﷺ
سے پوچھا گیا کہ میری خدمت کا زیادہ حق دار کون ہے تو آپ ﷺ نے تین بار فرمایاکہ تیری ماں!
ماں وہ عظیم ہستی کہ جس کی بھوک اولاد کے کھانے سے ختم ہو جاتی ہے۔
یہ سچ ہے کہ ماں کی محبت ایک بحر بیکراں کی طرح ہے۔ماں کی بے پایاں محبت کو لفظوں میں نہیں پرویا جا سکتا
ہر مذہب اور ہر تہذیب نے ماں کو عظیم اور مقدس قرار دیا ہے اور ماں ایک دعا ہے جو رد نہیں جاتی
اس دنیا میں وہ لوگ ہر وقت سکون کی تلاش میں رہتے ہیں جن کے سر سے ماں جیسی عظیم ہستی کا سایہ
اٹھ جاتا ہے۔دن رات وہ تڑپتے ہیں کہ ما ں جیسی ہستی اس دنیا میں دوباہ نہیں ملتی۔ ماں کی عظمت اس انسان
سے پو چھی جائے جس کی ماں اس سے بچھڑ گئی ہو۔دعاوں کے اس خزانے کو زندگی میں دوبارہ پا لینا ممکن نہیں
ان لوگوں میں میرا شمار بھی ہو تا ہے کیونکہ12اپریل2014؁ٗ؁ء کو میں بھی اس عظیم ہستی سے محروم ہو چکا ہو ں جب
میرں ماں نے میر ی بیماری کی حالت میں اللہ تعالیٰ سے رو رو کر دعا کی کہ اے اللہ!اگر میرے بیٹے کی زندگی کم ہے تو
اسے میری عمر لگا دے اور اللہ تعالیٰ نے اس کی دعا کو قبول فرمایا۔میں تندرست ہو گیا اور میری ماں ہمیشہ کیلئے؎مجھ سے جدا ہو گئی
اب میں دن رات ماں کو یاد کر رہا ہوں۔ماں مجھے سکون چاہیے۔ماں میں آپ کو کیسے بھول سکتا ہوں۔جب مجھے سکون کی تلاش
ہوتی تھی میں تیرے قدموں میں بیٹھ کر حاصل کرتا تھا۔اللہ آپ کو قروٹ قروٹ جنت نصیب کرے؛آمین
کاشف ظہور شیخ نمائندہ خبریں اڈا25پل؛03005583430

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں