44

پولیس اصلاحات اور تبدیلی

تبدیلی سرکار کی حکومت آتے ہی یہ باتیں عام تھی، خیبر پختونخوا کی طرح پنجاب میں بھی پولیس کے محکمے میں اصلاحات متعارف کروا کر پولیس کو جدید تقاضوں سے آراستہ کر کے عوام کو انصاف کا حصول آسان بنایا جائے گا، لیکن یہ ابھی تک ممکن نہیں ہو سکا، پولیس میں اصلاحات کی مخالفت ذرائع کے مطابق محکمے کے اندر کے لوگوں کو پسند نہیں تھی، اس وجہ سے یہ کام سست روی کا شکار ہے، آئی جی پنجاب پولیس انعام غنی نے گزشتہ دنوں کریمنل ریکارڈ رکھنے والے پنجاب کے تھانوں کے ایس ایچ اوز کو ایک آرڈر کے ذریعے فوری طور پر عہدوں سے فارغ کر دیا، میڈیا میں خبریں اور نام چلنے کے بعد نکلے جانے والے ایس ایچ اوز کافی شرمندگی محسوس کر رہے تھے، آئی جی پنجاب کا یہ احسن اور قابل ستائش اقدام ہے، پنجاب میں اب کسی بھی تھانے میں ایس ایچ او کی تعیناتی کے لئے گائیڈ لائن دی گئی ہیں، جسمیں ضلعی لیول کے آفیسران کو سختی سے عملدرآمد کرنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں، اپنے کالم کی وساطت سے آئی جی پنجاب انعام غنی کو چند ایک تجویز دینا چاہوں گا پولیس کے حوالے سے امید ہے پسند آئیں گی، کالم نگار کی نظر اور رسائی عوام تک رہتی ہے جسکی وجہ سے عوامی مسائل پہلے ہمارے تک پہنچ جاتے ہیں، پنجاب کے تمام تھانوں میں سیاسی اثر رسوخ ختم نہیں کیا جا سکا، سیاسی کارکن ہر تھانے میں مداخلت کر رہیں ہیں، جسے انصاف کا قتل ہو رہا ہے، سیاسی کارکن سیاستدانوں کی ایما پر اپنے من پسند بندے اب بھی تھانوں سے چھوڑا کر لے جاتے ہیں، تھانوں میں ٹاؤٹ مافیا ملوث ہے، جو سازباز کروا کر خود بھی پیسے لیتے ہیں اور پولیس کی جیبیں بھی گرم کرتے ہیں، کسی بھی پولیس کیس کی تشویش میریٹ پر ہونی چاہیے تھانوں میں تفتیشی افسر اب بھی مجرموں سے پیسے لیکر ایسے قانون سقم چھوڑ دیتے ہیں جسے مجرم جلد باہر آ جاتا ہے،
جو تفتیشی افسر غلط تفتیش کرے اسے تو نوکری سے ہی فارغ کیا جائے، پنجاب کے تمام تھانوں میں نفری کی شدید کمی ہے اس کو دور کرنے کیساتھ نئے تھانے بنائے جائیں تاکہ علاقہ کم ہونے سے جرائم کنٹرول کرنے میں آسانی ہو، دہشتگردی کے خلاف جنگ میں جہاں پاک فوج کی قربانیاں بے مثال ہیں، وہی پر پنجاب پولیس بھی پیچھے نہیں رہی، پنجاب پولیس کے جوانوں نے بھی خون کی قربانی دے کر دہشت گردوں کو شکست دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے، جس پولیس والے پر رشوت لینا ثابت ہو جائے اسے معطل نہ کیا جائے بلکہ نوکری سے ہی فارغ کیا جائے، پنجاب پولیس میں بڑے شیر جوان بھی آئیں ہیں جنہوں نے ملک و قوم کیساتھ محکمے کا نام بھی بلند کیا ہے، لیکن پولیس میں چھپی کالی بھیڑوں پر شکنجہ سخت کرنے کی ضرورت ہے، عوام اب بھی انصاف کے لئے تھانوں میں جانے سے گھبراتے ہیں، جب سب کو پتہ ہو گا کہ انصاف ملے گا، تو رجوع کریں گے، پولیس جب عوام دوست بن جائے گی تو سب اس سے محبت کریں گے،
یہاں پولیس کیا کریں جب کئے گئے اچھے کاموں کو صرف ایک برا کام کافی پیچھے لے جاتا ہے
پولیس میں اصلاحات لانا وقت کی اہم ضرورت ہے، اب مذید تاخیر نہ کی جائے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں