55

کورونا وائرس،احتیاطی تدابیر ضروری؟

کورونا وائرس کی وبا جاتے جاتے ایک بار پھر واپس آگئی ہے اور متعدد لوگ دوبارہ پھر متاثر ہوئے جو کہ قرنطینیہ میں ہیں اور کافی لوگ اس وبا کی وجہ سے موت کی وادی میں چلے گئے اس وبا نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا،ملکی و غیر ملکی پروازیں بند ہوگئیں،خانہ کعبہ شریف کا طواف بھی کورونا کی وجہ سے روکنا پڑا،بڑی بڑی مارکیٹیں اور پلازوں کو بھی تالے لگ گئے،تعلیمی ادارے بند ہوگئے ہیں ہر شخص کو دوسرے شخص سے خوف آنے لگا قصہ مختصر کہ پوری دنیا کے بڑے بڑے سائنسدان بھی کورونا وائرس کی وبا کو کنٹرول کرنے کے لیے کوئی چیز بھی ایجاد نہ کرسکے جو لوگ کہتے تھے کہ،،میرا جسم میری مرضی،،ان لوگوں کے لیے نشان عبرت ہے کہ اللہ پاک نے کیسے ایک وبا بھیجی جس کی وجہ سے پوری دنیا میں خوف پھیل گیا سب لوگوں کو ایک دم اللہ پاک یاد آگیا سب توبہ تائب ہونے لگے اور اللہ پاک کے سامنے گڑ گڑا کر دعائیں مانگنے لگے ہائے افسوس اس وبا کی وجہ سے مسجدوں میں نماز جمعہ پر پابندی لگ گئی اور مسجدوں میں نمازی حضرات بغیر صفوں کے ایس او پیز پرعمل پیرا ہوتے ہوئے نماز پڑھنے لگے ہیں،جب نماز جمعہ پر پابندی لگی تو ایک پولیس افسر نے اپنے تمام ملازمین کو حکومتی ہدایات سنانی چاہی کہ نماز جمعہ پر پابندی لگ گئی ہے اس پر وہ افسر اطلاع کرتے ہوئے زارو قطار رو رہا تھا اور کہہ رہا تھا کہ افسوس کے ساتھ اطلاع دی جاتی ہے کہ نماز جمعہ پر پابندی لگ چکی ہے اب بھی پھر وہی حال ہوچکا ہے،ماہ رمضان المبارک کی آمد سے پہلے ہی حکومت نے مسجد میں ایس او پیز پر عمل درآمد کے لیے ہدایات جاری کردی ہیں،کورونا وبا کی وجہ سے پوری دنیا میں اس وقت افراتفری مچی ہوئی ہے ہر شخص پریشان ہے کاروبار بھی تقریبا ختم ہوکر رہ گئے ہیں،کورونا وائرس کی اب حالیہ دنوں میں تیسری لہر آئی ہوئی ہے جس میں دوبارہ لاک ڈاؤن شروع ہوچکا ہے،فیکٹریاں کارخانوں کا بھی حکومتی شیڈول موجود ہے سرکاری دفاتر میں سائلین ایس او پیز پر عمل کرتے ہوئے اپنے مسائل کے حل کے لیے دفاتر میں جاتے ہیں،خلاف ورزی کرنے والوں کے کاروبار سیل،مقدمات یا بھاری جرمانے متعلقہ کاروباری لوگوں کو کیے جاتے ہیں،کورونا وائرس کی تیسری یہ لہر بہت خطرناک ہے اس میں تیزی سے کورونا وائرس پھیل کر لوگوں کو متاثر کررہا ہے اور متعدد انسانی قیمتی جانیں موت کی وادی میں جا رہی ہیں،ہزاروں کے حساب سے لوگوں کے کورونا وائرس ٹیسٹ مثبت آنے پر متاثرہ لوگ قرنطینیہ میں جاکر اپنا پریڈ مکمل کررہے ہیں،اب سوال یہ پیداہوتا ہے کہ جو لوگ کورونا وائرس کی وجہ سے فوت ہورہے ہیں کیا ان کے ورثاء احتیاطی تدابیر (ایس او پیز) پر عمل درآمد کررہے ہیں اور جو لوگ قرنطینیہ میں ہیں ان کے گھر والے عزیز و اقارب یا دوست احباب جن کے ساتھ کورونا کے مریض کا میل جول رہا تھا وہ کہاں پر احتیاط کرتے ہیں اور دوسرے لوگوں کو اس موذی مرض سے کیسے بچاتے ہیں لیکن جہاں تک میں نے یہ بات نوٹ کی ہے وہ یہ ہے کہ،،سارے لتر دے مرید ہن،،اگر حکومتی سختی ہوتو ایس او پیز پر عمل ہوتا ہے اگر نرمی ہوتو کوئی شخص بھی حکومتی ایس او پیز عمل نہیں کرتا،اگر ایک چھوٹے سے شہر میں،،پاک آرمی،، کا ایک ملازم بھی کھڑا ہوجائے تو سب لوگ ایس او پیز پر عمل کریں گے ہمارے ملک میں ہماری پاک فوج کو بہت عزت سے دیکھا جاتا ہے اور اس کا پریشر بھی پاکستان کی سب فورسز سے زیادہ ہے۔ کوروناوائرس کی اس لہر کے دوران حکومتی ایس او پیز پر کوئی فرد بھی عمل نہیں کررہاجس گھر کا کورونا کی وجہ سے کوئی فوت ہوجائے اسی کے گھر والے اس کا کفن دفن اور غسل کررہے ہوتے ہیں اور وہ بھی بغیر کسی حفاظتی اقدامات کے حالانکہ ان کو چاہیے کہ حکومت کی ہدایت کے مطابق کورونا سے فوت ہونے والے فرد کے کفن دفن اور غسل کا بندوبست کیا جائے اور ا سکے اہل خانہ کو کچھ دن کے لیے قرنطینیہ میں رہنا چاہیے لیکن یہاں بات یکسر مختلف نظر آرہی ہے حکومت نام کی کوئی چیز نظر نہیں آرہی اور نہ ہی حکومتی ایس او پیز پر کوئی شخص عمل کررہا ہے،میری آخر میں اس کالم کے توسط سے اعلی حکومتی نمائندگان سے اپیل ہے کہ حکومتی ایس او پیز پر عمل درآمد کروانے کے لیے کوئی مؤثر اقدامات کیے جائیں،پاک آرمی کو ایس او پیز پر عمل درآمد کے لیے ٹاسک لینا چاہیے اور عوام الناس سے بھی گزارش ہے کہ خدارا اپنی زندگی کی حفاظت کریں زندگی ایک بار ملتی ہے بار بار نہیں ملتی حکومتی ایس او پیز پر عمل درآمد کریں،کبیروالا میں متعدد لوگ کوروناوائرس کی وجہ سے فوت ہوچکے ہیں اور کافی اب بھی کورونا ٹیسٹ مثبت آنے پر قرنطینیہ میں ہیں لیکن ان کے ورثاء احتیاط نہیں برتتے لوگوں کو اسی طرح مل رہے ہیں اکٹھ والی جگہوں پر جاکر لوگوں میں کورونا پھیلا رہے ہیں ان کو بھی سختی سے قرنطینیہ میں بھیجنا حکومت وقت کی اولین ذمہ داری ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں