28

‏سقراط نے کہا تھا علم کے ساتھ جہالت کی جنگ اور روشنی کے ساتھ اندھیرے ک ی جنگ ھوتی ھے

تحریر آر۔اے۔چشتی ‏سقراط نے کہا تھا علم کے ساتھ جہالت کی جنگ اور روشنی کے ساتھ اندھیرے ک ی جنگ ھوتی ھے۔ ” بڑے انسانوں کا چھوٹے انسانوں کے ساتھ تنازعہ بن جاتا ہے ۔اعلی انسانوں کی موجودگی میں کمتر اور گھٹیا لوگوں کی کویء اھمیت نہیں ہوتی یہ بدی کا نیکی سے مقابلہ ہوتا ہے اجتماعیت کے خلاف لوگوں اور گروہوں کی جنگ ہوتی ہے ۔ خوبصورت انسانوں کے ساتھ بد شکل لوگوں کا تنازعہ ‏ہوتا ہے ۔علم کے ساتھ جہالت کی جنگ ہوتی ہے ۔روشنی کے ساتھ تاریکی کی جنگ ہوتی ہے ۔تمام غیر انسان لوگ مل کر ایک انسان کو مار ڈالتے ہیں ۔جس طرح جنگلی بھیڑیے اور کتے خوبصورت ہرنوں کا خون کر دیتے ہیں ۔یہ زندگی کا موت کے ساتھ مقابلہ ہوتا ہے ۔
قوموں کے داناوں اور رہنماوں کا قتل ‏قوموں کا قتل ہوتا ہے ۔ قوموں کی مرکزیت او اجتمایء زندگی کا قتل ہوتا ہے ۔یہ ایک ایسا قتل ہوتا ہے اس قتل کا ازالہ کرنا نا ممکن ہوتا۔ سقراط کہتا ہے “کہ قاتل اندھے ہوتے ہیں اس لیے کہ دنیا کی ہر سازش چھپ کر اندھیرے میں کی جاتی ہے جس میں رات دن کو قتل کرنے کا منصوبہ بناتی ہے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں