41

کسانوں پر ظلم کا وقت آن پہنچا؟

پنجاب ٹائمز نیوز
کرپشن ہر ادارے کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے،ہمارے ملک میں کوئی ادارہ ایسا نہیں ہے جہاں کرپشن کے اثرات موجود نہ ہوں،کرپٹ مافیا کا بھی ہر ادارے میں گروپنگ سسٹم ہے جو کام سائلین کا پکڑتے ہیں وہ تمام گروپ کرپشن شدہ رقم سے برابر کے حصہ دار ہوتے ہیں،ہمارے ملک میں کرپشن کبھی ختم نہیں ہوسکتی کیونکہ عوام بھی عادی ہوچکی ہے،بیوروکریسی دونوں ہاتھوں سے عوام کو لوٹ رہی ہے دفاتر میں انہی لوگوں کے کام ہوتے ہیں جو،،مال،، دے گا ورنہ اس کی فائل یا تو ردی کی ٹوکری میں یا پھر دفاتر کے دھکے منظور کرنے پڑیں گے یعنی کہ،،پرانی بیوروکریسی کے ہاتھوں نیا پاکستان یرغمال،، ہوچکا ہے،موجود حکومت نے کرپشن ختم کرنے کے جتنے بھی دعوے کیے ہیں وہ سب جھوٹ ثابت ہورہے ہیں،کرپشن کرنے والے سرکاری افسران کو سزا دینے والے ادارے اینٹی کرپشن بھی،،آنٹی کرپشن،، بن گئی ہے،قانون صرف غریب کے لیے ہے امیر دن بدن کرپشن سے امیر تر اور غریب بیچارہ دن بدن غریب تر ہوتا جارہا ہے۔اب گندم سیزن 2021ء شروع ہوچکا ہے لیکن حکومت نے پھر کسانوں کو کوئی ریلیف وغیرہ نہیں دیا بلکہ ہر سال کی طرح اس باربھی کسان فوڈ سنٹروں پر دھکے کھائیں گے باردانہ،،مال،، دینے والے آڑھتیوں اور بیوپاریوں کو دیا جائے گا،فوڈ سنٹروں پر کسی قسم کی کوئی سہولت موجودنہیں ہوگی گرمی میں بیٹھنے کا مناسب انتظام اور پینے کا ٹھنڈا پانی بھی میسر نہیں ہوگا جبکہ فوڈ سنٹروں کے ملازمین سرکار سے کسانوں کی سہولیات کے نام پہ لاکھوں روپے کے بل پاس کروا لیتے ہیں،فوڈ سنٹروں پرملازمین،،فوڈ انسپکٹر،فوڈ سپروائزر،،نے مال والے سنٹروں پر اپنے تبادلے کروا لیے ہیں تاکہ افسران کو بھی راضی رکھا جائے اور ذاتی جیب بھی گرم رہے،کسان بیچارہ جس کی پورے سال کی روزی اسی گندم پہ منحصر ہوتی ہے کھاد،سپرے،پانی اور متعدد قسم کے ایسے اخراجات جو کہ کسان پورا سال لٹتا رہتا ہے کبھی کھاد مہنگی تو کبھی سپرے مہنگی خریدنی پڑتی ہے لیکن گندم کے سیزن میں بھی سرکار کی طرف سے کوئی خاطر خواہ فائدہ حاصل نہیں ہوسکتا،آڑھتی او ر بیوپاری حضرات اونے پونے ان سے گندم وصول کرتے ہیں۔سرکار کی طرف سے ہر سال گندم کا ریٹ بھی کم ہوتاہے جس سے کسان اپنے اخراجات پورے نہیں کرسکتے،گندم خریداری سنٹروں پرفو ڈ ملازمین سرکاری مقررہ کردہ وزن سے زائد وصول کرتے ہیں یوں ہر طرح سے کسان لٹتا رہتا ہے سابقہ ادوار میں گندم کی بوریوں میں ریت بھی مکس کی جاتی رہی ہے مجھے افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے جن گندم کی بوریوں میں ریت مکس کی جاتی رہی ہے وہ بھی توانسانوں نے ہی کھانی تھی۔زراعت کو ملک میں ریڑھ کی سی حیثیت حاصل ہے لیکن کسی بھی حکومت نے کسانوں کی بہتری کے لیے کوئی ریلیف پیکیج یا اعلان نہیں کیا بلکہ کسان بیچارہ ہر دور میں ذلیل و خوار ہوتا رہا ہے،اگر کسانوں کو ان کی فصلوں کے ریٹ اچھے دیے جائیں تو ہر شخص خوشحال ہوتا ہے کیونکہ اگر کسان خوشحال ہوگا توملکی مارکیٹ خوشحال ہوگی،حکومت کو چاہیے کہ کسانوں کی بہتری کے لیے بہتر اقدامات کریں،کسانوں کی نام نہاد تنظیمیں بھی کسانوں سے مختلف معاملات میں احتجاج وغیرہ کروا کر حکومت سے بھاری رقم وصول کرکے اپنی جیبیں گرم کرلیتے ہیں،کسانوں کے رہنما،،ککھ سے لکھ،،پتی بن گئے اور کروڑوں روپے کی مہنگی گاڑیوں میں گھوم رہے ہیں،کسان ہر موقع پر مفادحاصل نہ کرسکا بلکہ دوسرے لوگ کسانوں کے نام پر لوٹ مار کرتے ہیں،اگر کسان حضرات موجودہ نظام کے خلاف احتجاج کرتا ہے تو کیا یہ مسائل حل ہوجائیں گے اس سوال کا جواب کسان تنظیموں کے رہنماؤں کے پاس یقیننا ہوگا جو کہ عرصہ دراز سے کسانوں کا نام ہر جگہ فروخت کررہے ہیں،کسانوں کو چاہیے کہ ایسا ایماندا ر نمائندہ بنائیں جو نہ بکے نہ جھکے بلکہ بڑے اور چھوٹے کسانوں کی مشاورت سے مسائل کے حل تک پر امن احتجاج جاری رکھیں،کسانوں کو روڈز پر کسانوں کے نام نہاد نمائندے لاتے ہیں اور بعد میں حکومتی نمائندوں سے ڈیل کرکے،،مال،، وصول کرلیتے ہیں میرے خیال میں سب سے بڑے ڈاکو کسانوں کے رہنما ہیں جو ہر موقع پر کسانوں کے جذبات فروخت کرکے اپنی جیبیں گرم کرتے ہیں،فوڈ سنٹروں پر کسانوں کی کچھ سیاسی کمیٹیاں بھی بنتی ہیں جن کا مقصد صرف اپنے،،ذاتی،،لوگوں کو ترجیح دینا ہوتا ہے یااپنی جیب گرم کرنا ہوتی ہے،اگر کسان فوڈ سنٹروں کی بجائے ڈائریکٹ فیکٹریوں میں گندم بھیجیں اور فوڈ سنٹروں پر گندم کا بائیکاٹ کردیں حکومت کو ٹف ٹائم دیں کسانوں کے نام نہاد رہنماؤں سے دور رہیں تب ہوسکتا معاملہ ٹھیک ہوسکے اور کسان خوشحال ہوسکے،کبیروالا کے کچھ سیاسی ٹاؤٹ ہر سال فی سنٹر سیاستدانوں کے نام پر ایک سے ڈیڑھ لاکھ بھتہ وصول کرتے ہیں،مرضی کے بندے بھی فوڈ سنٹروں پر رکھوا لیتے ہیں اور بعد میں ان کی تنخواہوں سے بھی ماہانہ رقم وصول کرتے ہیں یہ ٹاؤٹ قسم کے لوگ اس بار بھی ہر فوڈ سنٹر پر دیکھنے کو ملیں گے،ہماری ضلعی اور تحصیل انتظامیہ بھی گندم کے سیزن میں دونوں ہاتھوں سے لوٹ مار کرتی ہے عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے متعلقہ فوڈ سنٹروں پر چیک اپ کے بہانے فوٹو سیشن بھی کرواتے ہیں، آخر میں میری حکومت سے اپیل ہے کہ چھوٹے کسانوں کو ریلیف دیا جائے اور فوڈ سنٹروں پر گندم کی خریداری کو شفاف بنایا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں