54

فخر کے رن آؤٹ کا معاملہ: ڈی کوک سے متعلق میچ آفیشلز کا فیصلہ آ گیا

جنوبی افریقا کے خلاف دوسرے ون ڈے میچ میں فخر زمان کے رن آؤٹ کے معاملے پر انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے کوئنٹن ڈی کاک کو کلین چٹ دے دی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق آئی سی سی میچ آفیشلز نے رن آوٹ کی ویڈیو دیکھ کر فیصلہ کیا ہے کہ کوئنٹن ڈی کاک نے کسی بھی قانون کی خلاف ورزی نہیں کی ہے۔

میچ آفیشلز کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ڈی کاک نے فیلڈر کو نان اسٹرائیکر اینڈ پر گیند پھینکنے کا اشارہ کیا تھا۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز دوسرے ون ڈے میچ میں فخر زمان جنوبی افریقہ کیخلاف آخری اوور کی پہلی گیند پر اس وقت آؤٹ ہوگئے تھے جب پاکستان کو چھ گیندوں پر 31 کی ضرورت تھی۔

زمان اور حارث رؤف بیٹسمین دوسرا رن مکمل کرنے کی کوشش کر رہے تھے، اور وکٹ کیپر ڈی کوک نے بولر والی سائیڈ کی طرف اشارہ کیا، فخر زمان اپنی کریز میں پہنچنے والے تھے، لیکن ڈی کوک کا اشارہ دیکھ کر وہ آہستہ ہوگئے۔

فیلڈر ایڈن مارکرم نے وکٹ کیپر کی طرف تھرو پھینکا جو سیدھا وکٹوں میں لگا اور فخر زمان193 پر آؤٹ ہوگئے۔

بعدازاں، ایم سی سی کے ٹویٹر ہینڈل سے کرکٹ کے متعلق ایک قانون بھی شیئر کیا گیا۔ اس رن آؤٹ کے بعد بحث یہ ہے کہ ڈی کوک نے جان بوجھ کر غلط اشارہ کیا کہ گیند بالر کی طرف پھینکی جا رہی ہے، غلط اشارے سے فخر زمان نے اپنی رفتار آہستہ کی اور آوٹ ہوگئے۔

قانون قانون 41.5.1 میں کہا گیا ہے کہ کوئی فیلڈر کا جان بوجھ بیٹسمین کی توجہ ہٹانا، دھوکہ دینے یا رکاوٹ ڈالنا منع ہے۔ قانون 41.5.2 کے مطابق یہ فیصلہ امپائر کریں گے کہ فیلڈر نے جان بوجھ کر دھوکا دیا یا محض اتفاق تھا۔

اس معاملے میں، امپائروں نے ڈی کوک کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی ، لیکن اگر کارروائی ہوتی تو قانون 41.5.3 لاگو ہوتا۔

قانون 41.5.3 کے مطابق “اگر یا تو امپائر یہ سمجھتا ہے کہ فیلڈر نے جان بوجھ کر دھوکا دیا تو وہ جس گیند پر واقعہ پیش آیا اس کو ڈیڈ بال قرار دے گا۔

دوسری جانب آؤٹ ہونے والے پاکستانی بلے باز فخر زمان کا کہنا ہے کہ وہ اپنے غلطی سے رن آؤٹ ہوئے۔ انہوں نے ڈی کوک ذمہ دار نہیں ٹھہرایا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں