44

میچ فکسنگ *تحریک انصاف مری ماضی حال مستقبل*

تحریر محمد عتیق عباسی
عنوان کالم
مری جس کو ملکہ کوہسار کے نام سے جانا پہچانا جاتا ہے۔یہاں پر ماضی میں میاں برادران کے ٹکٹ ہولڈرز کا سگہ بولتا تھا۔گزشتہ 30 سالوں میں ایک موقع کہوٹہ سے یونین کونسل کا انتخاب لڑنے والے مری اور کوٹلی ستیاں سے ایک وکالت کے شعبہ سے تعلق رکھنے والے پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر کامیاب ہوۓ ۔یہ کامیابی بھی متحدہ مجلس عمل کے مضبوط امیدوار سفیان عباسی اور قاری سیف اللہ سیفی کے میدان میں آنے سے ووٹ کی تقسیم کی وجہ سے ملی اس کے بعد ن لیگ کا جمود شاہد خاقان عباسی اور راجہ اشفاق سرور کا حلقہ کی سیاست کے ایک بڑا نام رکھنے والے شخص کی دستبرداری سے تحریک انصاف توڑنے میں کامیاب ہوئی۔اگر مرحوم نعیم الحق مری بھوربن ہاوس نہ آتے تو شاہد اس وقت تحریک انصاف کی موجودہ منتخب قیادت اسمبلیوں میں نہ نظر آتی الغرض یہ انتخابی چالیں خوب مہارت سے ن لیگ کا جمود توڑنے کے لیئے لڑی گئیں۔انتخابی مہم اور اس سے پہلے تحریک انصاف مری جو تقاریریں کر کر کہ عوامی ہمدردیاں حاصل کر رہی تھی اس میں حلقہ کے باسیوں نے بھی خوب ساتھ دیا اور عزت کی پگڑی چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی دبنگ سیاست اور ویژن کی وجہ سے صداقت علی عباسی اور میجر ریٹائرڈ لطاسب ستی کی صورت میں عمران خان کے سر کا تاج بنی۔بار بار کابینہ میں رد و بدل کرنے کے باوجود حلقہ این اے 57 اور پی پی 6 کے مقدر میں نہ کوئی وزارت آئی نہ ہی کوئی ہلکی پھلکی چیئرمین شپ۔شمالی پنجاب کی تنظیمی ذمہداریاں ملیں جس سے پارٹی مضبوط ہوئی یا نہ ہوئی البتہ مری کمزور ضرور ہوتی جا رہی ہے ماضی میں ن لیگ پر جو الزامات لگاتے تحریک انصاف مری تھکتی نہیں تھی اب وہی سب کچھ ایسے کر رہی ہے جیسے انکو یقین ہو چکا ہے کہ سابق بلدیاتی دور میں جو حشر انگوری یونین کونسل سمیت پوری مری میں ماسواۓ روات یونین کونسل کے عوام نے کیا وہی آگے بھی ہوتا نظر آتا ہے۔ادارے مضبوط کرنے کی دعویداروں نے پٹواری کو ہی مضبوط کیا اور اس پٹواری کو جو قومی انتخاب کی صبح ن لیگ کے کیمپ میں تھا اور رات تحریک انصاف کی جیت کی امید دیکھتے ہی تحریک انصاف کے کیمپ میں چلا گیا۔مسلم لیگ ن کو پٹواری
لیگ کا طعنہ دینے اور حافظ عثمان۔راجہ عتیق سرور کو منشی منشی کہنے والی جماعت کا آج ساری سیاست کا محور پٹواری اور منشیوں کی ایک فوج کے ذریعہ سے ہی چلایا جا رہا ہے سابق لوکل شخصیات اور کارکنان لینٹر لینٹر اور درخت کاٹنے۔شاملاتی زمینوں میں مشینیں چلوانے میں ایسے تجوریوں کے سامنے سر باسجود ہوۓ کہ عوامی اعتماد کی دھجیاں سپریم کورٹ کے احکامات اور عمران خان کے ماحولیاتی ویژن کے ساتھ ایسی اڑائیں کہ پرخچے اڑنے لگے۔پٹواری بادشاہ جن کی مدت ملازمت چھٹہ پٹواری کے بعد پوری ہونے جا رہی ہے سر عام حلقہ میں ڈپٹی کمشنر کانام غیر قانونی کاموں میں لیتے نظر آتے ہیں اور باقول تحریک انصاف کے نظریاتی کارکنان کے کہ اسوقت ایک مافیا کا مکمل کنٹرول حلقہ کی منتخب قیادت پر نظر آتا ہے اور لگتا ہیکہ تحریک انصاف حلقہ این اے 57 پی پی 6 کرپٹ مافیا کہ آلہ
کار بن چکی ہے اور مری کے جنگلات براۓ فروخت۔شاملاتی اراضی کی حثیت تبدیل۔درخت دن رات کٹ رہے ہیں اور جب میڈیا پر نشاندہی ہوتی ہے تو یہی کام دن کو بند اور رات کی تاریکی میں شروع کروا دیئے جاتے ہیں اگر اب بھی تحریک انصاف کے کارکنان نے ہوش کے ناخن نہ لیئے تو آنے والے وقت میں شرمندگی ان کا مقدر انگوری سمیت مری کے بلدیاتی انتخاب کی طرح قومی انتخاب میں بنے گی۔تحریک انصاف کے کارکن جو آج بھی چیئرمین وزیر اعظم عمران خان کی کامیابی کے لیئے دن رات دعائیں کرتے نظر آتے ہیں ان کے مطابق یہ پہلی اور آخری دفعہ سمھج کر مری میں پارٹی چلائی جا رہی ہے جو کہ مستقبل میں خطرہ یقینی ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں