33

صحافیوں کو ترجیحی بنیاد پر کرونا وائرس سے بچاو کی ویکسین لگائی جائے حامد لطیف جرال

(گجرات ڈسٹرکٹ رپوٹر) نمائندہ پنجاب ٹائمز نیوز (راجہ عامر محمود سے) صحافیوں کو ترجیحی بنیاد پر کرونا وائرس سے بچاو کی ویکسین لگائی جائے صحافی جان ہتھیلی پر رکھ کر فیلڈ میں کام کر رہے ہیں ان خیالات کا اظہار سیکرٹری جنرل سنٹرل یونین آف جرنلسٹ ضلع بھمر حامد لطیف جرال نے میڈیا نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے کیا انہوں نے مذید کہا کہ جہاں کورونا کی تیسری لہر نے پوری دُنیا میں پھر سے تباہی مچا رکھی ہے وہاں پاکستان و آزادکشمیر میں بھی قیمتی جانیں ضائع ہو رہی ہیں۔حال ہی میں اسلام آباد میں دو صحافی سہیل عبدالناصر اور جوہر مجیب کورونا کی وجہ سے زندگی کی بازی ہار گئے،اِس سے پہلے کئی دوسرے شہروں میں بھی بہت سے صحافی اس وبائی مرض کا شکار ہو چکے ہیں،صحافی بھی ڈاکٹروں کی طرح فرنٹ لائن میں کام کرتے ہیں۔ ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل سٹاف کے ساتھ ساتھ پولیس کے افسروں کو بھی فرنٹ لائن مسیحا یا مجاہد قرار دیا جا رہا ہے،لیکن اس صف میں صحافیوں اور رپورٹروں کو شامل نہیں کیا جا رہا،حالانکہ اگر دیکھا جائے تو صحافیوں کا کام بھی بہت کٹھن ہے۔ صحافی و رپورٹرز اپنی جان جوکھوں میں ڈال کر عوام کو کورونا کے خطرات سے آگاہ کرتے ہیں اجتماعات کی رپورٹنگ کے لئے جاتے ہیں، کس وقت کس جگہ پر کورونا کے وار تیز ہیں،کون سے علاقے اِس وقت زیادہ متاثر ہیں، کون سے علاقے محفوظ ہیں، کس وقت کس شہر میں کس جگہ پر کیسز زیادہ تیزی سے پھیل رہے ہیں، کتنی قیمتی جانوں کا ضیاع ہوا ہے، کس کس وقت کس علاقے،کس شہر میں کون سے لوگ متاثر ہو رہے ہیں۔ ملک بھر میں کورونا سے متاثرہ افراد کی تعداد چھ لاکھ سے زیادہ ہو گئی ہے، ان متاثرہ افراد کے بارے میں خبر دینے والے یہ صحافی و رپورٹرز بھی کسی کے بھائی، بہن، بیٹا، بیٹی، شوہر، بیوی، ماں، باپ بھی ہیں، ان کی زندگیاں بھی بہت قیمتی ہیں۔صحافی تنظیموں میں سنٹرل یونین آف جرنلسٹ کے پلیٹ فارم سے وزیر اعظم آزادکشمیر، وزیر صحت سمیت دیگر اعلی حکام سے حامد لطیف جرال نے مطالبہ کیا ہے کہ صحافیوں کے لئے ویکسین کے انتظام کیا جائے آزادکشمیر کے تمام صحافیوں کے لئے ویکسین لگانے کا مرحلہ شروع کیا جائے،اس میں 60سال کے یا شوگر کے مریض صحافیوں کو ہی نہیں،بلکہ تمام صحافیوں کو شامل کیا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں