59

سٹیٹ_بینک پروپیگنڈے کا جواب اب ایک بندہ نہیں چلائے گا پوری پارلیمنٹ چلائے گی پارلیمانی سیکرٹری ہاوسنگ MNA میڈیم تاشفین صفدر

(گجرات ڈسٹرکٹ رپوٹر)پنجاب ٹائمز نیوز (راجہ عامر محمود سے)

یہ کہا جارہا ہے کہ سٹیٹ بینک کا قانون کے پاس ہونے سے سٹیٹ بینک آئی ایم ایف کا غلام بن جائے گا۔اور یوں تحریک انصاف نے سٹیٹ بینک کو آئی ایم ایف کو بیچ دیا ہے۔۔

اس کا جواب دیتا چلوں کہ سٹیٹ بینک کو 1956 کے ایکٹ کے تحت چلایا جارہا ہے جس کے تحت سٹیٹ بینک ہمیشہ سے حکومتی کنٹرول میں رہا ہے بلکہ یوں کہنا چاہیئے کہ حکومت کے کنٹرول میں نہیں بلکہ صرف ایک سنگل بندے کے کنٹرول میں رہا ہے اور وہ بندہ ہوتا تھاوزیر خزانہ- یعنی پورے ملک کا مالک و مختار وزیر خزانہ ہوتا ہے جو جب چاہے کسی کا بھی ناطقہ بند کرسکتا تھا-

اس نئے قانون کے تحت سٹیٹ بینک کو حکومتی فرد واحد کے تسلط سے آزاد کرکے سٹیٹ بینک کو پارلیمینٹ کے انڈر مشترکہ طور پر دے دیا گیا۔ یعنی اب پاور کا اختیار ایک بندے کی بجائے پوری پارلیمینٹ کے پاس ہوگا۔

گورنر کو پہلے وزارت خزانہ کی ایک کمیٹی اپوائینٹ کرتی ہے۔ لیکن اس قانون میں یہ تبدیلی کی گئی ہے کہ گورنر کی تعیناتی کا اختیار وزرات خزانہ سے لیکر پاکستانی کابینہ کو دے دیا گیا ہے۔۔کابینہ اپنے اجلاس میں گورنر سٹیٹ بینک کو نامزد کرے اور پھر صدر اس سمری پر سایئن کردے۔۔گورنر کی تعیناتی ایسے ہوگی جیسے آرمی چیف کی تعیناتی ہوتی ہے۔

اب اس سارے پراسس میں آئی ایم ایف کہاں انوالو ہے؟؟ کیا کابینہ آئی ایم ایف کی ہوگی؟؟ یا صدر پاکستان آئی ایم ایف کا ہوگا؟؟ یا پھر پاکستان میں آئی ایم ایف کی حکومت ہوگی؟؟ میری سمجھ سے باہر ہے کہ اس سمپل سے قانون میں کہاں ذہین لوگوں کو کہا یخودیوں کی سازش نظر آگئی؟؟؟

کسی مہا پرش کا قول تھا کہ اگر آپ کے پاس کوئی دلیل نہ ہو تو سامنے والے پر یخودی، قادیانی یا گستاخ کا فتوی لگادو یا پھر اس کو استعماری قوتوں کا آلہ کار بنادو۔۔یہ قوم اتنی ویلی ہے اس میں سٹوریاں خود ہی بنالے گی۔۔

یہ جتنے بھی ماہر معیشت اس وقت ٹی وی پر چھٹے ہوئے ہیں یہ سب اس سسٹم کے تحت مختلف حکومتوں کے بنیفشری ہیں۔۔مثلا ڈاکٹر اشفاق حسن ساقے منشی کی ٹیم کا حصہ تھا، فرخ سلیم کو پی ٹی آئی نے ٹھڈا کرایا ہوا۔۔بنگالی بابا بھی اس سسٹم کا بنیفشری ہے۔۔یہ سب افواہیں پھیلا رہے۔۔۔کسی اس بندے سے جو اس سسٹم کا بنیفشری نہ ہو وہ اس قانون کو پڑھ لے اور پھر بات کرے۔۔

اگر گورنر کو صدر وزیراعظم / کابینہ کی ریکمینڈیشن پر اپوائینٹ کرتا ہے تو اس میں آئی ایم ایف کا رول ہے؟؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں