56

میری ہمتیں ابھی جھکی نہیں میرے حوصلے بھی بلند ہیں مجھے ہار جیت سے غرض نہیں میری جنگ تھی سو میں لڑ گیا

تحریر
میاں محمد رضا سرگانہ ضلعی چئیرمین خانیوال
2 جنوری 2017 کو بلدیاتی اداروں کے وجود میں آنے کیساتھ ہی، ایک مطالبہ بلدیاتی نمائندگان کی طرف سے اٹھایا گیا۔ ایسے مطالبات بلا تفریق سیاسی وابستگیوں کے تھے۔ خالصتا جمہوری عمل کی بقا کے حوالے سے تھے۔ سراسر عوامی مفاد عامہ سے متعلق تھے۔
پہلا مطالبہ یہ تھا کہ آئین کے آرٹیکل 140اے کے تحت بلدیاتی اداروں کو سیاسی، انتظامی، اور مالی اختیارات سونپے جائیں۔
دوسرا مطالبہ یہ تھا کہ بلدیاتی اداروں کو تیسرے نظام حکومت کے درجے کے طور پہ تسلیم کیا جائے۔
بعدازاں نئی حکومت کے قیام کے بعد جب بلدیاتی اداروں کو قبل از تکمیل مدت گھر بھیجنے کی بات ہوئی، بعدازاں بلدیاتی ادارے تحلیل کر دیئے گئے۔ ایسے میں ان کی بحالی کا مطالبہ بھی شامل کر لیا گیا۔
اسی تناظر میں بلدیاتی نمائندگان نے معزز عدلیہ کا رخ کیا۔
بلدیاتی نمائندگان کا کیس، ایک سال، 10 ماہ، 21 دن تک عدالتوں میں زیر سماعت رہا۔ آخر کار سپریم کورٹ آف پاکستان کے تین رکنی بینچ نے 25 مارچ 2021 کو بلدیاتی اداروں کی بحالی کے احکامات چیف جسٹس سپریم کورٹ کی سربراہی میں کر دیئے۔
یقیناً یہ فیصلہ خوش آئند ہے۔
بلدیاتی اداروں کے حوالے سے تاریخ میں ایسا فیصلہ پہلی دفعہ دیکھنے کو ملا۔ حالانکہ پنجاب میں اس نظام سے پہلے پانچ دفعہ بلدیاتی اداروں کو قبل از تکمیل مدت گھر بھیجا جا چکا تھا، مگر انہیں بحال نہ کیا گیا۔
سپریم کورٹ کے اس فیصلے سے دو باتوں کا تو تعین ہو چکا۔
پہلا یہ کہ آئندہ بلدیاتی ادارے اپنی مدت مکمل کریں گے۔
دوسرا سپریم کورٹ نے بلدیاتی اداروں کو حکومتوں کے تیسرے درجے کے طور پر تسلیم کر لیا ہے۔
یہ بہت بڑا سنگ میل ہے۔ یہ بلدیاتی اداروں کے حوالے سے بہت بڑا بریک تھرو ہے۔
یہ کسی کی کسی کے خلاف فتح نہیں، بلکہ یہ بلدیاتی اداروں کی کامیابی ہے۔ اس سے ایک راہ متعین ہوئی ہے۔ کہ جس پہ چلتے ہوئے، وفاقی و صوبائی حکومتیں، جمہوریت کی نرسری بلدیات کو مضبوط کریں گی۔
اس بات کی قطعا اہمیت نہیں، کہ موجودہ بلدیاتی ادارے جن کو سپریم کورٹ نے بحال کیا ہے، وہ آئندہ 9 ماہ کیلئے وجود میں آئے ہیں، یا سپریم کورٹ وہ مدت بھی ان بلدیاتی اداروں کو پوری کرنے کا موقع دے گی، جس میں ان کو غیر فعال کر دیا گیا تھا۔
ایسے میں پہلا مطالبہ، جس پہ ابھی کام کرنے کی ضرورت ہے، کہ آئین پاکستان کی شق 140 اے کے تحت، وہی اختیارات بھی آئین کی روح کے مطابق، بلدیاتی اداروں کو سونپے جائیں جو آئین پاکستان تقاضا کرتا ہے
ہم نے بلدیاتی اداروں کے ان جائز مطالبات کے حوالے سے عملی، و تحریری کوشش، فقط اس مقصد کے تحت کی کہ جمہوریت کی نرسری کو توانا کیا جائے، تاکہ ہمارا جمہوری نظام مضبوط سے مضبوط تر ہو۔
تمام سیاسی جماعتوں، بشمول حکومت کو چاہئیے کہ وہ بلدیاتی اداروں کے حوالے سے مثبت سوچ کو اپنائیں۔ ان سے بطور حکومتی ٹیم کے کام لیں۔
جبکہ بحال ہونے والے بلدیاتی نمائندگان کا بھی فرض ہے کہ ملک کی ترقی کیلئے یکسوئی کے ساتھ کوشش کریں۔ یہ پاکستان کی کامیابی ہے، کسی فرد یا شخصیت کی نہیں۔
خدا ہمارے وطن عزیز کو پائندہ و آباد رکھے۔ آمین

میری جنگ تھی سو میں لڑ گیا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں