62

وزیراعظم حسینہ واجد پر بم حملے کے 14 منصوبہ سازوں کو سزائے موت

ڈھاکا: بنگلا دیش میں وزیراعظم شیخ حسینہ واجد پر بیس سال قبل قاتلانہ حملے کرنے اور بغاوت کے الزام میں 14 افراد کو سزائے موت سنا دی گئی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق بنگلا دیش کی ایک عدالت نے سنہ 2000 میں وزیراعظم پر ناکام قاتلانہ حملہ کرنے والے حرکت الجہاد الاسلامی کے 14 کارکنان کو سزائے موت سناتے ہوئے فیصلے پر عمل درآمد کے لیے فائرنگ اسکواڈ کے استعمال کا حکم دیا تاکہ مثال قائم کی جاسکے۔

سزا پانے والوں میں حرکت الجہاد الاسلامی کے سابق امیر مفتی عبدالحنان کے دو بھائی اور ایک بردار نسبتی بھی شامل ہیں۔ مفتی الحنان کو بھی دو ساتھیوں کے ہمراہ 2017 میں پھانسی دی جاچکی ہے۔ مفتی حنان کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ وہ افغانستان سے عسکری تربیت یافتہ تھے۔
عدالت میں 14 میں سے 9 ملزمان موجود تھے جب کہ 5 تاحال مفرور ہیں۔ ان افراد پر الزام ہے کہ سنہ 2000 میں ایک کالج میں دو بم نصب کیئے تھے جہاں وزیر اعظم حسینہ واجد ریلی سے خطاب کرنے آرہی تھیں تاہم سیکیورٹی اداروں نے بموں کو ناکارہ بنادیا تھا۔

تفتیش کے دوران پولیس کو پتہ چلا کہ یہ بم شدت پسند تنظیم حرکت الجہاد الاسلامی کی جانب سے نصب کیئے گئے تھے جو وزیراعظم کی لبرل پالیسیوں سے نالاں تھے۔ 14 ملزمان کو اس کیس میں نامزد کیا گیا تھا۔

اس کیس کے بعد سے سکیورٹی فورسز نے حرکت الجہاد الاسلامی کے خلاف کریک ڈاؤن آپریشن بھی کیا جس میں 100 سے زائد افراد کو ماورائے عدالت قتل کیا گیا اور ایک ہزار سے زائد حراست میں ہیں۔

واضح رہے کہ بنگلادیش میں شیخ حسینہ کی حکومت میں 2013 سے 2016 کےدرمیان جماعت اسلامی کے 5 رہنماؤں کو 1971 میں جنگی جرائم کے نام پر پھانسی دی جاچکی ہے جب کہ پوری اپوزیشن قیادت بھی اس وقت جیل میں ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں