48

کورونا وائرس ایک سنگین عالمی مسئلہ

کورونا وائرس جاتے جاتے پھر واپس آگیا،کورونا کی وجہ سے ایک بار عوام لاک ڈاؤن کی وجہ سے ذلیل و خوار ہو رہی ہے،کورونا وائرس کی ابتدا چین سے ہوئی جہاں پر سینکڑوں کے حساب سے اموات بھی ہوئیں اس کے بعد پوری دنیا میں یہ وائرس پھیل گیا،کورونا وائرس کی علامات عام فلو کی طرح ہی ہیں ماہرین صحت کے مطابق بخار،کھانسی،زکام،سردرد اور سانس لینے میں دشواری کورونا وائرس کی ابتدائی علامات ہوسکتی ہیں لیکن ضروری نہیں کہ ایسی تمام علامات رکھنے والا مریض کورونا وائرس کا ہی شکار ہو البتہ متاثرہ ممالک سے آنے والے مسافروں یا مشتبہ مریضوں سے میل جول رکھنے والے افراد میں اس وائرس کی منتقلی کا خطرہ بڑھ جاتا ہے،اگر بیماری شدت اختیار کرجائے تو مریض کو نمونیہ ہوسکتا ہے اور اگر نمونیہ بگڑ جائے تو مریض کی موت واقع ہوسکتی ہے،ماہرین صحت کے مطابق انفیکشن سے لے کر علامات ظاہر ہونے تک 14روز لگ سکتے ہیں لہذا ایسے مریضوں میں کوروناوائرس کی تصدیق کے لیے انہیں الگ تھلگ رکھا جاتا ہے،جب کوئی صحت مند افراد کورونا کے مریض سے ہاتھ ملاتا ہے یا گلے لگتا ہے تو وائر س منتقل ہوجاتی ہے،کورونا وائرس کی وبا کی وجہ سے دنیا بھر میں غیر معمولی اقدامات کیے جارہے ہیں اور پوری دنیا کے ممالک کی حکومتیں اس وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کوششیں کررہی ہیں بین الاقوامی سفری پابندیوں کے ساتھ ساتھ کچھ ممالک اندرون ملک سفر کو روکنے کی کوشش کررہے ہیں اور لوگوں کا عوام میں میل جول بھی روک رہے ہیں،ہیلتھ پالیسی اور انسانی حقوق کے کارکن حکومتوں کو متنبہ کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں شخصی آزادیوں اور صحت کے تقاضوں کے درمیان توازن پیدا کرنے کی بھرپور کوشش میں ہیں،چین جہاں سے اس وائرس کا پھیلاؤ شروع ہوا تھا ہفتوں تک اسے روکنے میں ناکام رہا بلکہ اس خطر ناک وائرس کو کنٹرول بھی بڑی مشکل سے کرنا ہوتا ہے،اس وائر س کے پھیلنے کے بارے معلومات شیئر کرنے والے دو صحافی لاپتہ ہوگئے،سڑکوں پر لوگوں کا درجہ حرارت چیک کیا جانے لگا،عمارتوں میں سے لوگوں کو باہر نکلنے سے روکا جانے لگا،عالمی سطح پر گذشتہ چند ماہ میں حالات زیادہ خراب ہوئے ہیں اور چین کے بعد سب سے زیادہ متاثرہ ملک اٹلی ہوا ہے اٹلی میں حکومتوں نے چھ کروڑ کی آبادی سے گھروں میں رہنے کو کہا تھاسب سے پہلے ملک کے شمالی حصوں میں سفری پابندیاں عائد کی گئیں جس کے بعد انہیں پورے ملک تک پھیلا دیا گیا اب صرف ضرورت کے تحت ہی کوئی گھر سے باہر نکل سکتا ہے اور ایسی صورتحال میں انہیں اپنے ساتھ ایک فارم رکھنا ہوگا کہ ان کا سفر کرنا کیوں ضروری ہو گیا تھا ملکی پابندیوں کی خلاف ورزی کرنے والوں کو بھاری جرمانے بھی عا ئد کیے جاتے رہے ہیں،سپین میں لوگوں کو لاک ڈاؤن کا سامنا ہے غیر ضروری طور پر گھر سے نکلنے پر پابندی عائد کردی گئی ہے اور تمام پبلک مقامات کو عوام کے لیے بند کردیا گیا تھا پورے ملک میں ایمرجنسی نافذ ہے،اب پھر ایک بار کورونا وائرس کی وجہ سے عوام پریشان ہیں سمارٹ لاک ڈاؤن لگ چکا ہے اور حکومت کی طرف سے ایس او پیز بھی جاری ہوگئی ہیں،چند ممالک نے وائر س کو پھیلانے والوں کے خلاف کاروائی بھی کی ہے اسی طرح دنیا کے متعدد ممالک نے تو یہ اعلان کیا ہے کہ غیر ملکی ہمارے ملک میں کسی بھی صورت میں داخل نہ ہوں اگر داخل ہوگئے تو 14دن الگ تھلگ کسی جگہ پر رہیں اور چیک اپ کے بعد انہیں ملک میں رہنے کی جازت دی جائے گی امریکہ میں بھی اس بیماری میں افراتفری مچا رکھی تھی،کوئی بھی بیماری اللہ پاک کی طرف آزمائش ہوتی ہے، حکومت کی طرف سے کورونا سیل قائم کیے گئے تھے جس کا کام صرف کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے اقدامات کرنا تھا،جبکہ اس کے برعکس اس وائر س کی وجہ سے کچھ لوگ ناجائز فائدہ بھی اٹھا رہے ہیں میڈیکل سٹور مالکان نے ادویات کے ریٹ دگنا کردیے ہیں،ماسک بلیک میں فروخت ہورہے ہیں،پرائیویٹ ہسپتال کے مالکان اور لیبارٹریز والے سادہ لوح لوگوں کو کورونا وائرس کے بارے ڈرا دھمکا کر ان کی جیبیں کاٹ رہے ہیں،کورونا وائرس ٹیسٹ کی مد میں بھی لوٹ مار کی جارہی ہے،افسوس کا مقام ہے کہ ہمارے کچھ ڈاکٹر حضرات نے کورونا وائر س کے ڈر سے اپنی ڈیوٹیوں سے دستبردار ہوگئے ہیں ان کی جگہ ہماری پاک آرمی کے جوانوں نے ڈیوٹی سنبھال لی ہے،ماہرین صحت کے مطابق باقاعدگی سے ہاتھ دھونا،ماسک کا استعمال کرنا،کھانسی اور چھینک کے وقت ٹشو یا رومال کا استعمال یا عدم دستیابی کی صورت میں کہنی سے ناک کو ڈھانپ لینا اس وائرس سے انسان کو محفوظ بنایا جا سکتا ہے،کورونا وائرس اللہ پا ک کی آزمائش بھی ہے اور یہ بھی کہا جاسکتا ہے اللہ پاک کی طرف سے عذاب بھی ہے ترقی ک…

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں