46

مینار پاکستان کی تاریخی حیثیت

پنجاب ٹائمز نیوز
تحریر: محمد شہزاد بھٹی بہاول نگر

شاعر مشرق علامہ محمد اقبال کے الگ وطن کے تصور کو عملی جامہ پہنانے کے لئے برصغیرکے مسلمانوں نے بے شمار مظالم سہنے اور سات لاکھ جانوں کی قربانی دینے کے بعد قائداعظم محمد علی جناح کی قیادت میں 27 رمضان المبارک 14 اگست 1947 کو آزاد ریاست پاکستان بنانے میں کامیاب ہوئے- اس سے پہلے 23 مارچ 1940 کو آل انڈیا مسلم لیگ کے تین روزہ سالانہ اجلاس میں ایک قرارداد شیر بنگال مولوی فضل الحق نے پیش کی جو سات سو الفاظ اور چار پیراگراف پر مشتمل تھی جو قائداعظم محمد علی جناح کی قیادت میں یہ تاریخ ساز قرارداد منظورکی گئی جسے قرارداد لاہور کہا جانے لگا- ہندوؤں نے اس کا مذاق اڑایا اور اس کو قراداد پاکستان کہنا شروع کر دیا جس کا نام بعد میں قراداد پاکستان ہی رکھ دیا گیا- اسی قرارداد کی یاد میں ایک مینار تعمیر کیا گیا جسے مینار پاکستان کہتے ہیں مینار پاکستان ایک قومی عمارت اور ایک یادگار ہے جسے لاہور میں عین اسی جگہ تعمیر کیا گیا جہاں 23 مارچ 1940 کو قائداعظم محمد علی جناح کی زیرصدارت آل انڈیا مسلم لیگ کے تاریخی اجلاس میں قرارداد پاکستان منظور ہوئی اس کو یادگار پاکستان بھی کہتے ہیں- اس جگہ کو اس وقت منٹو پارک کہتے تھے جو سلطنت برطانیہ کا حصہ تھی اس جگہ کو بعد میں اقبال پارک کے نام سے یاد کیا جانے لگا- اس مینار کی تعمیر کے سلسلہ میں 1960 میں اس وقت کے صدر فیلڈ مارشل ایوب خاں نے ایک کمیٹی تشکیل دی اور اس کمیٹی کی منظور شدہ سفارشات اور ڈائزائن پر اس مینارکی تشکیل ہوئی تھی- اس مینار کا ڈائزائن ترک ماہر تعمیرات نصرالدین مراد خان نے تیار کیا اور انہوں نے مینار کے کم بجٹ کی وجہ سے اپنی فیس بھی نہ لی- مینار کی تعمیر کا کام میاں عبدالخاق اینڈ کمپنی نے 1960 میں شروع کیا 21 اکتوبر 1968 میں اس کی تعمیر مکمل ہوئی اور اس کی تعمیر کی کل لاگت 75 لاکھ روپے تھی- مینار کا ڈھانچہ 18 ایکڑ رقبے پر محیط ہے مینار کی بلندی 196 فٹ ہے مینار کے اوپر جانے کے لئے 324 سیڑھیاں ہیں اس کے علاوہ جدید لفٹ بھی نصب کی گئی ہے، مینار کا نچلا حصہ پھول کی پتیوں سے مشابہت رکھتا ہے، اسکی سنگ مرمر کی دیواروں پر قرآن مجید کی آیات، قائداعظم محمد علی جناح، علامہ محمد اقبال کے اقوال اور پاکستان کی آزادی کی مختصر تاریخ کنندہ ہے اس کے علاوہ قرارداد پاکستان کا مکمل متن اردو اور بنگالی زبان میں کنندہ ہے- مینار پاکستان کے احاطہ میں قومی ترانے کے خالق حفیظ جلندھری کا مزار بھی ہے- مینار پاکستان کے اردگرد خوبصورت سبزہ زار فوارے، راہداریاں اور ایک جھیل بھی موجود ہے جون 1984 کو ایل ڈی اے نے اپنی تحویل میں لے لیا تھا- جہاں مینار پاکستان موجود ہے اس سابقہ اقبال پارک کو اب گریٹر اقبال پارک کہتے ہیں اللہ کریم اس عزم ہمت جرات بہادری کے نشاں کو مینار پاکستان کو قیامت تک قائم دائم رکھے- (آمین)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں