16

برطانیہ اپنی بری فوج کی تعداد کم کرے گا

برطانیہ نئی جنگی اور دفاعی حکمت عملی کے تحت اپنی بری فوج کی تعداد کم کرے گا۔

برطانیہ کی دفاعی اور خارجہ پالیسی کے بارے میں تازہ ترین نظر ثانی رپورٹ کے مطابق روبوٹ، ڈرونز اور سائبر جنگ کی طرف پیش قدمی کے تحت برطانیہ اپنی بری فوج کی تعداد 10 ہزار تک کم کرے گا۔

دفاع سے متعلق نظر ثانی رپورٹ کے متعلق برطانیہ ممکنہ طور پر کچھ ٹینکوں اور ہوائی جہاز بھی ترک کرے گا اور ان کی جگہ نئے اور جدی بحری جہاز، آبدوز بحری بیڑے میں شامل اور زیادہ ملا بھرتی کیے جائیں گے۔

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق ریگولر بری فوج کی تعداد کم کرکے 70 ہزار تک محدود کی جائے گی۔ فی الحال برطانوی بری فوج کی مجموعی تعداد 80 ہزار سے زائد ہے۔

اس حوالے سے باقاعدہ اعلان سیکرٹری دفاع بین والیس ہاؤس آف کامنز چند روز میں کریں گے۔

حالیہ عرصے میں برطانوی فوج سرے سے ٹینکوں سے نجات حاصل کرنے پر بھی غور کر رہی ہے۔ برطانوی فوجیوں کی تعداد میں کمی “فطری طریقے” سے کی جائے گی جس کے تحت ریٹائر ہونے والے فوجیوں کی جگہ نئی بھرتیاں نہیں کی جائیں گی۔

سیکرٹری دفاع بین والیس نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ فوج کی تعداد کمی کا فیصلہ مجموعی دفاعی بجٹ میں اضافے کے تناظر میں کیا جارہا ہے۔

دوسری جانب حزبِ اختلاف کی جماعت لیبر پارٹی کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو درپیش خطرات میں اضافے کے باوجود فوجیوں کی تعداد میں کمی کی جارہی ہے، یہ سٹریٹیجی برطانیہ کو ‘بری طرح کمزور’ ملک بنا دے گی۔

بی بی سی کے مطابق لگ بھگ ایک دہائی سے برطانوی فوج اپنے ٹینکوں کے بیڑے کو جدید بنانے کے طریقوں پر غور کر رہی ہے۔ ان میں جرمن لیپرڈ ٹو ٹینک کی خریداری یا نئی گن اور برجی لگا کر چیلنجر ٹو کو جدید بنانا شامل ہے۔

نئی حکمت عملی کے تحت رائل میرینز کو ایک نئی مستقبل کی کمانڈو فورس میں تبدیل کیا جائے گا، جسے خصوصی دستوں کے بہت سارے کام سونپ دیے جائیں گے۔ اگلی دہائی کے دوران رائل میرینز کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے 200 ملین ڈالرز کی سرمایہ کاری کی جائے گی۔

گزشتہ سال فوج کے سربراہ جنرل سر مارک کارلٹن سمِتھ، نے حال ہی میں ایک تقریر کے دوران کہا تھا کہ جدید حربی طریقوں میں ٹینک کا خوف ختم ہوتا جا رہا ہے۔ ان کی یہ بات فوج کی سوچ میں تبدیلی کی غمازی کرتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’زیادہ خطرہ میزائلوں اور ٹینکوں سے نہیں۔ بلکہ عالمگیریت کے وہ اسباب جن کی بنیاد پر ہم نے خوشحالی اور سلامتی حاصل کی ہے، مثلاً اشیاء، افراد اور نئے خیالات کی ترسیل کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کا رجحان زیادہ سنگین خطرہ ہے۔

بی بی سی کے مطابو برطانیہ اپنی خارجہ پالیسی پر ایک سال طویل جائزہ لینے کے بعد اپنی توجہ ہندوستان، جاپان اور آسٹریلیا جیسے ممالک کی طرف بڑھانے کا عزم کرنے جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ برطانیہ نے جوہری ہتھاروں کی کمی کی پالیسی تبدیل کرنے کا بھی ارادہ ظاہر کیا ہے۔

برطانیہ کی مستقبل کی خارجہ پالیسی کے بارے میں کہا گیا کہ چین کی طرف سے ’سسٹیمک چیلنج‘ پر بھی زیادہ کام کیا جائے گا۔

اس سے پہلے سنہ 2010 کے ایک منصوبے کے تحت جوہری ہتھیاروں کی زیادہ سے زیادہ تعداد کم کر کے 180 کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا لیکن اب کہا گیا ہے کہ یہ حد 260 ہو گی۔

حکومت نے کہا ہے کہ وہ بحرِ ہند اور بحر الکاہل کے خطے میں سٹریٹجک اتحاد کو فروغ دے گا اور اسے ‘دنیا کے جغرافیائی-سیاسی مرکز میں تیزی سے بنتا ہوا’ مرکزی خطہ قرار دے رہا ہے۔

خیال رہے کہ اس سے قبل برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے ملک کی نئی خارجہ پالیسی کے خدو خال کی تفصیل بیان کرتے ہوئے کہا تھا کہ بریگزٹ کے بعد ملک کو مخالف اقدار رکھنے والے ممالک کا مقابلہ کرنے کا فن از سر نو سیکھنا ہو گا۔

انھوں نے یہ بھی کہا تھا کہ نیٹو کا دفاعی اتحاد اور یورپ میں امن اور سکیورٹی کا قیام برطانیہ کی اہم ترجیحات میں شامل رہے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں