43

گندم کی امدادی قیمت 1800 روپے فی من مقرر کرنے کی منظوری

پنجاب ٹائمز نیوز امدادی قیمت کے سلسلے میں صوبائی وزیر عبدالعلیم خان کے ہمراہ وزیر فوڈ سکیورٹی فخر امام نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم کی سربراہی میں اجلاس ہوا کہ کیسے گندم ٹارگٹ کو پورا کریں، گزشتہ سال 25.2 ملین ٹن گندم کی پیداوار ہوئی اور 36 لاکھ ٹن درآمد ہوئی، جب کہ اس مرتبہ 26.2 ملین ٹن پیدوار ہوگی، اور 11لاکھ ٹن میں سے 5 لاکھ ٹن سیڈ کی نشاندہی کی گئی ہے، ہم نے سیڈ کی ٹریک اینڈ ٹریس کی کوشش کی، کوشش کریں گے ٹریک اور ٹریس پر مزید بہتری آئے۔

فخرامام کا کہنا تھاکہ 20 ملین ٹن کے قریب پنجاب کی گندم پروڈکشن ہے، گندم کی کم سے کم اسپورٹ پرائس کو ریوائز کیا، گندم کی کم سے کم سپورٹ پرائس 1800 روپے من ہوگی، امپورٹ کا تخمینہ بھی بنالیا ہے، اندازہ ہے 30 لاکھ ٹن امپورٹ کریں گے۔

صوبائی وزیر علیم خان کا کہنا تھا کہ ایک سال میں کبھی بھی 400 روپے گندم کی قیمت نہیں بڑھی، کسان ریڑھ کی ہڈی ہیں، ان کی خوشحالی کے لیے یہ وزیر اعظم کا بڑا قدم ہے، 1800 گندم کی قیمت کے باوجود ہم آٹے کی قیمت نہیں بڑھنے دیں گے، عام آدمی کیلئے آٹے پر جتنی سبسڈی دینی پڑی دیں گے۔

صوبائی وزیر نے کہا کہ پروکیورمنٹ کے وقت ریلیف کو بند کرنا پڑتا ہے اس ایک مہینے کے علاوہ ریلیف بند نہیں کریں گے، ہم آٹے کی ملوں کو سبسڈائز گندم فراہم کرتے رہیں گے تاکہ عام آدمی کو فائدہ ہو، کوشش ہے زیادہ سے زیادہ رمضان بازاروں میں آٹا سستے داموں پہنچا سکیں، پوری قوم کو پیغام دینا چاہتا ہوں وزیر اعظم کوایک ایک شخص کی مشکل کا اندازہ ہے،اور وہ پریشان بھی ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں