93

حکومتی پالیسیاں درج پیش مسائل اور ہر طرف رشوت مہنگائی بے روزگاری کی ستائی عوام

پنجاب ٹائمز
اےڈی ساگر حسینی ہراج

حکومتی پالیسیاں درج پیش مسائل اور ہر طرف رشوت مہنگائی بے روزگاری کی ستائی عوام ۔۔۔ تحریک انصاف کی حکومت کی جانب سے گندم کی فی من 1800روپے قیمت مقرر کر دی گئی کسانوں میں خوشی کی لہر اس سے پہلے 1300سو روپے گندم کی فی من قیمت مقرر تھی جو کئی سال قائم رہی جو تحریک انصاف کی حکومت کے پہلے دو سالوں میں بھی 1300سو روپے رہی جس کا چکی والا آٹا کہیں 2600سو روپے اور کہیں 2800سو روپے فی من فروخت ہو رہا ہے اوپر سے مہنگائی کا طوفان ہے اور بے روزگاری نے سابقہ ریکارڑ توڑ دیئے ہیں لوگ مہنگے داموں آٹا خریدنے پر مجبور ہیں بعض اوقات آٹا مہنگا ہونے کے باوجود بھی نہیں ملتا حکومت مہنگائی پر قابو پانے میں ناکام ہوچکی ہے ہرسرکاری ادارے میں رشوت ہی رشوت ہے جس کی وجہ سے ظلم نا انصافیوں کا نا تھمنے والا سلسلہ زوروں سے جاری وساری ہے جس نے سابقہ حکومتوں کے ریکارڈ ٹوڑ کر رکھ دئیے ہیں چوریاں ڈکتیاں ناجائز قبضے قتل وغارت عزمت دریوں کے واقعات سے اخبارات بھرے دکھائی دیتے ہیں اب تازہ ترین اطلاعات کے مطابق گندم کی فی من قیمت 1800روپے مقرر ہوئی ہے تو عوام آئندہ آٹا 3600سو روپے سے زائد قیمت پر خریدنے کیلئے کمر کس لیں حکومتی سطح پر سرکاری اداروں کے ملازمین کی تنخواہیں بڑھائی گئی ہیں یہ وہ سرکاری اداروں کے ملازمین ہیں جو دن رات بڑی بیدردی سے انصاف کا گلہ گھونٹ کر دونوں ہاتھوں سے رشوت لوٹ رہے ہیں جو سراسر ظلم ہے تحریک انصاف کی حکومت نے پہلی حکومتوں کے نقشے قدم پر چلتے ہوئے سرکاری ملازمین کو ہمیشہ کی طرح مراعات سے نوازا گیا ہے غریب عوام اور مزدور کیلئے کسی خاص اور منفرد پیکج کا کوئی اعلان نہیں کیا گیا اور نہ ہی مزدور کی اجرت بڑھائی گئی ہے جس سے غریب اور مزدور طبقے میں انتہا کی مایوسی پائی جاتی ہے لاکھوں روپے تعلیم پر خرچ کرنے کے بعد پڑھا لکھا نوجوان طبقہ دربدر کی ٹھوکریں کھاتا پھر رہا ہے جس کی ایک بہت بڑی تعداد ذہنی دباؤ پریشانی کے عالم میں نفسیاتی مریض بن چکی ہے جو بہت افسوس ناک بات ہے شاید اسی لیئے رشوت مہنگائی بے روزگاری کی وجہ سے جسم فروشی کا دھندہ عروج پر ہے اور ہر شہر میں قحبہ خانوں کی بھر مار ہوتی جا رہی ہے ہر طرف عریانیت اور فحاشی پھیلتی جا رہی ہے جس کی وجہ سے شریف اور نیک آدمی کا جیناحرام اور عزت بچانا مشکل ہو گیا ہے غریب بے روزگار نواجون پڑھی لکھی لڑکیاں مال پیسے والے کاروباری یا سیاست دانوں اور رشوت خوروں و انکے بگڑے شہزادوں کے بستروں کی زینت بن رہی ہیں آئے روز کوئی نا کوئی سکینڈل سامنے آرہا ہے غربت مہنگائی بے روزگاری کے ستائے والدین جہیز کی وجہ سے بیٹیوں کی وقت پر شادی نہیں کر پاتے جس کی وجہ سے لڑکیاں گھروں میں بیٹھے اڈھیر عمری کو پہنچ جاتیں ہیں اور زیادہ تو اوباشوں کے بہکاوے میں آکر گھروں سے بھاگ رہی ہیں اور کورٹ میرج کا سہارا لے رہی ہیں جس میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے جو ہمارے مذہب اسلام میں حرام ہے خدا کی قسم میں اپنی 50 سالہ عمر کو مدے نظر رکھتے ہوئے تجربے کی بنیاد پر دعوے سے کہتا ہوں رشوت مہنگائی سود خوری لوٹ مار قتل غارت پر قابو نا پایا گیا اور ایک خاص اور اہم بات سرکاری و پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں درس دینیات پردہ نسواں اخلاقیات نماز پنجگانہ انصاف پسندی شرم وحیاء حلال و حرام کی تمیز میانہ روی کا درس لازم نا کردیا گیا تو زیادہ وقت نہیں لگے گا کہ ہمارا ملک یہود ونصاریٰ کے ایجنڈے پر چلتے ہوئے تباہی کے دہانے پر پہنچ جائے گا یہ عورت مارچ یہود ونصاریٰ کی فنڈنگ سے کرائے جارہے ہیں جن کا مقصد ملک میں عورت کی آزادی کے نام پر پاکستان میں فحاشی اور بے حیائی کو فروغ دینا ہے یہ ان کا پاکستان پر ففتھ جنریشن وار ہے ایسے یہود ونصاریٰ کے اوچھے ہتھکنڈوں پر کنٹرول انتہائی ناگزیر ہو چکا ہے میری اللہ رب العالمین سے دعا ہے کہ وہ ہمارے سیاست دانوں کو شعور بخشے تاکہ یہ لوگ ناجائز جائیدادیں جاگیریں بنگلے کوٹھیوں لگثری کاروں کی حرص سے نکل کر ملکی سالمیت کیلئے کام کریں تاکہ دنیا و آخرت میں کامیابی انکا مقدر بنے یا اللہ کریم ہمارے ملک پر رحم فرما اور ہماری عوام کو اپنی رحمت کاملہ سے شعور عطافرما اور ہمارے ملک پاکستان میں نفاذ شریعت کی راہیں ہموار کر دے جس میں ہمارے تمام مشکل مسائل کا آسان حل موجود ہے۔۔۔۔ڈائری اسپیشل رپورٹر کوٹ اسلام ۔۔مہر

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں