42

حلقہ این اے 249؛ عمران خان نے 1997میں کراچی سے پہلی بار انتخاب لڑا

پنجاب ٹائمز نیوز بیوروچیف کراچی: وزیر اعظم عمران خان نے 1997 میں کراچی میں چراغ کے انتخابی نشان سے عام انتخابات میں حصہ لیا تھا جن میں سے ایک حلقے کے بہت سے علاقے اب این اے 249 میں شامل ہیں۔

آج کے این اے 249 اور ماضی کے این اے 184 میں فرق صرف اتنا ہے کہ بڑھتی آبادی کے تناظر میں حلقہ بندیوں کے بعد قومی اسمبلی کی اس نشست کو بتدریج تقسیم کردیا گیا مگر 24 سال پہلے بلدیہ ٹائون، میٹروول، مومن آباد کے کچھ علاقے، کیماڑی، سلطان آباد اور دیگر علاقوں پر مشتمل قومی اسمبلی کا یہ حلقہ این اے 184 تھا جہاں سے عمران خان نے پاکستان تحریک انصاف کے پلیٹ فارم سے اپنی زندگی کے پہلے انتخابات میں حصہ لیا تھا۔
ماضی کے اس حلقے سے پیپلز پارٹی کے بعد مسلم لیگ کے امیدوار لگاتار 2 مرتبہ کامیاب ہوئے تھے مگر پھر یہ نشست ایم کیو ایم کے پاس چلی گئی تھی اور 2018 کے عام انتخابات میں تحریک انصاف کے فیصل واوڈا نے سابق وزیر اعلی پنجاب میاں شہباز شریف کو سخت مقابلے کے بعد شکست دے کر ایوان زیریں کے رکن منتخب ہوئے تھے، اس طرح یہ حلقہ 4 جماعتوں کے پاس رہا ہے مگر آج بھی اس کی حالت پسماندہ ہے۔
1997 کے عام انتخابات کا جائزہ لیں تو اس وقت بھی قومی اسمبلی کے ماضی کے حلقے این اے 184 سے اہم امیدواروں نے حصہ لیا تھا مگر مسلم لیگ (ن) کے میاں اعجاز احمد شفیع نے 35 ہزار 451 ووٹ لے کر فتح حاصل کی تھی جبکہ ان کے مقابلے پر حق پرست گروپ (ایم کیو ایم) کے محمد عرفان خان نے 32 ہزار 668 لے کر دوسری اور پیپلز پارٹی کے میجر جنرل رٹائرڈ نصیر اللہ بابر 23 ہزار 512 ووٹ حاصل کرکے تیسرے نمبر پر رہے تھے۔

تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان محض 2037 ووٹ حاصل کرسکے، ان کے خلاف انتخابات لڑنے والوں کو گمان بھی نہیں تھا کہ وہ مستقبل کے وزیر اعظم کے مقابلے پر ہیں۔ اسی طرح نصیر اللہ بابر بھی بعد میں پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں وفاقی وزیر داخلہ بنے۔

1997 کے انتخابات میں اس حلقے سے مسلم لیگ (ج) چھٹہ گروپ کے ایس مجاہد بلوچ نے 2705 ووٹ لیے تھے مگر بعد میں انہی علاقوں پر مشتمل قومی اسمبلی کے حلقے سے ایم کیو ایم کے ٹکٹ پر ان کے صاحبزادے سلمان مجاہد بلوچ نے کامیابی حاصل کی تھی، موجود پی ٹی آئی کے رہنما سبحان علی ساحل نے اس وقت پختونخواہ قومی پارٹی کے ٹکٹ پر اس حلقے سے الیکشن میں حصہ لیا تھا۔ آزاد امیدوار علی سنارا کو بھی بہت سے لوگ بھولے نہیں ہونگے۔

اسی حلقے یعنی این اے 184 پر 1993 کے عام انتخابات میں بھی مسلم لیگ نون کے میاں اعجاز احمد شفیع نے 23 ہزار 937 ووٹ لے کر کامیابی سمیٹی تھی، پیپلز پارٹی کے امیدوار سید مسرور احسن 32 ہزار 671 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے تھے۔ یہی وہ ووٹ بینک یا وجوہات تھیں جن کی بنا پر میاں شہاز شریف نے این اے 249 سے 2018 کے انتخابات میں حصہ لیا تھا مگر وہ 723 ووٹ کے فرق سے ہار گئے تھے۔

اس حلقے کا ضمنی انتخاب انتہائی اہم ہوچکا ہے کیونکہ کم از کم 3 جماعتوں یا اتحاد کو یہاں سے اپنے امیدواروں کی کامیابی کی امید ہے، کئی جماعتوں کے اہم امیدوار میدان میں آچکے ہیں۔

رمضان المبارک کی وجہ سے تحریک انصاف اور ایم کیو ایم پاکستان الیکشن کمیشن سے درخواست کرچکی ہیں کہ ضمنی انتخاب کی تاریخ کو آگے بڑھایا جائے، ابھی ان درخواستوں پر کوئی فیصلہ نہیں ہوا ہے۔

1997 میں عمران خان کا نعرہ ’’نئے چہرے نیا نام، اقتدار میں عوام‘‘ تھا

1997 میں عمران خان کا نعرہ نئے چہرے نیا نام۔ اقتدار میں عوام تھا، اس وقت این اے 184 کی نشست پر عمران خان جبکہ پی ایس 73 پر ڈاکٹر اعجاز علی شاہ، پی ایس 74 پر ایاز گوہر تنولی ایڈووکیٹ اور پی ایس 75 پر انجینئر اکبر بادشاہ امیدوار تھے۔

جیتنے اور ہارنے والے امیدواروں میں ووٹوں کا فرق صرف چند سو کا رہا

این اے 249 یا این اے 184 سے الیکشن میں جیتنے اور ہارنے والے کچھ امیدواروں میں ووٹ کا فرق صرف چند سو کا رہا ہے۔ شہباز شریف این اے 249 سے 2018 میں 723 ووٹ سے شکست کھائی۔ 1993 میں مسلم لیگ نون کے اعجاز احمد شفیع پیپلز پارٹی کے امیدوار کے مقابلے میں صرف 266 ووٹ کے فرق سے کامیاب ہوئے تھے۔ 1997 میں اعجاز شفیع نے دوبارہ کامیابی حاصل کی اور ایم کیو ایم کے امیدوار 2 ہزار 783 کے فرق سے دوسرے نمبر پر رہے گے۔

1997ء میں پی ٹی آئی نے چراغ کے نشان پر انتخابات میں حصہ لیا

کسی بھی جماعت کے لیے انتخابی نشان انتہائی اہم ہوتا ہے لیکن ملک کی بڑی جماعتیں ایسی بھی ہیں جن کی ابتدائی انتخابی نشان بعد میں بدل گئے ان میں پاکستان تحریک انصاف بھی شامل ہے۔ پی ٹی آئی نے 1997 میں چراغ کے انتخابی نشان پر انتخابات میں حصہ لیا تھا اس وقت پی ٹی آئی کا انتخابی نشان بلا نہیں تھا۔

حلقے سے لڑنے والے شہباز، عمران،نصیر بابر کا تعلق دیگر صوبوں سے تھا

این اے 249 یا این اے 184 کی نشست پر انتخابات میں حصہ لینے والوں میں سے کچھ کا تعلق صرف کراچی نہیں سندھ سے بھی نہیں تھا جن میں شہباز شریف، عمران خان اور میجر جنرل نصیر اللہ بابر بھی شامل ہیں۔ اس کی وجہ اس حلقے میں بسنے والی اکائیاں تھیں۔ تمام امیدواروں کو امید تھی کہ زبان، علاقے اور برادری کی بنیاد پر انھیں ووٹ ملیں گے۔

نوجوانوں کو عمران خان پر پورا بھروسہ تھا،دوا خان صابر

1997 میں پی ٹی آئی کے ایک رہنما دوا خان صابر اس وقت ابراہیم علی بھائی اسکول میٹروول کے پولنگ اسٹیشن میں پی ٹی آئی کے پولنگ ایجنٹ تھے۔ دوا خان صابر کہتے ہیں مجھے اچھی طرح یاد ہے میں جس پولنگ بوتھ کا ایجنٹ تھا وہاں عمران خان کو 183 ووٹ ملے تھے۔ وہ کہتے ہیں اس وقت لوگ ہمارا مذاق اڑاتے تھے مگر نوجوانوں کو عمران خان پر پورا بھروسہ تھا، دوا خان صابر کے ایک عزیز انجنیئر اکبر بادشاہ اسی علاقے کی صوبائی نشست پر پی ٹی آئی کے امیدوار تھے جبکہ نجیب ہارون اس وقت عمران خان کی انتخابی مہم کے سربراہ تھے۔

این اے249کا ضمنی انتخاب بھی 97ء کی طرح رمضان میں ہوگا

1997 کے عام انتخابات بھی رمضان المبارک میں ہوئے تھے اور آج کے این اے 249 میں بھی ضمنی انتخاب کی پولنگ 29 اپریل کو ہوگی اور اسلامی کلینڈر کے اعتبار سے یہ انتخاب رمضان المبارک کے وسط میں ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں