48

نیب قوانین میں ترمیم؛ پرویز خٹک اور شاہ محمود قریشی کو اپوزیشن سے مذاکرات کا ٹاسک

سلام آباد: وفاقی حکومت نے نیب قوانین میں ترمیم،پنجاب اورخیبرپختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد پر غورشروع کردیا جب کہ حکومت نے ان معاملات پر اپوزیشن سے مذاکرات کا ٹاسک پرویز خٹک اور شاہ محمود قریشی کے سپرد کردیا گیا ہے۔

وزیراعظم عمران خان سے گزشتہ روز حکومتی رہنماؤں نے ملاقات کی جس میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد پر بات چیت کی گئی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے پنجاب اور خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومتوں کو فوری بلدیاتی انتخابات کرانے کی ہدایت کی۔

وزیردفاع پرویز خٹک نے وزیراعظم کو تجویز دی کہ موجود مہنگائی میں بلدیاتی انتخابات کا انعقاد حکومت کے حق میں بہتر نہیں تاہم وزیراعظم کاکہنا تھا کہ بلدیاتی انتخابات عوام کی ضرورت ہیں، وزیراعظم نے پارٹی کی تنظیم کو بلدیاتی انتخابات کی تیاریوں کی ہدایت کردی۔
وزیراعظم نے گورننس بہتر بنانے، سیاسی معاملات، ریلیف پیکجز اور سبسڈیزسے متعلق دس رکنی سیاسی کمیٹی قائم کردی ہے۔کمیٹی میں پرویز خٹک، شاہ محمود قریشی،اسد عمر، فواد چوہدری، شیخ رشید،شفقت محمود، عامر کیانی ،سیف اللہ نیازی، شبلی فراز شامل ہیں ۔

ذرائع کا کہنا ہے مہنگائی کی صورتحال میں حکومت احساس پروگرام کے ذریعے غریب طبقے کو مختلف شعبوں میں براہ راست سبسڈی دینے پر غور کررہی ہے ۔وزیراعظم عمران خان نے سینیٹ الیکشن میں کامیابی اور پی ڈی ایم کا لانگ مارچ ملتوی ہونے کے بعدجارحانہ سیاسی حکمت عملی میں تبدیلی کرتے ہوئے وزرا کو سیاسی معاملات پر زیادہ بات کرنے سے روک دیا ہے۔

ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے وزرا کو ساری توجہ کارکردگی دکھانے اور اسکی تشہیر پر رکھنے کی ہدایت کی ہے، وزیراعظم نے کابینہ میں بھی تبدیلی کا فیصلہ کرلیا، مفادات کے ٹکراؤ اور تنقید کے پیش نظر بعض مشیر اور معاونین خصوصی کو ہٹائے جانے کا بھی امکان ہے، شبلی فراز اور فیصل واوڈا جلد دوبارہ وفاقی وزیر کا حلف اٹھائیں گے، عامر کیانی کا بھی دوبارہ کابینہ میں واپسی کا امکان ہے۔

وزیراعظم نے میڈیا حکمت عملی کو بہتر بنانے کیلیے شیخ رشید کو متحرک رہنے کی ہدایت کی ہے، لاہور میں بھی وزارت داخلہ کا ایک کیمپ آفس قائم کیا جارہا ہے۔ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے انتظامات الگ کرنے کے معاملے پر بھی غورکیا جارہا ہے۔ میڈیا پر اقدامات کی تشہیر کی ذمہ داری شبلی فراز کے سپرد کردی گئی ہے۔

علاوہ ازیں سابق معاون خصوصی برائے امور نوجوانان عثمان ڈار کا بھی دوبارہ نوٹیفکیشن جاری ہونے کا امکان ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں