49

مغربی تہذیب کی یلغار

تحریر: محمد شہزاد بھٹی بہاول نگر
نمائندہ پنجاب ٹائمز
عورت مارچ کے بعد حجاب پر لکھنے کو دل کیا، سو الفاظ حاضر ہیں ایک مرد ہونے کی حیثیت سے اگر حقیقت عرض کروں تو عورتیں حجاب میں ہی اچھی لگتی ہیں۔ عورتوں میں ماں، بہن، بیٹی، بیوی، محبوبہ وغیرہ سب شامل ہیں- جب آپ اپنی گھر کی عورتوں کو حجاب میں دیکھ کر خوش ہوتے ہیں تو پھر اپنی محبوبہ کو حجاب میں دیکھ کر خوش کیوں نہیں ہوتے یا اس کو حجاب کرنے کا کیوں نہیں کہتے ہیں؟ محبوبہ کہتے ہیں اس لڑکی یا عورت کو جس سے آپ پیار کرتے ہوں جس سے آپ کی دوستی ہو اور اس سے مستقبل میں آپ شادی کرنے کے خواہشمند ہوں- کیا کوئی اپنی ہونے والی بیوی کو بنا حجاب کے دیکھنا پسند کرتا ہے؟ حجاب یا نقاب لینے یا دلوانے کا مطلب ہے کہ نہ صرف آپ خود اچھی یا اچھے ہیں بلکہ آپ کا تعلق کسی اچھے عالی ظرف خاندان سے ہے جو اعلی مذہبی اقدار کا پیروکار ہے آپ کا کردار ہی آپ کی اور آپ کے خاندان کی پہچان کرواتا ہے- کچھ عورتیں اس لیے حجاب نہیں کرتیں کہ انہیں لگتا ہے کہ حجاب ان پہ سوٹ نہیں کرتا حجاب میں آپ بھلے دنیا کو پیاری لگیں نہ لگیں مگر آپ اللہ کو بہت پیاری لگتی ہیں اور حجاب تو خالص اللہ کے لیے ہے اور دنیا کی بری نظروں سے بچنے کے لیے ہے- عورت کے معنی چھپی ہوئی چیز یا چھپانے کی چیز کے ہیں قرآن مجید، خانہ کعبہ اور اولیاءکرام کے مزارات کے غلاف سے حجاب سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ یہ چیزیں دیگر دوسری چیزوں سے منفرد اور اعلی ہیں اسی طرح مسلمان عورتیں بھی دیگر دوسری عورتوں سے منفرد اور اعلی ہیں اسی لیے حجاب ضروری ہے مگر افسوس! آج کل مغربی تہذیب کی یلغار نے ہمیں تباہ کر دیا ہے اقتدار میں آنے سے پہلے ہمارے موجودہ وزیراعظم عمران خاں صاحب نے اپنے دیگر وعدوں کی طرح ایک وعدہ ریاست مدینہ بنانے کا بھی کیا تھا مگر اقتدار میں آنے کے بعد اپنے دیگر وعدوں کی طرح انہوں نے ریاست مدینہ بنانے کے وعدے سے بھی یوٹرن لے لیا- حال ہی میں ہمارے ملک میں عورت مارچ ہوا جس میں نجانے کیا کیا بے ہودگیاں ہوئیں میرا جسم میری مرضی کے نعرے لگے، فرانس کے جھنڈے لہرائے، ہم جنس پرستی کے حق میں نعرے لگائے، نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم، صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہ، اولیاء کرام رحمتہ اللہ علیہ کو گالیاں دی گئیں یہ سب ریاست مدینہ بنانے کے دعویدار عمران خاں صاحب کے وزیراعظم ہوتے ہوئے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دارالخلافہ اسلام آباد کے اندر ہوا- ان عورت مارچ والوں نے قانون کی دھجیاں اڑائیں اور ریاست کو چیلنج کیا یہ سب کام اتنی دیدہ دلیری کے ساتھ کیسے ممکن ہوا؟ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا انہیں پس پردہ کچھ اپنوں کی حمایت حاصل تھی؟ اگر حمایت حاصل نہیں تھی تو ان کے خلاف کوئی ایکشن آخر کیوں نہیں ہوا؟ کیا ہمارے تمام ریاستی ادارے سو رہے تھے آخر ایسا کیوں ہوا؟ ذرا سوچئیے…..

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں