40

قدیمی سرکاری عمارتیں کھنڈرات میں تبدیل

سرکاری قدیمی اثاثوں وعمارتوں کی اگر دیکھ بھال کی جائے یا ان کو استعمال میں لایا جائے توہمیں بہت کچھ فائدہ حاصل ہوسکتا ہے،قدیمی اثاثوں کو فروخت کرکے بھی ہم وہ رقم نئے کسی بھی عوام دوست پروجیکٹ پر لگا سکتے ہیں،قدیمی عمارتوں سمیت ان میں موجود قیمتی سامان کی اگر نیلامی کی جائے تو بھی کروڑوں روپے حکومتی خزانے میں جمع ہوسکتا ہے اس وقت بہت سے ایسے ہمارے ملک پاکستان میں قیمتی اثاثے ہیں جن کو اگر استعمال میں لایا جائے یا قیمتی سامان فروخت کیا جائے توکافی حد تک حکومت کومالی فائدہ پہنچ سکتا ہے ہماری حکومت پرانے منصوبوں اور اثاثوں کو سائیڈ لائن پہ لگا کر نئے منصوبوں پر کروڑوں روپے خرچ کررہی ہے موجودہ حکومت سابقہ حکومتوں کے بھی متعدد منصوبے فلاپ کرنے کی بھرپور کوشش کر رہی ہے حالانکہ سابقہ حکومتوں کے متعدد منصوبے بہت سے ایسے ہیں جو عوام دوست ہیں ایسے منصوبوں کو حکومت کوچاہیے تھا کہ،،پانی،،لگاتی یعنی کہ ان منصوبوں کے لیے مزید فنڈز جاری کیے جاتے قدیمی اثاثے و پرانی سرکاری عمارتیں متعدد ایسی ہیں جو کہ آج بھی حکومت اگر ان پر کام کرے تو وہ عوامی فلاح کے لیے استعمال ہوسکتی ہیں،ہمارے ملک میں متعدد سرکاری عمارتیں اب بھی موجود ہیں جو کہ کھنڈرات کا منظر پیش کررہی ہیں ان کا سامان وغیرہ مقامی لوگوں نے چوری کرلیا ہے،ہمارے ملک پاکستان میں کافی عرصہ پہلے گورنمنٹ کی طرف سے کروڑوں مالیت سے محکمہ پی ٹی سی ایل کے لیے عمارتیں تعمیر کی گئیں،ان عمارتوں میں پی ٹی سی ایل سے متعلق کروڑوں روپے کی مشینری بھی نصب کی گئی،رنگ و روگن اور قیمتی دروازے بھی لاکھوں مالیت سے لگائے گئے،پی ٹی سی ایل کے ملازمین ان عمارتوں سے پی ٹی سی ایل سسٹم کو چیک کرسکتے تھے اور اگرکہیں سے تار وغیر ہ خراب ہوجاتی تو ان عمارتوں میں مکمل سسٹم موجود ہوتا تھا جہاں سے تار خراب ہوتی وہاں فوری طور پر سسٹم کی نشاندہی کے مطابق تار وغیرہ ٹھیک کی جاتی تھی،پی ٹی سی ایل کا یہ نظام بہت اچھا تھا جوں جو ں معاشرے نے ترقی کی جدید ٹیکنالو جی میں موبائل فون ایجاد ہوئے مختلف نیٹ ورک کمپنیوں نے اپنے مختلف کالنگ پیکیجز متعارف کروائے اور یوں پی ٹی سی ایل کانظام آہستہ آہستہ زوال کی طرف جانے لگا لیکن آج بھی متعدد پرائیویٹ اور سرکاری ادارے ایسے ہیں جہاں پر پی ٹی سی ایل سے ہی بات کی جاتی ہے،گورنمنٹ کی طرف سے کروڑوں روپے مالیت کی محکمہ پی ٹی سی ایل کی عمارتیں اب کھنڈرات اور بھوت بنگلہ کا منظر پیش کررہی ہیں ان عمارتوں میں موجود کروڑوں روپے کا قیمتی سامان،دروازے،کھڑکیاں،قیمتی مشینری،اور اینٹیں وغیرہ مقامی لوگوں نے چوری کرلیں ہیں ان عمارتوں کو نمبر بھی لگائے ہوئے تھے حکومت کی عدم دلچسپی کی وجہ سے جھنگ روڈ پر قائم پی ٹی سی ایل کی عمارتوں پر مقامی افراد نے ناجائز قبضہ کررکھا ہے،عمارت میں داخل ہونے کے پانچ دروازے تھے انٹری گیٹ بھی مضبوط لوہے کا تھا اور اندر والے حفاظتی گیٹ بھی مضبوط سریے سے بنائے گئے تھے،تہہ خانے میں کروڑوں روپے مالیت کی مشینری تھی جس کو پی ٹی سی ایل کے ٹریننگ یافتہ ملازمین چلا سکتے تھے اب ان عمارتوں میں تمام مذکورہ بالا قیمتی سامان چوری ہوگیا ہے،مقامی لوگ نے ان عمارتوں کو واش روم کے طور پر استعما ل کررہے ہیں اور اپنے جانور بھی انہیں عمارتوں کی سرکاری جگہوں پر باندھ رکھے ہیں،علاقے کے لوگوں نے متعد د بار پی ٹی سی ایل کے اعلی و مقامی افسران کے نوٹس میں بھی ساری صورتحال دی ہے کہ سرکاری عمارتوں کا سامان وغیرہ مقامی لوگ چوری کررہے ہیں لیکن کسی افسر نے کوئی نوٹس نہ لیا اگر کوئی افسر شکایت پر موقع پر آبھی جائے تو مقامی لوگ اپنے جانور وغیرہ وقتی طور پر سائیڈ پر کر دیتے ہیں اور بعد میں پھر اسی جگہ پر باندھ دیتے ہیں پی ٹی سی ایل کی سرکاری عمارتوں کے ساتھ والی جگہوں پر قبضہ بھی ہوچکا ہے،حکومت کو چاہیے کہ ان قدیمی عمارتوں کو فوری طور پر اپنی تحویل میں لیں،قبضہ مافیا سے ان عمارتوں کی سرکاری زمین کو واگزار کروائے،چوری شدہ سامان بھی مقامی لوگوں سے واپس لے کر ان کے خلاف قانونی کاروائی کریں تو حکومت کو مالی طور پر کافی حد تک فائدہ ہوسکتا ہے،قدیمی عمارتیں اور اثاثے بھی ہمارے ملک کے ہیں ان کی حفاظت کرنا بھی حکومت کی اولین ذمہ داری ہے،محکمہ آثار قدیمہ کے افسران کوتو قدیمی عمارتوں کی حفاظتی کرنی چاہیے تھی جو کہ سرکاری خزانے سے ماہانہ لاکھوں روپے کی تنخواہیں وصول کرتے ہیں یہ پی ٹی سی ایل کی سرکاری عمارتیں بھی سرکار کی ہیں ان کی حفاظت بھی محکمہ آثار قدیمہ کی اولین ذمہ داری ہے اگر وہ ان عمارتوں کی حفاظت نہیں کرسکتے تو اپنی نوکریوں کو

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں