98

سسرالیوں کا یتیم بچی کا جہیز کا سامان ہڑپ کرنے کی کوشش

بارہ میل( مظہر حسین باٹی )سے سسرال نے یتیم بچی کا جہیز کا سامان ہڑپ کرنے کی کوشش کی،بچی کے انکار پر نند نے سسر کے ہمراہ بچی کو قتل کردیا،اطلاع پر پولیس تھانہ دھنوٹ موقع پر پہنچ گئی،پولیس نے ملزمان سے ساز باز ہو کر خود کشی کا مقدمہ درج کیا بعد میں فرانزک رپورٹ پر 302کا مقدمہ درج لیکن،،چمک کی کمال،، سے 302کا مقدمہ بھی خارج ہوگیا،ورثاء چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ سے پیدل سفر کرکے انصاف لینے پر مجبور،متاثرین نے اسلام آباد روانگی پرچوپڑہٹہ پر صحافیوں کو مکمل تفصیل سے آگاہ کیا۔تفصیل کے مطابق تحصیل شجاع آباد تھانہ دھنوٹ کے رہائشی علی محمد شاکر نے چوپڑہٹہ پر مقامی صحافیوں پر بتایا کہ کچھ عرصہ قبل میرا بھائی جو کہ فوت ہوگیا تھا جس کی تین بیٹیاں اور ایک بیٹا تھا ایک بیٹی عاصمہ گل کی شادی میں نے قریبی رشتہ داروں میں کردی کچھ ہی سال بعد سسرال میں نند اور سسر نے میری بھتیجی سے کہا کہ تم ہمیں تمام زیورات دے دو اور کچھ ہی عرصہ بعد مجھ سے لے لینا میری بھتیجی کے انکار پر گلے میں رسہ ڈال کر دو بچوں کی ماں عاصمہ گل کو قتل کردیا مقامی پولیس موقع پر پہنچی لیکن قاتلوں سے بھاری رشوت لے کر خود کشی کا مقدمہ درج کردیا ہم نے انصاف کے لیے ہر جگہ سدا لگائی بالا آخر فرانزک رپورٹ پر پولیس نے 302کا مقدمہ درج کردیا اور کچھ ہی دن بعد دوبارہ قاتلوں سے رشوت لے کر مقدمہ خار ج کردیا اس سلسلے میں ہم 10مارچ سے گھر سے پیدل نکلے ہیں اور انصاف کے لیے چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ کے دفتر کے باہر دھرنا دیں گے اور جب تک انصاف نہیں ملے گا تب تک ہم وہیں بیٹھیں گے،پولیس تھانہ دھنوٹ کے تمام ملازمین کرپشن کنگ ہیں جو کہ ہر وقت عوام کی مختلف کیسوں کی مد میں جیبیں کاٹتی ہے،میری بھتیجی کے قاتل اب دندناتے پھر رہے ہیں اب ملزموں سے ہماری جان کو سخت خطرہ ہے وہ ہمیں مسلسل دھمکیاں دے رہے ہیں ہمار ی اعلی حکام سے اپیل ہے کہ ہمیں تحفظ فراہم کیا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں