42

نومنتخب ارکان سینیٹ نے حلف اٹھالیا، ایوان میں کیمرے لگانے پر احتجاج

اسلام آباد: نومنتخب ارکان سینیٹ نے حلف اٹھالیا تاہم ایوان میں کیمرے لگانے پر اپوزیشن اراکین سراپااحتجاج بنے رہے۔

سینیٹ اجلاس کا آغاز ہوا جس کے دس نکاتی ایجنڈے کے مطابق سب سے پہلے نئے منتخب ہونے والے سینیٹرز کی حلف برداری ہوئی۔ ضوابط کے مطابق صدر مملکت کے مقرر کردہ پریزائڈنگ افسر سینیٹر سید مظفر حسین شاہ نے نو منتخب ارکان سینیٹ سے حلف لیا۔ ایوان بالا کے 52 ارکان 6 سالہ آئینی مدت پوری کرنے کے بعد سبک دوش ہو گئے ہیں جبکہ 48 نئے ارکان نے آج حلف اٹھایا۔سید مظفر حسین نےتمام نومنتخب سینیٹرز کو مبارکباد دی۔

حلف اٹھانے والے نومنتخب سینیٹرز کے نام
آج حلف اٹھانے والے 48 نومنتخب سینیٹرز میں یوسف رضا گیلانی اور فیصل واوڈا سمیت پنجاب سے مسلم لیگ (ق) کے کامل علی آغا، پی ٹی آئی کے سیف اللہ سرور خان نیازی، عون عباس اعجاز احمد چودھری، سید علی ظفر، زرقا سہروردی تیمور مسلم لیگ (ن) کے افنان اللہ خان، ساجد میر، عرفان الحق صدیقی، اعظم نذیر تارڑ اور سعدیہ عباسی۔ سندھ سے پیپلز پارٹی کے سلیم مانڈوی والا، شیری رحمن، تاج حیدر، شہادت اعوان، جام مہتاب حسین ڈاہر، فاروق نائیک، پلوشہ خان، پی ٹی آئی کے محمد فیصل واوڈا، سیف اللہ ابڑوایم کیو ایم پاکستان کے سید فیصل علی سبزواری اور خالدہ اطیب شامل ہیں۔
اس خبرکوبھی پڑھیں: سینیٹ اجلاس میں پولنگ بوتھ پر خفیہ کیمرے لگے ہونے کا انکشاف
خیبر پختونخوا سے پی ٹی آئی کے محسن عزیز، سید شبلی فراز، لیاقت خان ترکئی، فیصل سلیم رحمن ذیشان خانزادہ، دوست محمد خان، محمد ہمایوں مہمند، ثانیہ نشتر، فلک ناز، گردیپ سنگھ عوامی نیشنل پارٹی کے ہدایت اللہ خان اور جے یو آئی (ف) کے عطا الرحمن حلف اٹھائیں گے۔ بلوچستان عوامی پارٹی کے پرنس احمد عمر احمد زئی، منظور احمد، سرفرا ز احمد بگٹی، سعید احمد ہاشمی، ثمینہ ممتاز، دنیش کمارنیشنل پارٹی کے محمد قاسم، اے این پی کے عمر فاروق، جے یو آئی کے مولانا عبدالغفور حیدری، کامران مرتضیٰ، تحریک انصاف میں شامل ہونے والے آزاد امیدوار محمد عبدالقادر اور نسیمہ احسان حلف اٹھانے والوں میں شامل ہیں۔ 48 ارکان 6 سال کے لئے سینیٹ کے رکن منتخب ہوئے ہیں۔
ایوان میں کیمرے لگانے پر احتجاج
حلف اٹھانے کی تقریب کے دوران پیپلزپارٹی کے رضا ربانی نے خفیہ کیمرے لگانے پر اعتراض کیا تو ایوان میں احتجاج شروع ہوگیا، وفاقی وزیرریلوے اور قائد ایوان شہزاد وسیم نے رضا ربانی کو فلور دینے کی مخالفت کی، جس کے بعد پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی کے سینیٹرز اپنی نشستوں پر کھڑے ہو گئے اور ایک دوسرے کے خلاف نعرے بازی کی۔
پریزائیڈنگ آفیسر کی دونوں جانب سے سینیٹرز کو اپنے نشستوں پر بیٹھنے کی درخواست کرتے ہوئے رضا ربانی کو کہا کہ آپ چیئرمین رہ چکے ہیں، آپ کو چاہیے کہ تھوڑا صبر سے کام لیں۔ پریزائیدنگ آفیسر نے نیا پولنگ بوتھ بنانے کی رولنگ دیتے ہوئے کہا کہ آپ سب ان رولز کے کسٹوڈین ہیں، ووٹ کی سیکریسی کو یقینی بنایا جائے گا، رول 9 کے مطابق کوئی اور کارروائی نہیں ہوگی، آج صرف حلف لیا جائیگا اور چیئرمین، ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کا الیکشن ہوگا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں