176

دم توڑتی پرانی روایات کی کہانیاں

دم توڑتی پرانی روایات کی کہانیاں

پرانی روایات ختم ہوتی جارہی ہیں، پرانی روایات سے وابسطہ رہنا،ماضی کی داستانوں،قصے خیالوں میں کھوئے رہنا اور انہی پر نوحہ خوانی کرتے رہنا،گزرے ہوئے لمحات و واقعات کی یاد دل میں بسائے رکھنا اور زندگی کے ہر پہلو میں اسی کوبیان کرنے کا نام یاد ماضی ہے لیکن ماضی کے تمام ہمارے بزرگوں کی روایات آہستہ آہستہ ختم ہورہی ہیں ان روایات کو زندہ رکھنا وقت کی اشد ضرورت ہے۔حقہ ہمارے کلچر اور وسیب کی ایسی نشانی ہے جو آہستہ آہستہ قصہ پارینہ بنتی جا رہی ہے،دیہی ماحول گاؤں کے بزرگ جب چوپالوں یا کسی خوشی و غمی کے موقع پر اکٹھے ہوتے تھے تو دائرے میں گھومنے والا بڑی،،نڑی،،والا فرشی حقہ ان کے درمیان اتحاد،رشتوں اور تعلق کی علامت بنتا تھا،حقے کو ہمارے کلچر میں ایک اہم اہمیت حاصل ہے،لیکن خانیوال و نواحی علاقوں میں آج کاریگر اس روایت کو برقرار رکھے ہوئے ہیں اور اس گئے گزرے دور میں جب روایات دم توڑ رہی ہیں توان روایات کے امین آج بھی ان کے گاہک موجود ہیں،حقے تیار کرتے ہوئے ان کی خوبصورت رنگ برنگی نڑیاں ان ماہر کاریگروں کے ہاتھوں کی مہارت کا منہ بولتا ثبوت ہیں،50سال سے حقے تیار کرنے والے کاریگر اب بھی اپنے روزگار کے لیے پر امید نظر آتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ ہمارے کام میں کوئی فرق نہیں پڑا آج بھی لوگ حقہ خریدنے دور دور سے آتے ہیں یہ پرانی روایات کسی صورت ختم نہیں ہوسکتی کیونکہ اس کا استعمال ہر دور میں شوقین حضرات کرتے ہیں اور وقتا فوقتا حقہ خریدتے ہیں یہ روایات ہمارے بزرگ کی عادت تھی جو کہ سب کو مل بیٹھنے پر مجبور کرتی تھی لہذا ہمارے اپنے بزرگوں کی کسی روایات کو ختم نہیں کرنا چاہیے،جدید ٹیکنالوجی میں جدید اشیاء بھی ایجاد ہوئیں جس نے انسان کو نفسا نفسی میں لگا دیا محبتیں ختم ہوگئیں،دکھ سکھ میں آنا بھی کم ہوگیا اب،،حقہ،، والی روایت موبائل فون نے لے لی رات کو ہر کوئی اپنے موبائل کے ساتھ مگن ہوتا ہے اور اپنے دوستوں سے گروپ کی شکل میں بات چیت کررہا ہوتا ہے،اسی طرح کسان اپنی زمینوں میں بیل کی مدد سے ہل چلاتے تھے علی الصبح اٹھ کر کھیت میں جاتے اور ناشتہ کھیت کی مٹی میں بیٹھ کر کرتے،کتنے ہی سادہ لوگ تھے جو زمین پربیٹھنے کو سعادت سمجھتے تھے سینکڑوں ایکڑ کے حساب سے اپنے زرعی رقبوں میں ہل خود چلاتے اور اپنی زمینوں میں جانور وں کی گوبر وغیرہ بھی خود ڈالتے تھے اب زمانہ جدید میں فصل کو کاٹنے اورکاشت کرنے کے لیے مشینیں ایجاد ہوگئی ہیں جانوروں کی گوبر کی بجائے مہنگی کھادیں مارکیٹ میں پائی جاتی ہیں جس کے ساتھ ساتھ فصلوں میں انتہائی خطرناک بیماریاں پائی جاتی ہیں ان بیماریوں سے بچاؤ کے لیے مہنگی سپرے بھی مارکیٹ میں فروخت ہوتی ہیں،کھاد،بیج اور سپرے بھی اکثر واوقات کسانوں کو دو نمبر مہیا کی جاتی ہیں اور پھر سب سے بڑا ظلم ان کی فصلوں کا ریٹ بھی مارکیٹ میں کم ہوتا ہے کسان موجودہ دور میں بیچارہ لٹ کے رہ گیا ہے۔زمانہ قدیم میں گھرکچے ہوتے تھے،گھروں میں برتن مٹی کے اور انتہائی سادہ ماحول ہوتا تھا گھر کے سب لوگ ہنسی خوشی زندگی گزارتے تھے دیہات کی زندگی زمانہ جدید میں بھی بہت اچھی ہے،پہلے گھروں میں بجلی نہیں ہوتی تھی لالٹین کی مدد سے رات گزارتے تھے یا موم بتی ہی پورے گھر کو روشن کرتی تھی،کچی مساجد ہوتی تھیں لوگ بڑے شوق سے نماز پڑتے تھے اور لوگ ایمانی طور پر بھی بہت مضبوط تھے،ڈیزل انجن کی مدد سے ٹیوب ویل چلتے یا آٹا چکی چلتی تو پورے علاقے میں شور ہوتا،بیل کی مدد سے بھی دیہاتی لوگ کنویں سے پانی نکالتے اور اپنے جانوروں کے لیے چارہ کاٹتے تھے،جانور کے گوبر،،تھاپی،،سے کھانا پکاتے تھے،ریڈیو کی مدد سے خبریں سنتے اور گانے وغیرہ سن کر لطف اندوز ہوتے،تنور کی روٹی کا مزہ بھی الگ ہوتا،دودھ لسی ہر گھر میں ہوتا تھا،اگر ایک گھر میں سرسوں کا ساگ پکتا تو سارے محلے کی عورتیں اس گھر سے ساگ لے جاتیں تھیں،رات کے وقت انٹینے کی مدد سے سارے گھر والے ایک جگہ پر بیٹھ کر ٹی وی پر ڈرامے دیکھتے تھے،کبیروالا کا نواحی علاقہ جمالکے ترگڑاس جدید دور میں بھی بیلوں کی مدد سے زیر زمین پانی نکالا جاتا ہے جوکہ،،لوٹوں،،کی مدد سے اوپر آتا ہے اور ان کی زمین کو سیراب کرتا ہے،لیکن جوں جوں جدید دور آتا گیا یہ سب چیزیں ماند پڑتی گئیں اور ان کی جگہ جدید ٹیکنالوجی کی اشیاء مارکیٹ میں پہنچ گئیں،مہنگائی بڑھنے کے ساتھ ساتھ انسان افراتفری کا شکار ہوکر رہ گیا،زمانہ قدیم میں اگر کہیں ناحق قتل ہوتا تھا تو آسمان کا رنگ سرخ ہوجاتا اور پتہ چل جاتا کہ اس طرف کوئی ناحق قتل ہوا ہے،اب جدید دور آیا ہے اس نے انسان کو بالکل محدود کرکے رکھ دیا ہے اپنے گھر کو ٹائم…

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں